کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
حدیث نمبر: 6711
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ يَعْنِي مَاعِزًا إِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاهُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ قَوْمِي قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي وَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِكَ قَالَ فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْهُ حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ قَوْلَهُ فَقَالَ أَلَا تَرَكْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُونِي بِهِ إِنَّمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَثَبَّتَ فِي أَمْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیں لے آئے تھے؟ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے ۔
حدیث نمبر: 6712
عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْدَى عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِ فَخَرَجْنَا إِلَى حَرَّةِ بَنِي نِيَارٍ فَرَجَمْنَاهُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْهُ وَرَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ جَزَعَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
حدیث نمبر: 6713
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ وَفِي لَفْظٍ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ خَرَجَ فَهَرَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ ایک آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کر نے کا حکم دیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، ایک روایت میں ہے: جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو نکل پڑا اور بھاگ گیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی از خود اعتراف کرے، اس کو انکار کرنے کا حق حاصل ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲، ۶۷۰۲) کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 6714
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَدَعَاهَا فَسَأَلَهَا عَمَّا قَالَ فَأَنْكَرَتْ فَحَدَّهُ وَتَرَكَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلہ کا ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس برائی کے بارے میں پوچھا، اس نے انکار کر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو حدّ لگائی اور اس خاتون کو چھوڑ دیا۔
وضاحت:
فوائد: … زنا کے معترف کو ہر صورت میں حد لگائی جائے گی،لیکن وہ جس پر الزام لگا رہا ہو گا،ا گر اس کی طرف سے نہ اعتراف ہو، نہ اس پر چار گواہ ہوں اور نہ حمل کی علامت ہو تو اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