حدیث نمبر: 6690
عَنْ مُسَاوِرِ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا بَرْزَةَ فَقُلْتُ هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ رَجُلًا مِنَّا يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مساور بن عبیدکہتے ہیں: میں سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں،ہم میں سے ایک آدمی کو رجم کیا تھا، اس کا نام ماعز بن مالک تھا۔
حدیث نمبر: 6691
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ رَجَمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ وَامْرَأَةً وَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ نَحْكُمُ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو رجم کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اسلم قبیلہ کے ایک آدمی کو، ایک یہودی کو اور ایک عورت کو رجم کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی سے فرمایاتھا: ہم آج تمہارا فیصلہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 6692
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجٌ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِيمَنْ قَالَ بِفُلَانَةٍ قَالَ هَلْ ضَاجَعْتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ بَاشَرْتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ جَامَعْتَهَا قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ قَالَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزَعَ فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَهُ فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ هِشَامٌ فَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي حِينَ رَآهُ وَاللَّهِ يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا مِمَّا صَنَعْتَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نعیم بن ہزال کہتے ہیں: ماعز بن مالک میرے ابا جان کی زیر پرورش تھا، اس نے قبیلہ کی ایک لونڈی سے زنا کر لیا، میرے ابا جان نے اس سے کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چل اور آپ کو اپنے کیے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے لیے بخشش کی دعا کر دیں، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید بچاؤ کی کوئی صورت نکل آئے، چنانچہ ماعز آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کر لیا، وہ دوسری جانب آ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں زنا کر بیٹھا ہوں، آپ مجھ پراللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخ پھیر لیا)، وہ تیسری بار سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم نافذ کریں، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعراض کیا)، پھر چوتھی مرتبہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری کریں، اب کی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے چار مرتبہ اعتراف کر لیا ہے، اب مجھے بتا کہ تو نے کس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کے ساتھ لیٹا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو رجم کردیا جائے، پس اس کو حرّہ کی طرف لے جایا گیا، جب اسے پتھر زنی کی تکلیف ہوئی تو وہ بے سد ہو کر وہاں سے نکل کر بھاگا، آگے سے سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اس کو ملے، اُدھر اس کو رجم کرنے والے اب عاجز آ چکے تھے، چنانچہ سیدنا عبد اللہ نے اونٹ کی پنڈلی کی ایک ہڈی لی اور اس کو مار دی، پس وہ فوت ہو گیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بھاگ جانے کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا۔ نعیم بن ہزال نے اپنے ابا جان سے روایت کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: اے ہزال! اگر تم نے اس کی پردہ پوشی کی ہوتی تو بہتر ہوتا، بہ نسبت اس کے جو آپ نے اس کو مشورہ دے کر اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ماعز بن مالک شادی شدہ تھے، انھوں نے زنا کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا اور صحابۂ کرام نے رجم کر دیا۔ اس حدیث میں دو امور غور طلب ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ ’’تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا‘‘ اس جملے کی وضاحت درج ذیل روایت سے ہو گی: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: أَیْ قَوْمِ! رُدُّوْنِی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ V فَاِنَّ قَوْمِیْ قَتَلُوْنِیْ وَغَرُّوْنِی مِنْ نَفْسِی وَقَالُوْا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ V غَیْرُ قَاتِلِکَ، قَالَ: فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْہُ حَتّٰی فَرَغْنَا مِنْہُ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ V ذَکَرْنَا لَہُ قَوْلَہُ، فَقَالَ: ((اَلَا تَرَکْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُوْنِی بِہِ؟)) اِنَّمَا أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِV أَنْ یَتَثَبَّتَ فِیْ أَمْرِہِ۔ … لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیںلے آئے تھے؟‘‘ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے، ممکن تھا کہ وہ رجم کا حقدار نہ ہوتا۔ (ابوداود: ۴۴۲۰، مسند احمد: ۱۵۰۸۹، وسیاتی برقم۶۷۱۱)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنے اقرار سے انکار کرنا چاہتا ہو، یا اس کی کوئی ایسی تفصیل ہو، جس کی وجہ سے وہ حد سے بچ جاتا۔
چار دفعہ اقرار کرواناصرف تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اقرار کرنے پر بھی حد نافذ کی ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد d کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((عَلٰی اِبْنِکَ جَلْدُ مِائَۃٍ، وَتَغْرِیْبُ عَامٍ، وَاَمَّا اَنْتَیَا اُنَیْسٌ! فَاغْدُ عَلٰی امْرَأَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا۔)) … ’’تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، انیس! تو نے صبح کو اس کی بیوی کے پاس جانا ہے، اگر وہ (زنا کا) اعتراف کرے تو اسے رجم کر دینا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۳۱۴، ۱۶۹۵)
اس حدیث میں اعتراف کا بلا قید ذکر ہے، جس کو ایک دفعہ پر محمول کیا جائے گا، اسی طرح سیدنا لجلاج رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ایک عورت کو ایک مرتبہ اقرار کرنے پر رجم کروا دیا تھا۔ (ابوداود: ۴۴۳۵) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو اور واقعات پر بھی صرف ایک مرتبہ اعتراف کرنے پر حدّ نافذ کی تھی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کی کیفیت کو سامنے رکھ کر اس سے ایکیا زائد بار جرم کا اعتراف کروایا جائے، اسی طرح وہ جس جرم کا اعتراف کر رہا ہو، اس کے بارے میں بھییقین دہانی کر لی جائے کہ کیا اس مجرم کو اپنے جرم کی حقیقت کا علم بھی ہے یا نہیں،مثلا حدیث نمبر (۶۷۰۷) کے مطابق زنا کا اعتراف کرنے والے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟‘‘
یہی معاملہ چوری، ڈاکہ زنی، تہمت اور دوسرے تعزیر اور حدّ والے جرائم کا ہے۔
حدیث کا آخری جملہ ’’لَوْ سَتَرْتَہُ … ‘‘ محتاج وضاحت ہے، کیونکہ اس کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے، امام باجی نے (المنتقی: ۷/ ۱۳۵) میں اس کی تفسیریوں کی: ہزال، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d کو اس کے جرم پر مطلع کیا،کو چاہیے تھا کہ اِس کو توبہ کرنے کی تلقین کرتا اور اس کے گناہ پر پردہ ڈالتا، چادر کا ذکر مبالغہ کے طور پر کیا گیا ہے۔ جس کا معنییہ ہے کہ اگر اس کے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہوتا، سوائے اس کے کہ اس پر چادر کی اوٹ کر لیتا تاکہ گواہوں کی نگاہ اس پر نہ پڑ سکتی، تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجنے اور اس پر حد کے نفاذ کا سبب بننے سے بہتر تھا۔
حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۱۲۵) میںیہی تفسیر نقل کی اور اس کو برقرار رکھا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کو ماعز جیسے لوگوں پر محمول کیا جائے، جو زنا کے عادی نہیں ہوتے اور مرتکب ہونے کی صورت میں نادم و پشیمان ہو جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے جرائم پر پردہ ڈالا جائے اور ان کی تشہیر نہ کی جائے۔ لیکن جو آدمی تسلسل اور ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ اِن جرائم کا ارتکاب کر رہا ہو، ایسے آدمی کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے اور اس کا معاملہ حاکم تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرے، جس کا حکیم شارع نے حکم دیا۔ اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے (المرقاۃ: ۴/ ۷۶) دیکھیں۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنے اقرار سے انکار کرنا چاہتا ہو، یا اس کی کوئی ایسی تفصیل ہو، جس کی وجہ سے وہ حد سے بچ جاتا۔
چار دفعہ اقرار کرواناصرف تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اقرار کرنے پر بھی حد نافذ کی ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد d کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((عَلٰی اِبْنِکَ جَلْدُ مِائَۃٍ، وَتَغْرِیْبُ عَامٍ، وَاَمَّا اَنْتَیَا اُنَیْسٌ! فَاغْدُ عَلٰی امْرَأَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا۔)) … ’’تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، انیس! تو نے صبح کو اس کی بیوی کے پاس جانا ہے، اگر وہ (زنا کا) اعتراف کرے تو اسے رجم کر دینا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۳۱۴، ۱۶۹۵)
