حدیث نمبر: 6667
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أَمَرَنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجِبَا مِنْهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا قَالَ أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئے، یہ پردہ کے حکم کے نازل ہونے کے بعد کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس سے پردہ کرو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو نابینا آدمی ہیں، نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو، کیا تم اس کو دیکھ نہیں رہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اللہ تعالی کے اس فرمان سے یہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے: {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ} … (النور: ۳۰) ’’اور ایماندار عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگائیں جھکا کر اس مسئلہ کے معارض جتنی روایات پیش کی جاتی ہیں، ان میں احتمال پایا جاتا ہے۔