کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 6828
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ: ((مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، نوجوان مہاجروں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کرلے، کیونکہ یہ نگاہ کو سب سے زیادہ پست کرنے والی اور شرمگاہ کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور جس میں اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … طاقت رکھنے سے مراد مہر اور بیوی کے نان ونفقہ کی قدرت ہے۔
’’وِجَائ‘‘ کا معنی خصی کرنا ہے، چونکہ روزہ شہوت کو کمزور کرتا ہے، اس لیے اس کو خصی کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے، کیونکہ خصی ہونے سے بھی نکاح کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔
’’وِجَائ‘‘ کا معنی خصی کرنا ہے، چونکہ روزہ شہوت کو کمزور کرتا ہے، اس لیے اس کو خصی کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے، کیونکہ خصی ہونے سے بھی نکاح کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6829
عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَلَّا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علقمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، ان کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کر دیں، ممکن ہے کہ وہ تمہارا بیتا ہوا زمانہ تازہ کر دے؟ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ شادی کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں، تو یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ اے نوجوانو ں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کر لے، بیشک یہ نگاہ کو پست کرنے والی اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے والی ہے اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلْبَائَ ۃ‘‘ سے مراد حق زوجیت اور شادی کے اخراجات کی قدرت ہے۔
حدیث نمبر: 6830
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعِنْدَهُ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ حَدِيثًا لَا أَرَاهُ حَدَّثَهُ إِلَّا مِنْ أَجْلِي كُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَبَابٌ لَا نَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ: ((يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! … )). فَذَكَرَهُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، جبکہ علقمہ اور اسود ان کے پاس پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ایک حدیث سنائی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں ہی ان میں زیادہ نو عمر تھا، انھوں نے کہا کہ ہم نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! … ۔ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔
وضاحت:
فوائد: … ہم ایسے نوجوان تھے جن کے پاس نکاح کے اخراجات نہ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’، اے نوجوانو کے گروہ! شادی کرو۔ اگر شادی کی طاقت نہیں تو پھر روزہ رکھُوَ اس سے شہوت اعتدال پر رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 6831
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ لَقِيَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَانَ أَكْثَرَهَا نِسَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا:شادی کرو، پھر بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: شادی کر لو، کیونکہ اس امت کی بہترین ہستی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں۔
حدیث نمبر: 6832
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَنَا كَانَ أَكْثَرَنَا نِسَاءً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا : شادی کرو کیونکہ جو ہستی ہم میں بہتر تھی، اس کی بیویاں سب سے زیادہ تھیں۔
حدیث نمبر: 6833
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں سے محبت ہونے کی وجوہات یہ ہیں کہ وہ خواتین آپ کی بیویاں ہی تھیں، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخفی امور کو امت تک پہنچایا اور بروز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس کثرت پر فخر کریں گے، اس کو خواتین نے ہی جنم دیا ہو گا۔
حدیث نمبر: 6834
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ قَالَ لَا قَالَ وَلَا جَارِيَةٍ قَالَ وَلَا جَارِيَةٍ قَالَ وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ قَالَ وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ قَالَ أَنْتَ إِذًا مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ لَوْ كُنْتَ فِي النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ أَبِالشَّيْطَانِ تَمَرَّسُونَ مَا لِلشَّيْطَانِ مِنْ سَلَاحٍ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ مِنَ الْخَنَا وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ فَقَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ وَمَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِائَةِ عَامٍ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ثُمَّ إِنَّهُ كَفَّرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا وَتَرَكَ مَا كَانَ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ اسْتَدْرَكَ اللَّهُ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ قَالَ زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکاف بن بشیر تمیمی نامی ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے عکاف! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لونڈی بھی نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مالدار نہیں ہو؟ اس نے کہا : جی میں مالدار ہوں۔ پھر تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے تم راہب ہوتے، ہماری سنت تو نکاح ہے، تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں اور تمہارے مُردوں میں سے سب سے زیادہ رذیل وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں، کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو، نیک لوگوں کو جال میں پھنسانے کے لئے شیطان کے پاس سب سے زیادہ موثر ہتھیار عورت ہے،ما سوائے شادی شدہ افراد کے، کہ وہ اس ہتھیار سے محفوظ رہتے ہیں،وہ لوگ فحش باتوں سے پاکیزہ ہیں، اے عکاف! یہ عورتیں ایوب، داؤد، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔ بشر بن عطیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کرسف کون تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک آدمی تھے، اس نے سمندر کے ساحل پر تین سو سال عبادت کی،دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا، پھر اس نے ایک عورت کے عشق میں پڑ کر اللہ تعالی کے ساتھ کفر کر دیا اور عبادت کو ترک کر دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض اعمال کی وجہ سے کمی پوری کر دی اور اس پر رجوع کیا، اے عکاف! افسوس ہے تجھ پر، شادی کر، وگرنہ متردد اور مذبذب رہے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ میری شادی کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تیری شادی کر دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو؟‘‘ یعنی شہوت پورا کرنے کے لیے شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہو۔
’’یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔‘‘ اس سے عورتوں کے مکر و فریب کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ یہ انبیاء و رسل کو پھسلانے کے لیے کوشش کرنے سے بھی باز نہ رہ سکیں۔
’’یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔‘‘ اس سے عورتوں کے مکر و فریب کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ یہ انبیاء و رسل کو پھسلانے کے لیے کوشش کرنے سے بھی باز نہ رہ سکیں۔
حدیث نمبر: 6835
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ التَّعَطُّرُ وَالنِّكَاحُ وَالسِّوَاكُ وَالْحَيَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں انبیائے کرام کی سنت ہیں، عطر لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیاء سے زندگی گزارنا۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں ’’الْحَیَائ‘‘ کے بجائے ’’الحِنائ‘‘ کے اور ایک میں ’’اَلْخِتَان‘‘ کے الفاظ ہیں، مؤخر الذکر الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں،یعنی ختنہ کروانا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صاحب ِ استطاعت کو نکاح کرنے کی ترغیب دلائی ہے، امام احمد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی روشنی میںنکاح کو واجب سمجھا ہے، جبکہ جمہور اہل علم اس کے استحباب کے قائل ہیں، اصل بات یہ ہے کہ نکاح کا وجوب و استحباب مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے، مثلا جو شخص نکاح کی طاقت بھی رکھتا ہو اور اسے گناہ میں پڑنے کا خدشہ بھی ہو تو اس کے لیے نکاح واجب اور فرض ہے۔
وافر اور اچھا کھانا پینا شہوت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ روزہ بھوک اور پیاس کا نام ہے اور خوراک کی کمی شہوت کو توڑتی ہے، اس لیے غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لیے روزہ مفید ہے، ویسے بھی روزہ گناہ سے بچاتا ہے۔ گویا روزے دار آدمی خصی انسان کی طرح پرسکون رہتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صاحب ِ استطاعت کو نکاح کرنے کی ترغیب دلائی ہے، امام احمد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی روشنی میںنکاح کو واجب سمجھا ہے، جبکہ جمہور اہل علم اس کے استحباب کے قائل ہیں، اصل بات یہ ہے کہ نکاح کا وجوب و استحباب مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے، مثلا جو شخص نکاح کی طاقت بھی رکھتا ہو اور اسے گناہ میں پڑنے کا خدشہ بھی ہو تو اس کے لیے نکاح واجب اور فرض ہے۔
وافر اور اچھا کھانا پینا شہوت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ روزہ بھوک اور پیاس کا نام ہے اور خوراک کی کمی شہوت کو توڑتی ہے، اس لیے غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لیے روزہ مفید ہے، ویسے بھی روزہ گناہ سے بچاتا ہے۔ گویا روزے دار آدمی خصی انسان کی طرح پرسکون رہتا ہے۔