حدیث نمبر: 6682
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا فَأَخْشَى أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ عَهْدٌ فَيَقُولُوا إِنَّا لَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فَتُرَكَ فَرِيضَةٌ أَنْزَلَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَأَنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبْلُ أَوِ الْاعْتِرَافُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا اور اس اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو کتاب نازل کی، اس میں رجم والی آیت بھی تھی، ہم نے اس کو پڑھا تھا، سمجھا تھا اور خوب یاد کیا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ ہم قرآن مجید میں رجم کی آیت نہیں پاتے،اس طرح اللہ تعالی کے نازل کردہ ایک فریضے کو چھوڑ دیا جائے گا، جبکہ رجم اللہ تعالی کی کتاب میں ثابت ہے، اس مرد اور عورت کو رجم کیا جائے گا، جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے، جب گواہی ہو، یا حمل ظاہر ہو جائے، یا مجرم اعتراف کر لے۔
حدیث نمبر: 6683
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَفِي لَفْظٍ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَذَكَرَ الرَّجْمَ فَقَالَ لَا نُخْدَعَنَّ عَنْهُ فَإِنَّهُ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ قَائِلُونَ زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ لَكَتَبْتُهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمُصْحَفِ شَهِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ أَلَا وَإِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمٌ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ وَبِالدَّجَّالِ وَبِالشَّفَاعَةِ وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ وَبِقَوْمٍ يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا امْتَحَشُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا،اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور پھر رجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس معاملے میں ہمیں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، بیشک یہ حدودِ الٰہی میں سے ایک حد ہے، خبردار ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اگر کسی کہنے والے کے اس کہنے کا ڈر نہ ہوتا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ تعالی میں اضافہ کر دیا ہے، تو میں قرآن پاک کے کنارے پر رجم کی آیت تحریر کر دیتا، سیدنا عمربن خطاب، سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما اور فلاں فلاں یہ گواہی دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ خبردار! تمہارے بعد کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے، جو رجم، دجال، شفاعت اور عذاب ِ قبر کو جھٹلائیں گے، اور حدیث کے مطابق کچھ لوگ جھلسنے کے بعد جہنم سے نکالے جائیں گے، یہ لوگ اس واقعہ کو بھی جھٹلا دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رجم کی جس آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اس سے مراد یہ آیت ہے: ((اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا اَلْبَتَّۃَ)) … ’’جب شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو انھیں بہرصورت سنگسار کر دو۔‘‘ یہ الفاظ منسوخ ہو گئے ہیں، لیکنان کا حکم باقی ہے۔ اللہ تعالی کے فرمان {اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا} اور متعلقہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس آیت کا تعلق رجم سے بھی ہے۔
حدیث نمبر: 6684
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ مِنْ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَتْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ فَهَلَكَ مَنْ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَآيًا مِنَ الْقُرْآنِ بِالْيَمَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رجم کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی، جو لوگ اس کی اور قرآن کی دوسری آیات کی تلاوت کرتے تھے، وہ یمامہ میں شہید ہو گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل رجم سے متعلقہ واضح آیت کی تلاوت منسوخ ہو گئی تھی، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہو رہا ہے۔