کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بغیر کسی اوٹ کے مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6672
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی کپڑے میں مرد، مرد کے ساتھ اپنا جسم نہ ملائے۔
وضاحت:
فوائد: … عورت کا عورت کے ساتھ ا ور مرد کا مرد کے ساتھ ننگے ہو کر ایک لحاف یا کپڑے میں لیٹنا منع ہے، کیونکہیہ بے پردگی، بد تہذیبی اور گندے خیالات کے پیدا ہونے کا سبب ہے اور بعض صورتوں میں اس سے کسی بڑے حرام کام کے ارتکاب کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6672
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الحاكم: 4/287، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 5214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14897»
حدیث نمبر: 6673
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ إِلَّا الْوَلَدَ وَالْوَالِدَ وَفِي رِوَايَةٍ أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں مباشرت نہ کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ نہ لیٹے، ما سوائے اولاد اور والدین کے۔ ایک روایت میں ہے: ہر گز کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ نہ لیٹے، ما سوائے اولاد اور والدین کے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ اولاد اور والدین کے باہمی تقدس کی وجہ سے حرام کام کے ارتکاب کا خطرہ تو نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود ان کے لیے بھی اس طرح لیٹنا ممنوع ہے، کیونکہیہ بھی بے پردگی، بد تہذیبی اور گندے خیالات کے پیدا ہونے کا مستلزم ہے۔ اس حدیث میں اولاد اور والدین کو مستثنی کیا گیا ہے، لیکن استثنا والے یہ الفاظ ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6673
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: ’’الا الولد والوالد‘‘، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الطفاوي شيخ ابي نضرة۔ أخرجه ابوداود: 2174، والترمذي:2787 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9774»
حدیث نمبر: 6674
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ حَتَّى تَصِفَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت، عورت کے ساتھ مل کر نہ سوئے حتیٰ کہ وہ اپنے خاوند کے لیے اس خاتون کا حلیہ بیان کرے گی گویا کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: الا یہ کہ ان دونوں کے درمیان کپڑا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … کسی خاتون کے لیے منع ہے کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے دوسری خواتین کا حسن بیان کرے، ظاہر بات ہے کہ اس سے خاوند کے اندر غلط جذبات ابھر سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6674
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5241 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3609»
حدیث نمبر: 6675
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی، آدمی کے ساتھ اور عورت، عورت کے ساتھ آپس میں مل کر نہ سوئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6675
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 11728، وابن ابي شيبة: 4/ 398، والبزار: 2074 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2871»
حدیث نمبر: 6676
عَنْ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا بَطَّالًا قَالَ فَمَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَهَوَيْتُ إِلَى كَشْحِهَا وَفِي لَفْظٍ أَخَذْتُ بِكَشْحِهَا فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُونَهُ فَأَتَيْتُهُ فَبَسَطْتُ يَدِي لِأُبَايِعَهُ فَقَبَضَ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُونَهُ فَأَتَيْتُهُ فَبَسَطْتُ يَدِي لِأُبَايِعَهُ فَقَبَضَ يَدَهُ وَقَالَ أُحِبُّكَ صَاحِبَ الْجُبَيْذَةِ يَعْنِي أَمَا إِنَّكَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ أَمْسِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنِي فَوَاللَّهِ لَا أَعُودُ أَبَدًا قَالَ فَنَعَمْ إِذًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو شہم سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں ایک بے کار سا آدمی تھا، ایک دن مدینہ منورہ کے کسی راستہ پر ایک لونڈی میرے پاس سے گزری، میں اس کے پہلو کی طرف جھکا، ایک روایت میں ہے : میں نے اس کا پہلو پکڑ لیا، اگلے دن جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے آئے تو میں بھی آیا اور بیعت کے لئے اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، اگلے دن پھر ایسے ہی ہوا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر رہے تھے، میں بھی آیا اور اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، لیکن اس بار فرمایا: میں تجھے جبیذہ والا ساتھی گمان کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ سوال تھا کہ کیا کل تو جبیذہ والا ساتھی نہیں تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے بیعت لے لیں، اللہ کی قسم! میں کبھی بھی یہ جرم نہیں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ٹھیک ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کے الفاظ ’’أُحِبُّکَ‘‘ کی اصل شکل ’’أَحْسِبُکَ‘‘ تھی، کسی کاتب سے غلطی ہو گئی ہے، ہم نے اصل لفظ کو سامنے رکھ کر ترجمہ کیا ہے۔ ’’الجُبَیذۃ‘‘ کا لفظ ’’جبذ‘‘ سے مشتق ہے اور یہ ’’جذب‘‘ کی ایک لغت ہے، جس کے معانی کھینچنے کے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تو ہی وہ آدمی ہے، جو کل لونڈی کے پہلو کو پکڑ کر اس کو کھینچ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو شہم کے اس جرم کی وجہ سے بیعت نہیں لی تھی، پھر جب انھوں نے توبہ تائب ہو جانے کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لے لی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6676
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 1543، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 932 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22879»