حدیث نمبر: 6653
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زنا کی اولاد تین افراد میں سے زیادہ برا ہے۔
حدیث نمبر: 6654
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَشَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ يَعْنِي وَلَدَ الزِّنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زنا کی اولاد اس وقت تینوں میں سے سب سے بدتر ہوتی ہے، جب وہ اپنے ماں باپ جیسا کام کرتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام سفیان کہتے ہیں: … اِذَا عَمِلَ بِعَمِلِ اَبَوَیْہِ۔ … اس حدیث کو اس کے مفہوم پر اس وقت محمول کیا جائے گا جب وہ بیٹا بھی اپنے والدین والا فعل کرے گا۔ اس قول کی تائید درج ذیل مرفوع روایت سے ہوتی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّـلَاثَۃِ اِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ اَبَوَیْہِ۔)) … ’’زنا کا بیٹا تین افراد میں سے ہے، جب وہ بھی اپنے والدین والی کاروائی شروع کر دے۔‘‘ اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابو لیلی سوء حفظ کی بنا پر ضعیف ہے۔
امام البانی نے بھییہی مفہوم پسند کیا ہے۔ (صحیحہ: ۶۷۲)
لیکن فی الحقیقت زنا کی وجہ سے ہونے والی اولاد، اپنے والدین کے کیے سے بری ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلٰی وَلَدِ الْزِّنَا مِن وِزْرِ أَبَوَیْہِ شَیْئٌ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی}۔)) [فاطر:۱۸] (صحیحہ: ۲۱۸۶) ’’زنا کی اولاد پر اپنے والدین کے گناہ کا کوئی وبال نہیں ہو گا، ارشادِ باری تعالی ہے: ’’(اور قیامت کے دن) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘
زنا سنگین جرم ہے، لیکن اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی اولاد بے قصور ہے، ایسے بچوں کو ان کے والدین کے کئے کا کبھی بھی طعنہ نہیں دینا چاہئے۔
امام البانی نے بھییہی مفہوم پسند کیا ہے۔ (صحیحہ: ۶۷۲)
لیکن فی الحقیقت زنا کی وجہ سے ہونے والی اولاد، اپنے والدین کے کیے سے بری ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلٰی وَلَدِ الْزِّنَا مِن وِزْرِ أَبَوَیْہِ شَیْئٌ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی}۔)) [فاطر:۱۸] (صحیحہ: ۲۱۸۶) ’’زنا کی اولاد پر اپنے والدین کے گناہ کا کوئی وبال نہیں ہو گا، ارشادِ باری تعالی ہے: ’’(اور قیامت کے دن) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘
زنا سنگین جرم ہے، لیکن اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی اولاد بے قصور ہے، ایسے بچوں کو ان کے والدین کے کئے کا کبھی بھی طعنہ نہیں دینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 6655
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین کا نافرمان اور ہمیشہ کا شرابی اور احسان جتانے والا اورولد الزنا جنت میں داخل نہ ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں کہ ولد الزنا اپنا سبب بننے والے دو افراد کی برائی کا ذمہ دار نہیں ہے، نہ اس کو اس چیز کا طعنہ دیا جا سکتاہے، لیکن دیکھایہ گیا ہے کہ ایسے بچے معاشرے کے قیمتی افراد نہیں بنتے، ان کا رجحان گھٹیا افراد کی طرف ہوتا ہے۔