کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اسلام سے مرتد ہونے والے کی حد اور زنادقہ کا بیان
حدیث نمبر: 6641
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَالَ مَا هَذَا قَالُوا رَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ وَنَحْنُ نُرِيدُ عَلَى الْإِسْلَامِ مُنْذُ قَالَ أَحْسَبُهُ شَهْرَيْنِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى تَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ فَقَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَاقْتُلُوهُ أَوْ قَالَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ یمن میں تھے اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک آدمی تھا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ آدمی یہودی تھا، پھر مسلمان ہوا اور اب پھر یہودی ہو گیا ہے، دو ماہ ہو گئے ہیں کہ ہم اس سے اسلام پر کار بند رہنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہا: اللہ کی قسم! جب تک تم اس کی گردن نہیں اڑاؤ گے، میں نہیں بیٹھوں گا،پس اس کو قتل کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ جو شخص اپنے دین کو ترک کر دے یا اپنے دین کو بدل ڈالے، اس کو قتل کر دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6641
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22365»
حدیث نمبر: 6642
عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِقَوْمٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الزَّنَادِقَةِ وَمَعَهُمْ كُتُبٌ فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ثُمَّ أَحْرَقَهُمْ وَكُتُبَهُمْ قَالَ عِكْرِمَةُ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس زندیق لوگوں کو لایا گیا، ان کے پاس ان کی کتابیں بھی تھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے آگ جلانے کا حکم دیا، پس آگ بھڑ کائی گئی، پھر انھوں نے انہیں اور ان کی کتابوں کو جلا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلانے سے منع فرمایا ہے، البتہ میں ان کو قتل کر دیتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا دین تبدیل کرے اسے قتل کر دو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … زندیق اس کو کہتے ہیں جو بظاہر اسلام کا اظہار کرے، مگر باطن میں کفر رکھے اور احکام شریعت کو باطل تصور کرے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا کفر کرنے والے اور اسلام سے مرتد ہونے والے ہوتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جن زنادقہ کو لایا گیا،یہ دراصل عبد اللہ بن سبا کے پیروکار تھے اور یہ ابن سبا یہودی تھا اور اس نے امت ِ محمدیہ میں فتنہ برپا کرنے کے لیے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا، اسی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا، پھر وہ کچھ ہوا، جو ہوا، پھر اس نے اپنے خبیث نفس کو شیعہ لوگوں میں لا کھڑا کیا اور جاہلوں کی ایک جماعت سے یہ نعرہ لگانے میں کامیاب ہو گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی معبود ہیں۔ (تلخیص از الملل والنحل)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6642
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2551»
حدیث نمبر: 6643
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَرَّقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ بِالنَّارِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ وَكُنْتُ قَاتِلَهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فَقَالَ وَيْحَ ابْنِ عَبَّاسٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسلام سے مرتد ہونے والے چند لوگوں کو آگ میں جلا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دیاکرو۔ میں نے ان کو قتل کرنا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اپنا دین بدل دے، اسے قتل کر دو۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: ابن عباس کے لیے افسوس۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام کو اپنانے کے بعد اس سے مرتدّ ہو جانے والی کی سزا قتل ہے۔
’’وَیْحٌ‘‘ لفظ کسی پر افسوس کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض دفعہ تعریف اور تعجب کے لیے بھی آتا ہے۔ پہلا معنی اگر مراد ہو تو مفہوم ہوگا: افسوس، اس نے وقت سے پہلے کیوں نہ بتایا تاکہ حدیث کی مخالفت نہ ہوتی۔ اگر دوسرا معنی ہو تو پھر مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ابن عباس کی بات کو پسند کیا اور تعجب کا اظہار کیا۔ (بلوغ الامانی) (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6643
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1871»