کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اجنبی عورت کو دیکھنے کے حرام ہونے کا بیان، کیونکہیہ زنا کے مقدمات میں سے ہے
حدیث نمبر: 6656
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ وَلَيْسَ لَكَ الْأَخِيرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: نظر کے پیچھے نظر نہ لگانا، پہلی نظر تو معاف ہے، جبکہ دوسری کی تجھے اجازت نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی نظر سے مراد بلا ارادہ پڑ جانے والی نظر ہے، اگر آدمی ان احادیث پر عمل کرتے ہوئے غیر محرم خاتون پر پڑنے والی نظر کو فوراً پھیر لے تو اس خاتون کی شکل دماغ میں محفوظ نہیں ہو سکتی، جبکہ اس عمل کی وجہ سے وجود میں برکت آ جاتی ہے، اس طرح سے آدمی گندے خیالات سے مکمل طور پر بچ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6656
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه الدارمي: 2709، والبزار: 907، وابن حبان: 5570، والحاكم: 3/ 123 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1369»
حدیث نمبر: 6657
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ كَنْزًا مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا فَلَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَ لَكَ الْآخِرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! آپ کے لئے جنت میں ایک خزانہ ہے، تم جنت کے دونوں کناروں میں رہو گے، لہذا نظر کے پیچھے نظر نہ ڈالنا، بے شک تجھے پہلی نظر کی اجازت ہے، دوسری کی اجازت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6657
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1373»
حدیث نمبر: 6658
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: نظر کے پیچھے نظر نہ لگانا، پہلی نظر تو معاف ہے، جبکہ دوسری کی تجھے اجازت نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6658
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)۔ أخرجه ابوداود: 2149، والترمذي: 2777 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23379»
حدیث نمبر: 6659
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ لَا مَحَالَةَ فَالْعَيْنُ زِنْيَتُهَا النَّظَرُ وَيُصَدِّقُهَا الْأَعْرَاضُ وَاللِّسَانُ زِنْيَتُهُ النُّطْقُ وَالْقَلْبُ الْمُتَمَنِّي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا ثَمَّ وَيُكَذِّبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم کے بیٹے پر اللہ تعالیٰ نے اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اس کو لا محالہ طور پر پائے گا، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، پھر مختلف (روحانی) بیماریاں اس کی تصدیق کرتی ہیں، زبان کا زنا بولنا ہے، دل تمنا کرنے والا ہوتا ہے اور شرمگاہ ان سب امور کی تصدیق کرتی ہے یا پھر تکذیب۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی نے لوح محفوظ میں وہ نیکیاں اور برائیاں بھی لکھ دی ہیں، جو ہر انسان نے کرنی ہیں، اسی چیز کو اللہ تعالی کا علم یا تقدیر کہتے ہیں، لیکن اس ریکارڈ کا یہ معنی نہیں کہ انسان برے اعمال کر کے گنہگار نہیں ہو گا، اگر اللہ تعالی کو علم ہے کہ فلاں بندے نے بدکاری کرنی ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس معاملے میں بندے کو معذور سمجھا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6659
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 4421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8199»
حدیث نمبر: 6660
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ وَالْفَرْجُ يَزْنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دونوں آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، دونوں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں، دونوں پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ بھی زنا کرتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6660
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 5364، والبزار: 1550، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 10303 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3912»
حدیث نمبر: 6661
عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ لَهُ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا الْيَدَيْنِ الْبَطْشُ وَزِنَا الْرِّجْلَيْنِ الْمَشْيُ وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ وَحَلَّقَ عَشْرَةً ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِيهَا يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَحْمُهُ وَدَمُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کا زنا میں حصہ ہے، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے،منہ کا زنا بوسہ لینا ہے اور دل اس کی خواہش اور تمنا کرتا ہے اور پھر شرمگاہ ان امور کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دس کے عدد کا حلقہ بنایا اور دوسرے ہاتھ کی انگشت ِ شہادت کو اس میں داخل کیا اور کہا:ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس پر گواہی دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6661
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2657 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10933»
حدیث نمبر: 6662
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آنکھ سے زنا سرزد ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان تمام احادیث سے ثابت ہوا کہ مرد کا غیر محرم عورت کو دیکھنا حرام ہے، آنکھ ہی زنا کا مقدمہ ہے، جو آدمی اپنی نظر کی حفاظت کرے گا، وہ بدکاری کے تمام متعلقات سے محفوظ رہے گا، ان شاء اللہ تعالی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6662
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد۔ أخرجه ابن خزيمة: 1681، وابن حبان: 4424، والبيھقي: 3/ 246 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19986»