حدیث نمبر: 6723
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ خَرَجْنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَوَاللَّهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَكَى فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ماعز بن مالک کو رجم کریں، پس ہم بقیع کی طرف نکلے، اللہ کی قسم! نہ ہم نے اس کے لئے گڑھا کھودا اور نہ اس کو باندھا، وہ خود کھڑا ہو گیا، ہم نے اس پر ہڈیاں اور سنگریزے پھینکنے شروع کر دئیے، جب اس کو تکلیف پہنچی تو وہ تیزی سے بھاگ نکلا، یہاں تک حرہ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، پھر ہم نے اس کو بڑے بڑے پتھر مارے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۶۷۰۲) میںیہ بات گزری ہے کہ ماعز بن مالک کے لیے گڑھا کھودا گیا تھا، جبکہ اس حدیث میں نفی کی گئی ہے، جمع تطبیق کی درج ذیل چار صورتیں ہیں: (۱)۔ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے گا۔
(۲)۔ اس گڑھے کی نفی کی گئی ہے، جس سے نکل کر بھاگ جانا ممکن نہ تھا اور اس گڑھے کو ثابت کیا گیا ہے، جس سے فرار اختیار کر جانا ممکن تھا۔
(۳)۔ شروع میں گڑھا نہیں کھودا تھا، لیکن جب وہ بھاگا تو انھوں نے اس کو پکڑا اور اس کے لیے گڑھا کھودا۔
(۴)۔ شروع میں ہی گڑھا کھودا گیا تھا، لیکن جب اس کو پتھر لگا تو وہ نکل کر بھاگ گیا، پھر صحابہ نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو مار دیا۔
امام نووی نے کہا: یہ حدیث علمائے کرام کے ایک اتفاقی مسئلہ کی دلیل ہے کہ رجم کے لیے پتھر، ڈھیلے، ہڈیاں، سنگریزے اور لکڑی وغیرہ استعمال کیے جائیں گے، یعنی جس سے بھی بندے کو قتل کیا جا سکتے، صرف پتھر شرط نہیں ہیں۔
(۲)۔ اس گڑھے کی نفی کی گئی ہے، جس سے نکل کر بھاگ جانا ممکن نہ تھا اور اس گڑھے کو ثابت کیا گیا ہے، جس سے فرار اختیار کر جانا ممکن تھا۔
(۳)۔ شروع میں گڑھا نہیں کھودا تھا، لیکن جب وہ بھاگا تو انھوں نے اس کو پکڑا اور اس کے لیے گڑھا کھودا۔
(۴)۔ شروع میں ہی گڑھا کھودا گیا تھا، لیکن جب اس کو پتھر لگا تو وہ نکل کر بھاگ گیا، پھر صحابہ نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو مار دیا۔
امام نووی نے کہا: یہ حدیث علمائے کرام کے ایک اتفاقی مسئلہ کی دلیل ہے کہ رجم کے لیے پتھر، ڈھیلے، ہڈیاں، سنگریزے اور لکڑی وغیرہ استعمال کیے جائیں گے، یعنی جس سے بھی بندے کو قتل کیا جا سکتے، صرف پتھر شرط نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 6724
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَحُفِرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا اور سینہ تک اس کے لئے گڑھا کھودا۔
حدیث نمبر: 6725
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفِرَ لَهَا فَحَفَرْتُ لَهَا إِلَى سُرَّتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لئے گڑھا کھودوں، پس میں نے اپنی ناف تک گہرا گڑھا کھودا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم (۱۶۹۵) کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتون کے لیے اس کے سینے تک گڑھا کھدوایا تھا۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رجم کرنے کے لیے گڑھا کھودا جائے گا۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رجم کرنے کے لیے گڑھا کھودا جائے گا۔