کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط¤والا عمل کر بیٹھے
حدیث نمبر: 6731
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ فِي عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ وَالْبَهِيمَةَ وَالْوَاقِعَ عَلَى الْبَهِيمَةِ وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قوم لوط کے عمل میں ملوث فاعل اور مفعول دونوں کوقتل کر دو اور جانور کو بھی قتل کر دو اور جو جانور پر واقع ہو ا ہے، اس کو بھی قتل کر دو اور جو ذی محرم سے زنا کرے، اسے بھی قتل کر دو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس d سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ وَجَدْتُّمُوْہٗیَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلَ بِہٖ۔)) … ’’جسشخصکوتماسحالمیں پاؤ کہ وہ قوم لوط والی بد فعلی کر رہا ہو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔‘‘ (ابو داود: ۴۴۶۲، ابن ماجہ: ۲۵۶۱، ترمذی: ۱۴۵۶، قال الالبانی: صحیح)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6731
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن ابي حبيبة۔ أخرجه دون ذكر حد اللواط ابن ماجه: 4564، وأخرجه الترمذي بحكم من وقع علي ذات محرم فقط: 1462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2727»
حدیث نمبر: 6732
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث بیان کرنے کے بعد عکرمہ نے کہا: قُلْتُ لَہُ: مَا شَأْنُ الْبَہِیمَۃِ؟ قَالَ: مَا أُرَاہُ قَالَ ذَلِکَ إِلَّا أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُؤْکَلَ لَحْمُہَا وَقَدْ عُمِلَ بِہَا ذَلِکَ الْعَمَلُ۔ … ’’میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟انھوں نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اس کا گوشت کھایا جائے، جبکہ اس کے ساتھ یہ گندا کام کیا گیا ہے۔ (ابوداود: ۴۴۶۴، ترمذی: ۱۴۵۵)
اس حدیث کے برعکس سیدنا عبد اللہ بن عباسdکا اپنا قول یہ ہے: لیس علی الذییأتی البھیمۃ حدّ۔ … جو آدمی جانورسے یہ برا کام کرتا ہے، اس پر کوئی حد نہیں ہے۔ (ابو داود: ۴۴۶۵، ترمذی: ۱۴۵۵)
عمرو بن ابی عمرو راوی اس حدیث کو مرفوعا بیان کرتا ہے اور عاصم بن بہدلہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر موقوفاً بیان کرتاہے، امام ترمذی نے موقوف روایت کے حق میں کہا: وہذا أصح من الحدیث الأول والعمل علی ہذا عند أہل العلم وہو قول أحمد وإسحق۔ … یہ حدیث پہلییعنی مرفوع حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے اور امام احمد اور امام اسحاق کا بھییہی قول ہے۔
اما م ابو داود نے کہا: حدیثُ عاصم یضعِّف حدیثَ عمرو بن ابی عمرو۔ … عاصم کی موقوف حدیث، عمرو بن ابو عمرو کی حدیث کو ضعیف کر رہی ہے۔
شیخ البانی کہتے ہیں: لیکن امام بیہقی نے موقوف کو ترجیح دینے والی اس رائے کا بہت عمدہ تعاقب کیا، انھوں نے کہا: کئی سندوں سے عکرمہ سے یہ حدیث ہمیں بیان کی گئی ہے، میرا خیال ہے کہ عمرو بن ابی عمرو حفظ و ضبط میں عاصم بن بہدلہ سے کم تو نہیں ہے، جبکہ ایک جماعت نے عمرو بن ابی عمرو کی متابعت بھی کر رکھی ہے اور اکثر ائمہ کے نزدیک عکرمہ ثقات و اثبات راویوں میں سے ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: تحقیقیہی ہے کہ عمرو بن ابو عمرو، عاصم بن بھدلہ سے کم مرتبہ نہیں ہے، بلکہ ممکن ہے کہ وہ حدیث کے معاملے میں اس سے اچھا روای ہو، ان دونوں راویوں کے ترجمہ سے اس حقیقت کااندازہ ہو گا۔
حافظ ابن حجر نے ’’تقریب‘‘ میں عمرو کے بارے میں ’’ثقۃ ربما وھم‘‘ کہا اور عاصم کے بارے میں ’’صدوق لہ اوھام‘‘ کہا۔
