حدیث نمبر: 6740
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَمَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ زَنَتْ لِأَجْلِدَهَا قَالَ فَوَجَدْتُهَا فِي دِمَائِهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ إِذَا تَعَالَتْ مِنْ نِفَاسِهَا فَاجْلِدْهَا خَمْسِينَ وَفِي لَفْظٍ فَحُدَّهَا ثُمَّ قَالَ أَقِيمُوا الْحُدُودَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی ایک سیاہ فام لونڈی کی طرف بھیجا، اس نے زنا کیا تھا، جب میں نے اسے نفاس کے خون میں پایا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹ آیا اور آپ پر حقیقت ِ حال واضح کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ نفاس کے خون سے پاک صاف ہو جائے تو اس کو پچاس کوڑے لگانے ہیں، ایک روایت میں ہے: اس کو یہ حد لگانی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حدیں قائم کیا کرو۔
حدیث نمبر: 6741
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ يُحَنَّسَ وَصَفِيَّةَ كَانَا مِنْ سَبْيِ الْخُمُسِ فَزَنَتْ صَفِيَّةُ بِرَجُلٍ مِنَ الْخُمُسِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَادَّعَاهُ الزَّانِي وَيُحَنَّسُ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَفَعَهُمَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَقْضِي فِيهِمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَجَلَدَهُمَا خَمْسِينَ خَمْسِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یحنس اور صفیہ مال غنیمت کے خُمُس کے قیدیوں میں سے تھے، صفیہ نے خُمُس کے آدمی سے زنا کیا اور بچہ بھی جنم دیا، زانی اور یحنس دونوں نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا اور اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے، انہوں نے ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ بچہ اسے ملے گا جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے اورزانی کے لیے پتھر ہوں گے، پھر انھوں نے ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: { فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ } … ’’پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آ جائیں، پھر اگر وہ بے حیائی کا کام کریں تو انہیں آدھی سزا ہے، اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۵)
یعنی لونڈیوں کو سو (۱۰۰) کے بجائے نصف یعنی پچاس کوڑوں کی سزادی جائے گی، گویا ان کے لیے سزائے رجم نہیں ہے، کیونکہ وہ نصف نہیں ہو سکتی، اگلے باب کی احادیث سے مزید وضاحت ہو گی۔
یعنی لونڈیوں کو سو (۱۰۰) کے بجائے نصف یعنی پچاس کوڑوں کی سزادی جائے گی، گویا ان کے لیے سزائے رجم نہیں ہے، کیونکہ وہ نصف نہیں ہو سکتی، اگلے باب کی احادیث سے مزید وضاحت ہو گی۔