کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6836
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْهُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِي أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ [المائدة: 87]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیں یہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کے لیے خصی ہونا حرام ہے، کیونکہ اس میں ضرر بھی ہے اور نسل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے۔
اس حدیث میں نکاحِ متعہ کی اجازت دی گئی ہے، یہ اجازت عارضی تھی، بعد میں اس نکاح کو مستقل طور پر حرام قرار دیا گیا، تفصیل آگے آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6836
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5057، ومسلم: 1404 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3986»
حدیث نمبر: 6837
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَخْتَصِيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خِصَاءُ أُمَّتِي الصِّيَامُ وَالْقِيَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے خصی ہونے کی صورت روزے رکھنا اور رات کا قیام کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6837
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون ذكر القيام، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة وحُيَيّ بن عبد الله المعافري، أخرجه الطبراني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6612»
حدیث نمبر: 6838
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَقَالَ صُمْ وَسَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کر۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بہت خوبصورت جواب ہے، فی الوقت کسی چیز کے اسباب نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آدمی اپنے آپ کو مستقل طور پر اس چیز سے محروم کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود کو کنٹرول کرنے کے لیے عارضی بندوبست کرے اور اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرے، روزہ اپنی جگہ پر مستقل عبادت ہے، لیکن غیر شادی شدہ آدمی کے لیے شہوت کو کنٹرول کرنے کا عارضی بندو بست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6838
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15102»
حدیث نمبر: 6839
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَجَازَ ذَلِكَ لَاخْتَصَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے تبتّل کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’تبتّل‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف ہونے کی وجہ سے عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کی جائے اور نکاح کو چھوڑ دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6839
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5074، ومسلم: 1402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1514»
حدیث نمبر: 6840
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبتّل سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایت کے مطابق یہ حدیث بیان کرنے کے بعد امام قتادہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ و َجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَ ذُرِّیَّۃً } … ’’اور ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیویاں اور اولاد عطا کی۔‘‘ (سورۂ رعد: ۳۸)
امام قتادہ کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ انبیاء کی اقتدار کرنے کا حکم دیا گیا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {فَبُہُدٰھُمُ اقْتَدِہْ} … ’’ان کی ہدایت کی پیروی کر۔‘‘ اور سابقہ انبیاء کی بیویاں اور اولادیں تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادیاں کیں اور اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اولاد بھی عطا کی۔
گویا نکاح سنت ِ انبیاءhہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6840
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1849، والترمذي: 1082، والنسائي: 6/ 59، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20455»
حدیث نمبر: 6841
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ قَالَتْ فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} [الرعد 38] فَلَا تَبَتَّلْ قَالَ فَخَرَجَ وَقَدْ فَقِهَ وَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مَكْرَانَ فَقُتِلَ هُنَاكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعد بن ہشام سے مروی ہے کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ سے تبتّل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا:ایسا نہ کرو، کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیویاں اور اولاد بنائی۔ اس لئے تبتّل سے بچ، پھر وہ باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ فہم و فقہ حاصل کر چکے تھے، پھر وہ بصرہ چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ ہی رہے تھے کہ مکران کی سرزمین کی طرف چلے گئے، پھر وہاں افضل ترین عمل سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6841
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه مختصرا النسائي: 3/ 242 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25165»
حدیث نمبر: 6842
وَعَنْهَا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَتْ لَا تَفْعَلْ أَمَا تَقْرَأُ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب 21] فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وُلِدَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تبتّل سے بچ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی، اللہ تعالی نے فرمایا: البتہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادیاں بھی کی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد بھی ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6842
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25108»
حدیث نمبر: 6843
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں صرورت نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صرورت کے دو معانی ہیں: (۱) تبتّل، جس کی تفصیل حدیث نمبر ۶۸۳۹ میں گزر چکی ہے اور (۲) حج نہ کرنا، یعنی اسلام میں حج کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بشرطیکہ استطاعت ہو۔
یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اسلام میں دونوں چیزوں کی گنجائش نہیں ہے، نہ تبتّل کی اور نہ حج کو ترک کرنے کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6843
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ، عمر بن عطائ، وھو ابن وراز، ليس ھو بشيئ، وھم يضعفونه، أخرجه ابوداود: 1729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2844»