کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
حدیث نمبر: 6663
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں نظر پھیر لیا کروں۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ لِلْمُوْمِنِیْنَیَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ۔ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ} … (النور:۳۰، ۳۱) ’’مؤمنوں کو کہہ دیجئے کہ وہ اپنی آنکھوں کو پست رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھں، یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالی سب سے باخبر ہے۔ اور مسلم خواتین سے بھی کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں۔‘‘ پہلا حکم تو یہی ہے کہ خواتین و حضرات اپنی نگاہیں پست رکھیں، لیکن خدانخواستہ اگر نگاہ کسی ایسی چیز پر پڑ جاتی ہے، جس کو شریعت نے دیکھنے سے منع کیا تو فوراً نظر کو پھیر لینا چاہیے، فی الفور نظر کو ہٹانے سے یا تو شہوت کے اثرات پیدا ہی نہیں ہوتے یا پھر جلد ہی کم پڑ جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6664
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی پہلی مرتبہ کسی عورت کے محاسن پر نظر پڑتی ہے، لیکن پھر وہ اپنی نظر کو پست کر لیتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسی عبادت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال اس قسم کے حرام کردہ امور سے بچتے وقت مؤمن کو اپنے مزاج میں لذت اور حلاوت محسوس ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حرام سے اجتناب کرنا عبادت گزاری کی بڑی اقسام میں سے ہے، اس لیے ایسا کرتے وقت اللہ تعالی کے قرب کا احساس ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بڑھ جاتی ہے، جس کا لازمی نتیجہیہ ہے کہ مزاج فرحت و مسرت محسوس کریں۔
حدیث نمبر: 6665
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَقَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَاكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حرم پاک سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جبکہ وہ چمڑا مل رہی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا: بے شک عورت شیطان کی صورت میں متوجہ ہوتی ہے اور شیطان کی صورت میں ہی پیٹھ پھیر کر جاتی ہے، اس لیے جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور (اپنی حاجت پوری کر لے)، یہ چیز اس کے نفس کے برے خیال کو ختم کر دے گی۔
وضاحت:
فوائد: … انسان پاکباز اور پاکدامن رہنے کی فکر رکھتا ہو، تو اس حدیث میں بیان کیا ہوا اصول اس کا سب سے بڑا معاون ہو گا، کیونکہ پاکدامنی اسی وقت متاثر ہوتی، جب آدمی غیر محرم خواتین کے پیچھے پڑتا ہے اور پھر دن بدن شیطان اس کے دل میں گھر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر کوئی اس قانون پر عمل کرے گا تو اس کو دو برکتوں کا حصول ہو گا، ایک غیر محرم عورت سے بے رخی اختیار کرنا اور دوسرا اپنی بیوی سے مجامعت کرنا، مؤخر الذکر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باعث ِ اجر قرار دیا ہے، شیطان ایسے آدمی سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے شروع والے حصے میں میں ایک بات قابل توجہ ہے کہ وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی لگی، اس کے بارے میں ابن عربی لکھتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دل میں جو خیال آیا،یہ ایسا معاملہ ہے، جس پر نہ شرعاً مؤاخذہ ہو گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت و منزلت میں کوئی کمی آئے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز محسوس کی ہے، یہ آدمی کی جبلّت ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم اور حکیم تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجیت ادا کر کے پاکدامنی کے ساتھ اس جبلی اور فطرتی خیال کو ختم کر دیا۔
قارئین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت و عظمت کا اعتراف کرنے کے بعد ان امور میں فرق کرنا چاہیے: محض کسی چیز کا خیال آ جانا، برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا اور پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنے کا ارادہ کرنا، برائی کا عزم کرنا اور
اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں رہنا، عملی طور پر برائی کرنا۔ مؤخر الذکر تین امور عصمت کے منافی ہیں، پہلی چیز قابل مؤاخذہ نہیں ہے، بالخصوص جب اس کے اثر کو نیکی کے ذریعے زائل کر دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
قارئین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت و عظمت کا اعتراف کرنے کے بعد ان امور میں فرق کرنا چاہیے: محض کسی چیز کا خیال آ جانا، برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا اور پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنے کا ارادہ کرنا، برائی کا عزم کرنا اور
اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں رہنا، عملی طور پر برائی کرنا۔ مؤخر الذکر تین امور عصمت کے منافی ہیں، پہلی چیز قابل مؤاخذہ نہیں ہے، بالخصوص جب اس کے اثر کو نیکی کے ذریعے زائل کر دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حدیث نمبر: 6666
عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ قَالَ أَجَلْ قَدْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَفْعَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ گھر داخل ہوئے اور پھر باہر تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل بھی کیا ہوا تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کچھ ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، فلاں عورت میرے پاس سے گزری، اس سے میرے دل میں عورتوں کی خواہش بیدار ہوئی، اس لیے میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور حق زوجیت ادا کیا، تم بھی اسی طرح کیا کرو، حلال کو اختیار کرنا تمہارے افضل اعمال میں سے ہے۔