حدیث نمبر: 6722
عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا إِنْسَانٌ مُخْدَجٌ ضَعِيفٌ لَمْ يُرْعَ أَهْلُ الدَّارِ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا وَكَانَ مُسْلِمًا فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اضْرِبُوهُ حَدَّهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ إِنْ ضَرَبْنَاهُ مِائَةً قَتَلْنَاهُ قَالَ فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَخَلُّوا سَبِيلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے محلے میں ایک ناقص الخلقت انسان رہتا تھا، گھر والوں کو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ وہ محلہ کی ایک لونڈی کے ساتھ زنا کررہا ہے، جبکہ وہ مسلمان تھا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حد لگاؤ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس قابل نہیں کہ حد برداشت کر سکے، اگر ہم نے اسے سو کوڑے لگائے تو وہ مر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ایک ٹہنی لے لو، جس میں سو شاخیں ہوں اور اسے ایک دفعہ مار دو اور پھر اس کو چھوڑ دو۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے ثابت ہوا کہ اگر مریض اصل حد برداشت نہ کر سکے تو اسے اس طرح سزا دے کر فارغ کیا جاسکتا ہے۔ لیکنیہ استثنائی صورت اس سزا کے بارے میں ہے، جو موت سے کم ہو، جیسا کہ کنوارے زانی کو کوڑے مارنا ہے، اگر سزا ہی موت ہو تو پھر مکمل طور پر حدّ لگائی جائے گی۔