کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ہیجڑوں کا عورتوں پر داخل ہونے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6677
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا مُخَنِّثٌ وَعِنْدَهَا أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ وَالْمُخَنِّثُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَتْ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا ہوا تھا، لیکن میرا بھائی سیدنا عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اس ہیجڑے نے عبد اللہ سے کہا: اے عبد اللہ بن زمعہ! اگر کل اللہ تعالی نے تمہارے لیے طائف کو فتح کر لیا تو غیلان کی بیٹی کو تو نے لازمی طور پر پکڑ لینا ہے، کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے یہ الفاظ سنے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: آئندہ یہ ہیجڑا ہر گز تجھ پر داخل نہ ہونے پائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6677
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4324، 5235، ومسلم: 2180 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27023»
حدیث نمبر: 6678
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنِّثٌ وَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً فَقَالَ إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلُ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک ہیجڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس آتا رہتا تھا، لوگ سمجھتے تھے کہ وہ شہوانی خواہشات سے عاری ہے، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو وہ ہیجڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی اہلیہ کے پاس موجود تھا، وہ ایک عورت کا حسن یوں بیان کرنے لگا کہ وہ جب آتی ہے تو چار بَلْ کے ساتھ آتی ہے اور جب وہ جاتی ہے تو آٹھ بل کے ساتھ جاتی ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنا کچھ جانتا ہے، یہ آئندہ تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ پس لوگوں نے اس کو منع کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ ہیجڑوں میں سنجیدگی اور شرم و حیا کم ہوتا ہے، بلکہ پایا ہی نہیں جاتا، یہ لوگ مردوں سے بھی شہوانی باتیں کرتے ہیں اور عورتوں سے بھی، درج بالا احادیث سے پتہ چلا کہ یہ مرد و زن کی کیفیت بھی بتلا سکتے ہیں، جبکہ ایسا کرنے سے پردہ بے معنی ہو جاتا ہے، پھر آگے سے ان کے مخاطَب افراد بھی غیر سنجیدہ ہو کر شرارت والی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اور شہوانی جذبات ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں، ایسے ہیجڑوں کو خواتین و حضرات دونوں کے پاس آنے سے منع کر دینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6678
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2181، وابوداود!: 4109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25700»
حدیث نمبر: 6679
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنِّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو ہیجڑا پن اپناتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو مردانہ پن اپناتی ہیں اور فرمایا: ہیجڑوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں کو اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو گھر سے نکال دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6679
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5886، 6834، وابوداود!: 4930، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1982»
حدیث نمبر: 6680
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنِّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کے ان ہیجڑوں پر لعنت کی ہے، جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی، جو مردوں کا سا انداز اپناتی ہیں اور ان کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور اس پر بھی لعنت کی ہے جو جنگل میں تنہا سفر کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی نے مرد و زن دونوں کی وضع قطع، بول چال، چلن پھرن، نقل و حرکت اور دیگر کئی صفات علیحدہ علیحدہ بنائی ہیں اور ہر جنس کے لیے بعض خاص احکام نافذ کیے ہیں، مثلا لباس، خوشبو، سر کے بال، وغیرہ۔ ہر جنس کو چاہیے کہ وہ اپنی فطرتی صفات پر پابند رہے اور تکلف اختیار کرتے ہوئے مرد، عورت کی اور عورت، مرد کی صفات اختیار نہ کرے، وگرنہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کے مستحق ٹھہریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6680
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح دون قوله ’’وراكب الفلاة وحده‘‘، وھذا اسناد ضعيف لجھالة طيب بن محمد۔ أخرجه البيھقي في ’’الشعب‘‘: 4728، وابن ابي شيبة: 9/ 63 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7842»
حدیث نمبر: 6681
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنِّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں میں سے بہ تکلف ہیجڑا پن اختیار کرنے والوں پر لعنت کی ہے اور عورتوں میں سے جو مردوں کا سا پن اپناتی ہیں، ان پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6681
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ثوير۔ أخرجه البزار: 2075، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 13477 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5328»