کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور¤اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
حدیث نمبر: 6644
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زانی جس وقت زنا کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا، چورجب چوری کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور شرابی جس وقت شراب پیتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور (ان جرائم کے بعد بھی) توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں زانی، چور اور شرابی کی سخت سرزنش کی گئی ہے۔
’’وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا‘‘ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ امور ایمان کے منافی ہیں، ایمان ان سے روکتا ہے، جب کوئی شخص ان برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ ایمان کے تقاضے پر عمل نہیں کر رہاہوتا، اس معنی میں گویا کہ وہ مؤمن نہیں ہوتا، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیںہے کہ وہ کلی طور پر ایمان سے خارج ہو جاتا ہے اور کافر بن جاتا ہے، کیونکہ اہل سنت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی گناہ، خواہ وہ کبیرہ ہی ہو، کے ارتکاب سے مسلمان کافر نہیں بنتا، یہ اصول بہت سی آیات و احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ لیکن اس اصول کا مطلب ایسے مجرموں سے نرمی برتنا نہیں ہے، بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئے اور ابدی طور پر جہنم کے مستحق نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6644
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6810، ومسلم: 57 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10220»
حدیث نمبر: 6645
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَعْنِي إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْإِمَامُ الْكَذَّابُ وَالشَّيْخُ الزَّانِي وَالْعَائِلُ الْمَزْهُوُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی رو زِ قیامت تین قسم کے افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: جھوٹا امام، بوڑھا زانی اورمتکبر فقیر۔
وضاحت:
فوائد: … زمان و مکاں اور شخصیت کی وجہ سے نیکییا برائی کی نوعیت میں فرق آ جاتا ہے، جیسے نوجوانی کی عمر میں نیکی کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اسی طرح بڑھاپے کی عمر میں برائی کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے، ایسے تین مجرموں کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے، امام و حکمران ہو کر جھوٹ بولنا، بوڑھا ہو جانے کے بعد بھی زنا کرنا اور فقر و فاقہ کے باوجود تکبر کرنا۔ جھوٹ، زنا اور تکبر گناہ کے کام ہیں، لیکن جب یہ تین افراد ان امور کا ارتکاب کریں گے تو زیادہ ناپسند کیا جائے گا، کیونکہ ان افراد کا عہدہ، عمر اور ظاہری حالت کے تقاضے کچھ اور ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6645
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 5/86 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9592»
حدیث نمبر: 6646
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ النَّاسُ بِهِ النَّارَ قَالَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ وَالْفَرْجُ وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ بِهِ النَّاسُ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُسْنُ الْخُلُقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیٹ سے متعلقہ دو چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جنت میں جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حسن اخلاق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6646
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 4246، والترمذي: 2004 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7894»
حدیث نمبر: 6647
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فَقْمَيْهِ وَفَرْجِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی اپنی زبان کو غیبت، چغلی، جھوٹی بات اور لغویات سے محفوظ رکھا اور شرمگاہ کو زنا اور ناجائز شہوات سے بچایا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6647
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 7275، والحاكم: 4/ 358، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 5755 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19788»
حدیث نمبر: 6648
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي بِالزِّنَا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَزَجَرُوهُ وَقَالُوا مَهْ مَهْ فَقَالَ ادْنُهُ فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا قَالَ فَجَلَسَ قَالَ أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرْ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَهُ فَلَمْ يَكُنْ بَعْدَ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے زنا کی اجازت دیں، لوگ اس پر پل پڑے اور کہا: خاموش ہو جا، خاموش ہو جا تو،لیکن آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نوجوان سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوکر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اپنی ماں کیلئے اس چیز کو پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح لوگ بھی اپنی ماؤں کیلئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو اپنی بیٹی کے لئے اس چیز کو پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو زنا کو اپنی بہن کے لئے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، میں اپنی بہن کے لیے اس کو کبھی بھی پسند نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کو اپنی پھوپھی کے لئے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تو اس برائی کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی خالاؤں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور اس کے حق میں یہ دعا فرمائی: اے میرے اللہ! اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ کر دے۔ اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکیمانہ انداز ہے، جس کا استعمال بعض افراد کے لیے مناسب سمجھا گیا۔ بعض لوگ ایسے مزاج کے ہوتے ہیں کہ صرف لفظ ’’حرام‘‘ ان کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں رکھتا، ایسے لوگوں کو ان کی ذات سے متعلقہ مثالیں دے کر بات سمجھائی جا سکتی ہے، جیسا حکمت و دانائی جیسی صفات سے متصف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس موقع پر کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6648