اس حدیث میں اعتراف کا بلا قید ذکر ہے، جس کو ایک دفعہ پر محمول کیا جائے گا، اسی طرح سیدنا لجلاج رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ایک عورت کو ایک مرتبہ اقرار کرنے پر رجم کروا دیا تھا۔ (ابوداود: ۴۴۳۵) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو اور واقعات پر بھی صرف ایک مرتبہ اعتراف کرنے پر حدّ نافذ کی تھی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کی کیفیت کو سامنے رکھ کر اس سے ایکیا زائد بار جرم کا اعتراف کروایا جائے، اسی طرح وہ جس جرم کا اعتراف کر رہا ہو، اس کے بارے میں بھییقین دہانی کر لی جائے کہ کیا اس مجرم کو اپنے جرم کی حقیقت کا علم بھی ہے یا نہیں،مثلا حدیث نمبر (۶۷۰۷) کے مطابق زنا کا اعتراف کرنے والے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟‘‘
یہی معاملہ چوری، ڈاکہ زنی، تہمت اور دوسرے تعزیر اور حدّ والے جرائم کا ہے۔
حدیث کا آخری جملہ ’’لَوْ سَتَرْتَہُ … ‘‘ محتاج وضاحت ہے، کیونکہ اس کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے، امام باجی نے (المنتقی: ۷/ ۱۳۵) میں اس کی تفسیریوں کی: ہزال، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d کو اس کے جرم پر مطلع کیا،کو چاہیے تھا کہ اِس کو توبہ کرنے کی تلقین کرتا اور اس کے گناہ پر پردہ ڈالتا، چادر کا ذکر مبالغہ کے طور پر کیا گیا ہے۔ جس کا معنییہ ہے کہ اگر اس کے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہوتا، سوائے اس کے کہ اس پر چادر کی اوٹ کر لیتا تاکہ گواہوں کی نگاہ اس پر نہ پڑ سکتی، تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجنے اور اس پر حد کے نفاذ کا سبب بننے سے بہتر تھا۔
حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۱۲۵) میںیہی تفسیر نقل کی اور اس کو برقرار رکھا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کو ماعز جیسے لوگوں پر محمول کیا جائے، جو زنا کے عادی نہیں ہوتے اور مرتکب ہونے کی صورت میں نادم و پشیمان ہو جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے جرائم پر پردہ ڈالا جائے اور ان کی تشہیر نہ کی جائے۔ لیکن جو آدمی تسلسل اور ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ اِن جرائم کا ارتکاب کر رہا ہو، ایسے آدمی کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے اور اس کا معاملہ حاکم تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرے، جس کا حکیم شارع نے حکم دیا۔ اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے (المرقاۃ: ۴/ ۷۶) دیکھیں۔
حدیث نمبر: 6693
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ أَنَّ هَزَّالًا كَانَ اسْتَأْجَرَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ يُقَالُ لَهَا فَاطِمَةُ قَدْ أَمْلَكَتْ وَكَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُمْ وَأَنَّ مَاعِزًا وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَخْبَرَ هَزَّالًا فَخَدَعَهُ فَقَالَ انْطَلِقْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ عَسَى أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ قُرْآنٌ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ فَلَمَّا عَضَّتْهُ مَسُّ الْحِجَارَةِ انْطَلَقَ يَسْعَى فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِلَحْيِ جَزُورٍ أَوْ سَاقِ بَعِيرٍ فَضَرَبَهُ بِهِ فَصَرَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيْلَكَ يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نعیم بن ہزال سے روایت ہے کہ سیدنا ہزال رضی اللہ عنہ نے ماعز بن مالک کو کرائے پر رکھا اور ہزال کی فاطمہ نامی ایک لونڈی تھی،اس نے خاوند سے طلاق لے رکھی تھی اور وہ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ماعز نے اس سے برائی کر لی اور پھر سیدنا ہزال رضی اللہ عنہ کو بھی بتا دیا، انھوں نے اس کو دھوکہ دیا اور کہا:تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اورآپ کو اس وقوعے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ تیرے بارے میں قرآن مجید نازل ہو اور اس طرح کوئی بہتر سبیل نکل آئے، جب اس نے تفصیل بتائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا،پس اس کو رجم کیا جانے لگا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگ پڑا، آگے سے ایک آدمی اونٹ کے جبڑے کی یا پنڈلی کی ایک ہڈی لے کرآ رہا تھا، اس نے اس کو وہ ہڈی مار کر گرا دیا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ہزال! تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر تو نے اپنے کپڑے سے اس پر پردہ کیا ہوتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا۔
