حدیث نمبر: 6668
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَخْلُوَنَّ بِامْرَأَةٍ لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اس عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے، جس کا محرم موجود نہ ہو، کیونکہ ان دو کا تیسرا شیطان ہو گا۔
حدیث نمبر: 6669
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ إِلَّا مَحْرَمٌ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الْاثْنَيْنِ أَبْعَدُ مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! ہرگز کوئی آدمی بھی کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے،جو اس کے لئے حلال نہ ہو، کیونکہ تیسرا شیطان آجاتا ہے، ما سوائے محرم کے، شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو سے زیادہ سےدور ہو جاتا ہے اور جس شخص کو اس کی برائی بری لگے اور اس کو اس کی اچھائی اچھی لگے، تو وہ مؤمن ہوگا۔
حدیث نمبر: 6670
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہرگز کوئی آدمی بھی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے، کیونکہ ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے، اور جس شخص کو اس کی اچھائی اچھی لگے اوراس کی برائی بری لگے تو وہ مؤمن ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … اچھائی کا اچھا لگنا اور برائی کا برا لگنا، اللہ تعالی کے ساتھ گہرے تعلقات کے بعد مومن کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے، اس سعادت کے بعد دن بدن نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور برائیوں کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔
حدیث نمبر: 6671
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عورتوں پر داخل ہونے سے خصوصی طور پر بچو۔ ایک انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا دیور کے متعلق کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیور تو موت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی دیور سے خصوصی اجتناب کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر اس سے مانوسیت ہو گئی تو ایک گھر ہونے کی وجہ سے یا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے یا بھائی کے گھر میں آمد و رفت کی وجہ سے ایک دوسرے تک رسائی حاصل کرنا پہلے سے ہی آسان ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بعض خاندانوں میں مردوں کے نزدیک ان کی بھابیوں کی اتنی قدر اور تقدس ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی ان کے ساتھ بد فعلی کا نہیں سوچ سکتے،اس لیے ان لوگوں کو اس حدیث ِ مبارکہ پر تعجب ہوتا ہے کہ جب طبع اور مزاج کا تقاضا یہ ہے تو شریعت نے اس معاملے میں اس قدر سختی کیوں کی ہے۔ اس کا جواب یہہے کہ شریعت چندخاندانوں یا چند با ضمیر افراد کے مزاج کو نہیں دیکھتی، بلکہ اس کی نظر متوقع شرّ پر بھی ہوتی ہے، جبکہ ہمارے ہی معاشرے میں عملی طور پر ایسے بد کردار لوگ موجود ہیں، جن کی بد نگاہوں سے ان کی بھابیاں سالم نہ رہ سکیں اور انھوں نے دوسرے افراد کے ذریعے ان کو ورغلایا اور منہ کالا کیا۔ (نَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ) ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ غیر محرم مردو زن کا علیحدگی اختیار کرنا منع ہے، نظر کی طرح خلوت بھی بدکاری کے پھیل جانے کا بہت بڑا سبب ہے، ہمارے معاشرے میں اکثر فتنے اسی علیحدگی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اگر کسی خاتون کو غیر محرم مردوں کے تعلقات سے بچانا ہو تو اس کا موبائل اور نیٹ کا استعمال بھی محدود ہونا چاہیے، کیونکہ موبائل اور نیٹ نے لڑکوں اور لڑکیوں کو گفتگو کے ذریعے خلوت کے جو مواقع مہیا کیے ہیں، وہی شرّ اور فساد کی بنیاد ہیں، اگر ایک لڑکی بظاہر تو گھر میں ہی بیٹھی ہے، لیکن موبائل وغیرہ کے ذریعے اس کے غیر محرم لڑکوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں، تو یہ بھی وہی چیز ہو گی، جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں حرام قرار دیا ہے۔