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 7275، والحاكم: 4/ 358، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 5755 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22564»
حدیث نمبر: 6649
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَيُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی، جب تک ان میں زنا کی اولاد کی کثرت نہ ہوگی، جب ان میں ولد الزنا کی کثرت ہو جائے گی تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … ولد الزنا کی کثرت کا مطلب ہے کہ زنا عام ہو جائے، جس سے ناجائز بچے جنم لیں گے اور حسب و نسب کا نظام خراب ہو جائے گا۔
اگرچہ دورِ حاضر کے لوگوں میں بڑی بڑی اور کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں، لیکن منصوبہ بندی کے اسباب اور الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا کی وجہ سے جو بے غیرتی زنا اور اس سے متعلقہ گناہوں کی وجہ سے پھیلی ہے، اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی، غیرت و حمیت کی وجہ سے جن افراد اور خاندانوں کے بارے میں اس برائی کا سوچا ہی نہیں جا سکتا تھا، ان کے وڈیرے زنا کی دلدل میں پھنس گئے اور ان کی بیویوں اور بچیوں نے اپنے لیے کرائے پر سانڈ لیے رکھے ہیں، ایسے خاندانوں کے پچاس ساٹھ ساٹھ برس عمر کے لوگوں کی نگاہیں تو شرم و حیا کا پیکر ہونی چاہیے تھیں، لیکن اب وہ چور نگاہوں سے اور ٹکٹکی باندھ کر ایسی بے پردہ لڑکیوں کو دیکھتے نظر آتے ہیں، جو ان کی بچیوں کی ہم عمر یا ان سے چھوٹی ہوتی ہیں۔ (اللہ کی پناہ) کیا کوئی چھٹی حس میں جا کر سوچ سکتا ہے کہ مائیں اپنی بچیوں کی عزتیں لٹانے کے لیے ڈیلکریں گی؟ کیا کسی میںیہ چیز برداشت کرنے کی ہمت ہے کہ بچیاں پابندی لگانے والے باپ کے سامنے واقعی ننگا ہو کر یہ کہیں گی کہ پھر تم خود ہماری ضرورت پوری کرو، نہیں تو ہمیں باہر جانے دو، کیا کسی کے دماغ میںیہ بات سما لینے کی
گنجائش ہے کہ خاوند کمائی کرنے کے لیے دوسرے ممالک میں چلے جائیںاور ان کی بیویاں ان کی ہی آمدنیاں خرچ کر کے کرائے پر سانڈ رکھ لیں۔ جبکہ ایسا ہو رہا ہے اور ہر ملک کے ہر شہر میں ہو رہا ہے۔ لوگو! آؤ، شریعت ِ مطہرہ کو تھام لیں، اسی میں ہماری عزتوں کا دفاع ہے، یہی حمیت و غیرت والی زندگی کا دوسرا نام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6649
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن، ومحمد بن عبد الله و محمد بن عبدالرحمن ضعيفان، وعبيد الله بن ابي رافع لين الحديث۔ أخرجه ابويعلي: 7091، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 55 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27367»
حدیث نمبر: 6650
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا قَالُوا حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ قَالَ فَمَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ قَالُوا حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ قَالَ لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : تم لوگ زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت کے دن تک حرام ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا، اس کا جرم ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنے کے جرم سے کم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم لوگ چوری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے، پس یہ حرام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا، اس کا جرم پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے کے جرم سے کم ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پڑوسی کو اپنے پڑوسی پر حسن ظن ہوتاہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا پڑوسی اس کی عزتوں کا محافظ ہے، اُدھر اللہ تعالی اور اس کے رسول نے پڑوسی کے بہت زیادہ حقوق بیان کیے ہیں، جو آدمی ان سب حد بندیوں کو پامال کر جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جرم کو دس گنا سے بھی بڑھا کر بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6650
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 605، وفي ’’الاوسط‘‘: 6329 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24355»
حدیث نمبر: 6651
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَعَدَ عَلَى فِرَاشِ مُغِيبَةٍ قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُعْبَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس عورت کے بستر پر بیٹھا، جس کا خاوند گھر سے غائب ہو، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس پر ایک سانپ مقرر کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6651
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3278، وفي ’’الاوسط‘‘: 3237 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22924»
حدیث نمبر: 6652
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جن عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں، ان پر داخل نہ ہوا کرو، کیونکہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے شیطان کا تعلق آپ سے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی، پس وہ میرا مطیع ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم (۲۱۷۱) میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((أَلَاَ لَایَبِیِْتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ اِمْرَأَۃٍ ثَیِّبٍ، اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ نَاکِحًا اَوْ ذَا مَحْرَمٍ۔)) … ’’خبردار کوئی آدمی کسی بیوہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، الایہ کہ وہ اس کا خاوند ہو یا محرم رشتہ دار۔‘‘
کنواری اور غیر شادی شدہ عورتوں کی بہ نسبت شادی شدہ خواتین کے لیے برائی پر آمادہ ہو جانا قدرے آسان ہوتا ہے، ان میں غیرت کے تقاضوں کے معاملے نرمی آ جاتی ہے، جبکہ عیب کے چھپ جانے کا بھی امکان ہوتا ہے، بیوہ کا معاملہ بھی اسی قسم کا ہوتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر ان خواتین کے ساتھ بیٹھنےیا ان کے ساتھ رات گزارنے سے منع کیا، وگرنہ کسی غیر محرم خاتون کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا ہی منع ہے، رات گزارنا تو درکنار۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6652
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذه ثلاثة احاديث، وھي صحيحة، لكن جمعھا مجالد في ھذا المتن الواحد، واسناد ھذا الحديث ضعيف لضعف مجالد بن سعيد۔ أخرجه الترمذي: 1172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14375»