کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص¤پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6637
عَنْ أَبِي مَاجِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ بِابْنِ أَخٍ لَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ابْنَ أَخِي وَقَدْ شَرِبَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ امْرَأَةٌ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا فَتَغَيَّرَ لِذَلِكَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور 22]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو ماجد کہتے ہیں:ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے، اس نے شراب پی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ اسلام میں سب سے پہلی حد اس عورت پر لگائی گئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6637
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده مسلسل بالضعفائ، يزيد بن هارون سمع من المسعودي بعد الاختلاط، ويحيي بن الحارث ضعيف، وابو ماجد الحنفي مجھول، وقال البخاري والنسائي: منكر الحديث۔ أخرجه ابويعلي: 5155 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3711»
حدیث نمبر: 6638
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي لَا تَكُونُوا عَوْنًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور 22]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو ماجدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: مجھے وہ پہلا آدمی یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا، ایک چور کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لیکن اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیاتھا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ہاتھ کے کٹنے کو ناپسند کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کون سی چیز مجھے اس سے روک سکتی ہے، تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، امام کے لئے یہی زیب دیتا ہے کہ جب اس تک حد کا معاملہ پہنچے تو وہ اسے قائم کر دے، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند کرتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا بہت مہربان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6638
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بشواهده۔ أخرجه الحاكم: 4/ 382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4168»
حدیث نمبر: 6639
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ كَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذُرَّ عَلَيْهِ رَمَادٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ہے اور آپ کے چہرے پر راکھ ڈال دی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ایک دو باتیں وضاحت طلب، دوسری حدیث کا مفہوم تو عیاں ہے۔
۱۔ بات یہ ہے کہ اس میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آدمی نے سب سے پہلے چوری کی اور اس پر حد لگائی گئی جبکہ دوسری روایت میں آتا ہے وہ جس پر چوری کی سب سے پہلے حد لگائی گئی وہ عورت تھی تو ان میں مطابقت اس طرح ہے کہ عورتوں میں اسلام میں سب سے پہلے چوری میں جسے حد لگائی گئی وہ عورت تھی جس کا ذکر ہوا ہے اور جس میںیہ آیا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جو چوری کی حد لگائی گئی وہ مرد تھا تو یہ مردوں کے اعتبار سے سب سے پہلے تھا۔
۲۔ بظاہر اس حدیث سے احساس ابھرتا ہے کہ حد قائم کرنا کوئی اچھا کام نہیں اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے انداز میں غصے کا اظہار فرمایا کہ یوں لگ رہا ہے کہ حد لگانے سے درگزر سے کام لینا چاہیے، حالانکہ ہرگز ایسا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ِ مبارکہ اس لئے تلاوت فرمائی تھی کہ امام وقت کی عدالت تک پہنچنے سے پہلے پہلے معاف کر کے پردہ پوشی کی جائے اس کے خلاف فوراً عدالت میں معاملہ لانے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا ہے مگر جب معاملہ حد امام وقت کی عدالت میں پیش ہو جائے تو پھر تو حد قائم کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ضرور بھر ضرور قائم ہوگی۔
حدیث نمبر (۶۶۲۷)میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حاکم کی عدالت میں پہنچنے سے پہلے حد کو معاف کرنا یا کروا لینا درست ہے، تاہم شریعت نے جس چیز کو مستثنی قرار دیا ہے، اس میں حاکم کے پاس لانے کے بعد بھی معافی ہو سکتی ہے، جیسے مقتول کے ورثائ، قاتل کو بعد میں بھی معاف کر سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6639
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4169»
حدیث نمبر: 6640
عَنْ دُخَيْنٍ كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعُقْبَةَ إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُوهُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ قَالَ فَفَعَلَ فَلَمْ يَنْتَهُوا قَالَ فَجَاءَهُ دُخَيْنٌ فَقَالَ إِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ فَقَالَ عُقْبَةُ وَيْحَكَ لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَا مَوْؤُودَةً مِنْ قَبْرِهَا وَفِي لَفْظٍ كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْؤُودَةً مِنْ قَبْرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی دُخَین سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نے عقبہ رضی اللہ عنہ سے کہا:ہمارے کچھ پڑوسی ہیں،وہ شراب نوشی کرتے ہیں، میں پولیس کو اطلاع کرنے والا ہوں تاکہ وہ انہیں گرفتار کر لے۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، انہیں نصیحت کرو اور ڈانٹ ڈپٹ کرو، اس نے ایسے ہی کیا مگر وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ آ گیا اور کہا: میں نے انہیں روکا تو ہے، مگر وہ باز نہیں آتے، اب تو میں پولیس کو ضرور بلاؤں گا، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: او تیرے لیے ہلاکت ہو، اس طرح نہ کر، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مؤمن کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے، وہ گویا کہ قبر میں زندہ درگور بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس شخص کی مانند ہے، جوقبر میں زندہ درگور کی گئی بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6640
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لاضطراب في اسناده، ولجھالة ابي الھيثم۔ أخرجه ابوداود: 4892 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17530»