حدیث نمبر: 6699
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّةً فَرَدَّهُ ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ الثَّانِيَةَ فَرَدَّهُ ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ الثَّالِثَةَ فَرَدَّهُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ إِنِ اعْتَرَفْتَ الرَّابِعَةَ رَجَمَكَ قَالَ فَاعْتَرَفَ الرَّابِعَةَ فَجَسَّهُ ثُمَّ سَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا قَالَ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک آیا اور ایک دفعہ زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس لوٹا دیا، وہ پھر آیا اور دوسری مرتبہ زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس کو واپس لوٹا دیا، وہ پھر آ گیا اور تیسری بار اعترا ف کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار بھی اس کو واپس لوٹا دیا، میں نے ماعز سے کہا: اگر تو نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے رجم کر دیں گے، لیکن اس کے باوجود وہ آیا اور چوتھی دفعہ اعتراف کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے روک لیا اور پھر اس کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر و بھلائی کا علم رکھتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 6700
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ قَالَ فَانْطَلَقُوا بِهِ فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ وَاشْتَدَّ فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فِي يَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ قَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ بائیں جانب سے آ گیا او رکہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے،یہاں تک کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چار بار اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے جاؤ اور رجم کر دو۔ لوگ اس کو رجم کرنے کے لئے لے گئے۔ جب اس کو پتھر لگا تو وہ پیٹھ پھیر کر تیزی سے بھاگ گیا، اتنے میں سامنے سے ایک آدمی آیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے اس کو یہی مار دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بتلایا گیا کہ وہ پتھر لگنے سے اس طرح بھاگ گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم لوگوں نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا۔
حدیث نمبر: 6701
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ قَالَ أُتِيَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى ثَنَّى ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبِكَ جُنُونٌ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ فِي الْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) مسلمانوں میں سے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایاگیا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے آواز دی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعراض کرتے ہوئے اس کے سامنے سے اپنا رخ پھیر لیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے سامنے آیا اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اعراض کرتے ہوئے اپنا چہرہ اس کی جانب سے پھیر لیا،یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ تکرار کیا اور اپنے خلاف چار گواہیاں دے دیں، اب کی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے جاؤ اور رجم کر دو۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں بھی اسے رجم کرنے والوں میں شامل تھا، ہم نے اسے عید گاہ میں رجم کیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ نکلا، لیکن ہم نے اسے حرّہ میں پالیا اور رجم کر دیا۔
حدیث نمبر: 6702
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالَ لَهُمْ مَا تَعْلَمُونَ مِنْ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ هَلْ تَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا أَوْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا ثُمَّ عَادَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا أَيْضًا فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ أَيْضًا فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا لَهُ الْمَرَّةَ الْأُولَى مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّابِعَةَ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَفَرْنَا لَهُ حُفْرَةً فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ وَقَالَ بُرَيْدَةُ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ لَوْ جَلَسَ فِي رَحْلِهِ بَعْدَ اعْتِرَافِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ لَمْ يَطْلُبْهُ وَإِنَّمَا رَجَمَهُ عِنْدَ الرَّابِعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک نامی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ وہ دوسرے دن پھر آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا اور فرمایا: تم لوگ ماعز بن مالک اسلمی کے بارے میں کیا جانتے ہو، کیا وہ تمہارے خیال کے مطابق ایسا ویسا ہے، یا تمہیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اس میں کوئی ایسی ویسی چیز محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی ہمیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے، اُدھر وہ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ آیا اور زنا کرنے کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس کی قوم کو بلا بھیجا اور اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے وہی پہلے والا جواب دیا ،ہمارے خیال میں کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی عقل میں کوئی خرابی ہے، اُدھر ماعز چوتھی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ کر آیا اور زنا کا اعتراف کیا۔ اب کی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور ہم نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور اسے سینہ تک اس میں گاڑھ دیا، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اسے رجم کر دیں۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم لوگ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ماعز تین بار زنا کا اعتراف کرنے کے بعد اپنے گھر میں بیٹھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو طلب نہ کرتے، لیکن جب اس نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تھا تو آپ نے اسے رجم کر نے کا حکم دے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے قول کی سند ضعیف ہے، لیکن اگر یہ صحابی چلا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پیچھا کر کے اس سے مزید تحقیق نہیں کرنی تھی، بلکہ پچھلے باب میں ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اگر اعتراف کرنے والا شخص چار دفعہ اعتراف کرنے کے بعد یا سزا کے شروع ہو جانے کے بعد بھی اپنی برائی کا انکار کر دے، یا ایسے انداز میں حقیقت ِ حال بیان کرے کہ جس کے مطابق وہ رجم کی سزا سے بچتا ہو تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6703
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مَاعِزًا جَاءَ فَأَقَرَّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کر نے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 6704
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبِكَ جُنُونٌ قَالَ لَا قَالَ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اورزنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس سے اعراض کر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنا رخ پھیر لیا،یہاں تک کہ جب اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون کی بیماری تو نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو عید گاہ میں رجم کیا گیا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن پھر اس کو پا لیا گیا اور پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے خیر و بھلائی کی باتیں کیں، لیکن اس کی نمازِ جنازہ ادا نہ کی۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھنا درست ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی قسم کے بعض افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی تھی، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سرزنش کرنے کے لیے خود شرکت نہیں کی۔
حدیث نمبر: 6705
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ قَالَ وَمَا يَبْلُغُكَ عَنِّي قَالَ بَلَغَنِي أَنَّكَ فَجَرْتَ بِأَمَةِ آلِ فُلَانٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَدَّهُ حَتَّى شَهِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،ماعز بن مالک کو ملے اور اس سے پوچھا: اے ماعز! جو بات مجھ تک پہنچی ہے، کیا وہ سچ ہے؟ اس نے کہا: کون سی بات آپ کو میرے بارے میں معلوم ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے فلاں کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، ایسے ہوا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوٹا دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار گواہی دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا۔
حدیث نمبر: 6706
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ ثَلَّثَ ثُمَّ رَبَّعَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَرَدَّدَهُ أَرْبَعًا ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَرَنَا فَحَفَرْنَا لَهُ حَفِيرَةً لَيْسَتْ بِالطَّوِيلَةِ فَرُجِمَ فَارْتَحَلَ رَسُولُ الل ’َهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَئِيبًا حَزِينًا فَسِرْنَا حَتَّى نَزَلَ مَنْزِلًا فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَمْ تَرَ إِلَى صَاحِبِكُمْ غُفِرَ لَهُ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اس بد نصیب نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے رخ موڑ لیا، پھر اس نے دوسری، تیسری، حتیٰ کہ چوتھی مرتبہ اقرار کرلیا، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے نیچے اترے۔ ایک روایت میں ہے: اس آدمی نے ایک مرتبہ اقرار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ردّ کر دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار اقرار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترے اور ہمیں حکم دیا، پس ہم نے اس کے لئے ایک چھوٹا سا گڑھا کھودا، وہ کوئی زیادہ گہرا نہ تھا اور اسے سنگسار کر دیا گیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غم و حزن کے عالم میں سفر کو جاری کیا، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مقام پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ کیفیت چھٹ گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے اپنے ساتھی کی طرف نہیں دیکھا، اس کو بخش دیا گیا ہے اور جنت میں داخل کر دیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث میں چار بار زنا کا اعتراف کرنے کا ذکر ہے، لیکنیہ صرف تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، جرم کے ثبوت کے لیے شرط نہیں ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲) کی شرح دیکھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اعتراف کرنے والے کو بھی حدّ لگائی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد متعلقہ شخص کی کیفیت پر ہے۔