حدیث نمبر: 6694
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ قَصِيرٍ فِي إِزَارِهِ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ عَلَى وَسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ فَكَلَّمَهُ وَمَا أَدْرِي مَا يُكَلِّمُهُ وَأَنَا بَعِيدٌ مِنْهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَوْمٌ فَقَالَ اذْهَبُوا بِهِ ثُمَّ قَالَ رُدُّوهُ فَكَلَّمَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا وَأَنَا أَسْمَعُهُ فَقَالَ أَكُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ مِنَ اللَّبَنِ وَاللَّهِ لَا أَقْدِرُ عَلَى أَحَدِهِمْ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا،یہ ایک چھوٹے قد کا آدمی تھا اور اس نے صرف تہبندباندھا ہوا تھا، اس پر اوپر والی چادر نہیں تھی، اُدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکیے پر اپنی بائیں جانب سے ٹیک لگائی ہوئی تھی، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلام کیا، لیکن میں دور تھا اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان لوگ بھی حائل تھے، اس لیے مجھے پتہ نہ چل سکا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس کو لے جاؤ۔ پھر فرمایا: اس کو واپس لاؤ۔ اس نے پھر بات کی اور میں سن رہا تھا، اب کی بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور فرمایا: جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں اور لوگوں میں سے ایک آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور معمولی سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! جب کسی ایسے شخص پر قدرت پا لوں گا تو اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔
حدیث نمبر: 6695
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا قَالَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ قَالَ فَجَاءَ فَاعْتَرَفَ مِرَارًا فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ فَرُجِمَ ثُمَّ أُتِيَ فَأُخْبِرَ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى تَخَلَّفَ عِنْدَهُنَّ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ لَأَجْعَلَنَّهُمْ نَكَالًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ ماعز بن مالک ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، لیکن وہ اُس طرف سے آگیا اور پھر زنا کا اعتراف کیا اور پھر بار بار اعتراف کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اس کو سنگسار کیا جا چکا ہے، پس آپ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اورپھر فرمایا: ان لوگوں کاکیا بنے گا کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں تو کوئی آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور تھوڑا سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے کسی ایسے شخص پر قدرت دی تو میں اس کو لوگوں کے لیے عبرت بناؤں گا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعراض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اس اعتراف سے باز آ جائے اور اس طرح سزا سے بچ جائے۔ معلوم ہوا کہ جو آدمی مجاہدین کے گھر والوں کا لحاظ بھی نہیں کرتا، وہ سخت سزا کا مستحق ہے، غور کیا جائے کہ کسی کو پتھر مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دینابڑی سخت سزا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مجرم کو اس سے بھی سخت سزا دینے کا ارادہ کرتے ہیں۔
اضافی سزا دینے کی بات تو نہیں کی گئی۔ کسی شادی شدہ انسان کو سو کوڑے لگا کر پھر اسے رجم کیا جائے تو یہی بڑی سخت سزا ہے اور لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ (عبداللہ رفیق)
اضافی سزا دینے کی بات تو نہیں کی گئی۔ کسی شادی شدہ انسان کو سو کوڑے لگا کر پھر اسے رجم کیا جائے تو یہی بڑی سخت سزا ہے اور لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 6696
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَى فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ وَنَسِيَ آخِرَهُ قَالَ فَحَدَّثَنِيهِ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کوتاہ قد آدمی لایا گیا، اس کی حالت پراگندہ تھی، وہ مضبوط پٹھوں اور گٹے بدن والا تھا، اس نے تہبند پہنا ہوا تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ اس کو ردّ کر دیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا، … سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی … ، سعید بن جبیر نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ نقل کیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوچار مرتبہ ردّ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … مقصد چار مرتبہ ان سے اعتراف کرواتا تھا جو چار گواہیوں کے قائمقام ہو جاتا اس لئے لوٹا دیا جب یہ اصول پورا ہوا تو پھر رجم کا حکم دیا۔ یہ آدمی سیدنا ماعز ہی تھے۔ رضی اللہ عنہ۔ فوائد کے تحت یہ بات پہلے واضح کر دی گئی ہے کہ چار دفعہ اعتراف و اقرار کرانا ضروری نہیں ہے یہ صرف احتیاط کے پیش نظر ہے۔ ورنہ ایک دفعہ اعتراف پر بھی حد لگائی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 6697
