کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6735
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَدْ زَنَيَا فَقَالَ مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ فَقَالُوا نُسَخِّمُ وُجُوهَهُمَا وَيُخْزَيَانِ قَالَ كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ فَجَاءُوا بِالتَّوْرَاةِ وَجَاءُوا بِقَارِئٍ لَهُمْ أَعْوَرَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ صُورِيَا فَقَرَأَ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى مَوْضِعٍ مِنْهَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ تَلُوحُ فَقَالَ أَوْ قَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ وَلَكِنَّا كُنَّا نَتَكَاتَمُهُ بَيْنَنَا فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَجَانِئُ عَلَيْهَا يَقِيهَا الْحِجَارَةَ بِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی لوگ ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے زنا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی کتاب میں اس کے متعلق کیا حکم پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم ان کا منہ کالا کرتے ہیں اور انہیں رسوا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ بول رہے ہو، اس میں رجم کرنے کی بات ہے، لاؤ تورات اور اس کو پڑھو، اگر تم سچے ہو تو۔ پس وہ تورات اور ایک پڑھنے والے کو لے آئے،پڑھنے والا کانا تھا اور اس کو ابن صوریا کہتے تھے، اس نے تورات پڑھی اوررجم کے ذکر تک پڑھتا گیا، جب وہ اس مقام تک پہنچا تو اس آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، اس سے کہا گیااپنا ہاتھ اٹھا، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو رجم سے متعلقہ آیت چمک رہی تھی، پھر انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا : اے محمد ! اس میں رجم کی سزا موجود ہے، لیکن ہم اس کو آپس میں چھپائے ہوئے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کر نے کا حکم دیا،پس ان دونوں کو رجم کر دیا گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ وہ اس عورت پرجھک رہا تھا اور اپنے وجود کے ذریعے اس عورت کو پتھروں سے بچارہا تھا۔
حدیث نمبر: 6736
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ عِنْدَ بَابِ مَسْجِدٍ فَلَمَّا وَجَدَ الْيَهُودِيُّ مَسَّ الْحِجَارَةِ قَامَ عَلَى صَاحِبَتِهِ فَحَنَا عَلَيْهَا يَقِيهَا مَسَّ الْحِجَارَةِ حَتَّى قُتِلَا جَمِيعًا فَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ فِي تَحْقِيقِ الزِّنَا مِنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو اپنی مسجد کے دروازے کے نزدیک رجم کرنے کا حکم دیا، جب یہودی کو پتھر لگنے کی تکلیف ہوئی تو وہ کھڑا ہو کر اپنی سہیلی پر جھک گیا، تاکہ اس کو پتھروں کی تکلیف سے بچائے،یہاں تک کہ ان دونوں کوقتل کر دیا گیا، اللہ تعالی نے اپنے رسول کے لیے جو کچھ کیا، وہ ان دونوں سے زنا کو ثابت کرنے کے لیے تھا۔
حدیث نمبر: 6737
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أَمَاتُوهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی کو رجم کیا اور پھر فرمایا: اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں، جس نے اس سنت کو زندہ کیا، جسے ان لوگوں نے مٹا دیا تھا۔
حدیث نمبر: 6738
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا۔
حدیث نمبر: 6739
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ أَخْبَرَنِي قَالَ قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً قَالَ قُلْتُ بَعْدَ نُزُولِ النُّورِ أَوْ قَبْلَهَا قَالَ لَا أَدْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شیبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا تھا۔ میں نے کہا: سورۂ نور کے نزول سے پہلے کیا تھا یا بعد میں، انھوں نے کہا: اس کا تو مجھے علم نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ نور کے نزول کے بارے میں سوال سے مراد یہ آیت تھی: { اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ} … ’’زانی مرد اور زانی عورت، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔‘‘ (سورۂ نور: ۲) سنن ابی داود میں بھی اس موضوع سے متعلقہ تفصیلی روایات موجود ہیں، ان تمام روایات کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تورات کی روشنی میں ان یہودیوں کے درمیان فیصلہ کیا تھا، نہ کہ اسلام کا حکم ہونے کی وجہ سے۔