امام ذہبی نے عاصم کے بارے میں کہا: صدوق یھم، امام بخاری اور امام مسلم نے اس سے مقروناً روایت لی ہے۔ اور عمرو کے بارے میں کہا: یہ ’’صدوق‘‘ ہے، اس کی روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے اصول میں موجود ہے۔ پس واضح ہوا کہ عمرو راوی، عاصم سے قوی ہے اور تعارض کے وقت اسی عمرو کی حدیث راجح ہو گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمرو کی حدیث مرفوع ہے اور عاصم کی موقوف اور روایت کو رائے پر ترجیح دیتے وقت اہل الحدیث کے قواعدکے مطابق یہ بات درست نہیںہے کہ موقوف روایت کی وجہ سے مرفوع کو ضعیف قرار دیا جائے، احناف کے بر خلاف۔ پھر امام بیہقی نے جن متابعات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان سے عمرو کی حدیث کو قوت ملتی ہے، مجھے ان میں سے دو متابعات ملی ہیں: (اول) … داود بن حصین عن عکرمۃ بہ، امام ابن ماجہ، امام دارقطنی، امام بیہقی اور امام احمد نے اس سند کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے، اس سند میں ابراہیم اشہلی بھی ضعیف ہے اور ابن حصین، عکرمہ سے روایت لینے میں ضعیف ہے۔
(دوم) … عباد بن منصور عن عکرمۃ بہ، امام حاکم، امام بیہقی اور امام ابن عساکر نے اس کو روایت کیا ہے۔اس میں عباد بن منصور صدوق ہے، وہ تدلیس بھی کرتا تھا اور اس کو آخر میں اختلاط بھی ہو گیا تھا۔
پھر عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کا ایک مرفوع شاہد بھی ہے، جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اس کو بیان کیا، اس کے راوی ثقہ اور معروف ہیں، ما سوائے عبد الغفار بن عبد اللہ کے، جبکہ ابن ابی حاتم نے اس کا ذکر کر کے اس پر کوئی جرح اور تعدیل نقل نہیں، ظن غالب یہی ہے کہ امام ابن حبان نے اس کو ’’الثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے۔حافظ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں اس حدیث کو ابو یعلی کی طرف منسوب کرنے کے بعد کہا: اس میںمحمد بن عمرو ہے، اس کی حدیث حسن ہے اور باقی راوی ثقہ ہیں، البتہ حافظ ابن حجر نے ’’تلخیص الحبیر‘‘ میں کہا: ابو یعلی نے کہا: ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ عبد الغفار نے اس سے رجوع کر لیا تھا، اور ابن عدی نے کہا کہ لوگوں نے اس کو تلقین کی تھی۔ (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: ۸/ ۱۷)
اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ اس باب کی حدیث نمبر (۶۷۳۲) صحیح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6732
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد۔ أخرجه ابوداود: 4464، والترمذي: 1455 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2420»
حدیث نمبر: 6733
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي عَمِّي الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ لِوَاءٌ قَدْ عَقَدَهُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا عَمِّ أَيْنَ بَعَثَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں باندھ کر دیا تھا، میں نے ان سے کہا: اے چچا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو کہاں بھیجا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا کہ جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کرلیا ہے، آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَنْکِحُوْا مَانَکَحَ آٰبَائُکُمْ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} … ’’اور اس خاتون سے نکاح نہ کرو، جس سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔‘‘ (سورۂ نسائ:۲۲) سوتیلی ماں سے صرف نکاح کرنے کییہ سزا ہے، خواہ اس نے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6733
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابن ماجه: 2607، والترمذي: 1362، والنسائي: 6/ 109 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18557، 18579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18780»
حدیث نمبر: 6734
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے، وہ قوم لوط کا فعل ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں قوم لوط والی بد فعلی کرنے والے، جانور سے برائی کرنے والے اور محرم خواتین سے نکاح کرنے والے کی سزاؤںکا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6734
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، القاسم بن عبد الواحد و عبد الله بن محمد بن عقيليقبل حديثھما عند المتابعة، وقد تفردا بھذا الحديث۔ أخرجه الترمذي: 1457، وابن ماجه: 2563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15159»