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماعز بن مالک کو رجم کیا، راوی نے کوڑوں کا ذکر نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ہم پہلے یہ وضاحت کر آئے ہیں کہ کسی چیز کے عدمِ ذکر کا یہ مفہوم نہیں ہوتا ہے کہ سرے سے اس چیز کا وجود نہیں ہے، حدیث نمبر (۶۶۸۷) میںیہ بات گزر چکی ہے کہ شادی شدہ زانی کو پہلے سو (۱۰۰) کوڑے لگائے جائیں گے، پھر اس کو رجم کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6698
عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي السُّوقِ إِذْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ مَعَهُمْ فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لَهَا مَنْ أَبُو هَذَا فَسَكَتَتْ فَقَالَ مَنْ أَبُو هَذَا فَسَكَتَتْ فَقَالَ شَابٌّ بِحِذَائِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا حَدِيثَةُ السِّنِّ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِخِزْيَةٍ وَإِنَّهَا لَمْ تُخْبِرْكَ وَأَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَالْتَفَتَ إِلَى مَنْ عِنْدَهُ كَأَنَّهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ فَقَالُوا مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ فَذَهَبْنَا فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا وَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَجَالِسِنَا فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذَا أَنَا بِشَيْخٍ يَسْأَلُ عَنِ الْفَتَى فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَأَخَذْنَا بِتَلَابِيبِهِ فَجِئْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ فَقَالَ مَهْ لَهُ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ قَالَ فَذَهَبْنَا فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَحَفَرْنَا لَهُ وَلَمْ أَدْرِ أَذَكَرَ الصَّلَاةَ أَمْ لَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ لجلاج سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم بازار میں تھے، وہاں سے ایک عورت گزری، اس نے ایک بچہ اٹھایا ہوا تھا، لوگ اس کی طرف کود پڑے اور میں بھی ان کے ساتھ کود پڑا، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خاتون سے پوچھ رہے تھے: اس بچے کا باپ کون ہے۔ وہ خاموش رہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: بتا اس کا باپ کون ہے؟ وہ پھر خاموش رہی، اتنے میں اس کے سامنے کھڑے ہوئے ایک نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خاتون نوعمر ہے اور اس کا رسوا کن معاملہ بھی ابھی ابھی پیش آیا ہے، اے اللہ کے رسول! میں اس بچے کا باپ ہوں، مجھ سے اس کے ساتھ برائی ہو گئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے اس کے متعلق مشورہ لے رہے تھے، لوگوں نے کہا: ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر و بھلائی کی بات ہی جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میں شادی شدہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا، پس ہم گئے، اس کے لئے گڑھا کھودا اور جب ہم نے اس پر قدرت پا لی تو اس پر پتھر بر سائے، یہاں تک کہ اس کا دم نکل گیا، پھر ہم واپس آ کر اپنی مجلس میں بیٹھ گئے، اس دوران میں نے ایک بوڑھا آدمی دیکھا، وہ اس نوجوان کے متعلق پوچھ رہا ہے، ہم نے اسے اس کے گریبان سے پکڑ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بوڑھا اس خبیث نوجوان کے بارے میں پوچھتا پھرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی باتوں سے باز آ جاؤ،وہ جوان تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ عمدہ مہک والا ہے۔ جونہی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات سنی تو ہم گئے اور اس کے غسل اور کفن میں تعاون کیا، پھر اس کے لیے قبر تیار کی،یہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ جس شخص کو رجم کیا جائے، اس پر طعن نہ کیا جائے، کیونکہ اس کی حدّ اس کے گناہ کا کفارہ بنتی ہے اور جو توبہ تائب ہو کر اپنے آپ کو اس حدّ کے لیے پیش کر دے، وہ بافضیلت آدمی ہو گا۔