کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ قَالَ فَاذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَدَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَنَضَحَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ مَهْلًا يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ لَا تَسُبَّهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا ،غامد قبیلہ کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس لوٹ جا۔ وہ اگلے دن پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا، کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا۔ اگلے دن وہ پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، شاید آپ مجھے واپس لوٹانا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹایا تھا، اللہ کی قسم! میں زنا کی وجہ سے حاملہ بھی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا، یہاں تک کہ بچے کو جنم دے۔ پس جب اس نے بچہ جنم دیا تو بچہ اٹھائے ہوئے آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی!میں نے بچہ جنم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا، اسے دودھ پلا، یہاں تک کہ تو اس کا دودھ چھڑا دے۔ جب اس نے دودھ چھڑالیا تو بچہ کو اٹھا کر لائی، جبکہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کے متعلق حکم دیا کہ اسے ایک مسلمان آدمی کے سپرد کیا گیا اور اس عورت کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لئے ایک گڑھا کھودا جائے اور سینے تک اس میں گاڑدی جائے، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اس کو سنگسار کر دو، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پرمارا، جب اس سے ان کے رخسار پر خون کے چھینٹے پڑے تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ برا بھلا کہہ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالد! باز آ جاؤ، اسے گالی نہ دو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اسے بھی بخش دیا جائے گا۔ پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا پھر ا س پر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے دفن کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6717
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1695، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23337»
حدیث نمبر: 6718
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزِنًا وَقَالَتْ أَنَا حُبْلَى فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي فَفَعَلَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا قَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور اس نے کہا: میں حاملہ ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اورفرمایا: اس سے حسن سلوک کرنا اور جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتانا۔ اس نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا، پس اس پر اس کے کپڑے کس دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!اسے آپ نے رجم کیا ہے اور پھر اب اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا جائے تو یہ ان کو بھی بخشوا دے گی، بھلا کیا تم نے اس سے بھی کوئی چیز افضل پائی ہے کہ اس عورت نے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کر دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر ان دو احادیث کو ایک عورت کے بارے میں سمجھا جائے تو پھر یہ مسئلہ سمجھنا آسان ہے کہ عورت کو بچے کو دودھ پلانے کا موقع دیا جائے گا اور اگر یہ دو الگ الگ واقعات ہیں تو پہلی حدیث کی روشنی میں دوسری حدیث کی تاویل کریں گے، یعنی اس میں دودھ پلانے کا ذکر نہیں ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بھییہ موقع دیا ہو گا، تاکہ کسی کے جرم کی وجہ سے بچے کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری حدیث کے مطابق خاتون کو بچے کی ولادت کے بعد اس لیے فوراً رجم کر دیا گیا ہو کہ اس کو دودھ پلانے والی کوئیاور خاتون موجود ہے۔
مؤخر الذکر تاویل کی دلیلیہ ہے کہ اس باب کی پہلی حدیث کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَنْ لَا نَرْجُمُھَا وَنَدَعُ وَلَدَھَا صَغِیْرَ السِّنِّ لَیْسَ لَہٗمَنْیُّرْضِعُہُ۔)) … ’’تو پھر ہم ابھی اس کو رجم نہیں کریں گے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم بچے کو کم عمری میں اس طرح چھوڑ دیں کہ اس کو دودھ پلانے والا ہی کوئی نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱۶۹۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6718
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20101»
حدیث نمبر: 6719
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ وَاقِفًا إِذْ جَاءُوا بِامْرَأَةٍ حُبْلَى فَقَالَتْ إِنَّهَا زَنَتْ أَوْ بَغَتْ فَارْجُمْهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَاءَتِ الثَّانِيَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ فَقَالَتْ ارْجُمْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَاءَتِ الثَّالِثَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ حَتَّى أَخَذَتْ بِلِجَامِ بَغْلَتِهِ فَقَالَتْ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا رَجَمْتَهَا فَقَالَ اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي فَانْطَلَقَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ثُمَّ جَاءَتْ فَكَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبِي فَتَطَهَّرِي مِنَ الدَّمِ فَانْطَلَقَتْ ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ تَطَهَّرَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسْوَةً فَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَسْتَبْرِئْنَ الْمَرْأَةَ فَجِئْنَ وَشَهِدْنَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطُهْرِهَا فَأَمَرَ لَهَا بِحُفَيْرَةٍ إِلَى ثَنْدُوَتِهَا ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً مِثْلَ الْحِمَّصَةِ فَرَمَاهَا ثُمَّ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلْمُسْلِمِينَ ارْمُوهَا وَإِيَّاكُمْ وَوَجْهَهَا فَلَمَّا طَفِئَتْ أَمَرَ بِإِخْرَاجِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ لَوْ قُسِمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَسِعَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، وہ خچر کھڑا تھا، لوگ ایک حاملہ عورت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آئے، اس عورت نے کہا: میں نے زنا کیا ہے، مجھے رجم کیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ واپس چلی گئی، لیکن پھر آ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر ہی سوار تھے،اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے رجم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ لوٹ گئی، لیکن پھر تیسری مرتبہ آ گئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے،اس بار اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خچر کی لگام تھام لی اور کہنے لگی: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے رجم کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور بچہ جنم دینے کے بعد آنا۔ پس وہ بچہ جنم دےکر دوبارہ آئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات چیت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلی جا اورخون سے پاک ہو کر آنا۔ پس وہ چلی گئی اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں پاک ہو چکی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو اس کی جانب بھیجا کہ وہ اس کے خون کے صاف ہونے کا جائزہ لیں۔ انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ وہ واقعی پاک ہو چکی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سینہ تک گڑھا کھودنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دوسرے مسلمان بھی آ گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چنا کے برابر کنکری لی اور اس عورت کو ماری، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مسلمانوں سے کہا: اس پر سنگباری کر دو اور اس کا چہرہ بچاؤ۔ پس جب وہ فوت ہوگئی تو آپ نے اسے گڑھے سے باہر نکالنے کا حکم دیا اور پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: اگر اس کے اجر کو اہل حجاز پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے بھی یہ کافی ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6719
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، لكن اصل القصة صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4444 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20708»
حدیث نمبر: 6720
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَمَةً لَهُمْ زَنَتْ فَحَمَلَتْ فَأَتَى عَلِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَ فَقَالَ لَهُ دَعْهَا حَتَّى تَلِدَ وَتَضَعَ ثُمَّ اجْلِدْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ان کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور اس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوگئی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے وضع حمل تک چھوڑ دو، پھر اسے حد لگانا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6720
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4473 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 679»
حدیث نمبر: 6721
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَتْ فَأَمَرَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آ گیااورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوڑے لگانے کی سزا ہو تو مریض کے صحت یاب ہونے کا انتظار کیا جائے، ’’البحر‘‘ میں اس بات پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ سخت گرمی، سخت سردی اور کسی متوقع بیماری کی وجہ سے کنوارے زانی مجرم کو مہلت دی جائے گی،یہاں تک کہ موسم کی شدت ختم ہو جائے اور بیماری کا خطرہ ٹل جائے۔
اگر حالات کے لحاظ سے کنوارے زانی کو مہلت دی جاسکتی ہے تو شادی شدہ کے لیے بھی اس مہلت کا جواز ہونا چاہیے۔ فرق کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6721
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 736»