کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 6634
عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَذَهَبُوا بِهَا لِيَرْجُمُوهَا فَلَقِيَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا هَذِهِ قَالُوا زَنَتْ فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا فَانْتَزَعَهَا عَلِيٌّ مِنْ أَيْدِيهِمْ وَرَدَّهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا رَدَّكُمْ فَقَالُوا رَدَّنَا عَلِيٌّ فَقَالَ مَا فَعَلَ هَذَا عَلِيٌّ إِلَّا لِشَيْءٍ قَدْ عَلِمَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ فَجَاءَ وَهُوَ شِبْهُ الْمُغْضَبِ فَقَالَ مَا لَكَ رَدَدْتَ هَؤُلَاءِ قَالَ أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَكْبَرَ وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ قَالَ بَلَى قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّ هَذِهِ مُبْتَلَاةُ بَنِي فُلَانٍ فَلَعَلَّهُ أَتَاهَا وَهُوَ بِهَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا أَدْرِي قَالَ وَأَنَا لَا أَدْرِي فَلَمْ يَرْجُمْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو ظبیان جنبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، پس انہوں نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، لوگ اسے رجم کرنے کے لیے لے گئے،جب ان کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انھوں نے پوچھا:یہ کیا کرنے جارہے ہو؟ انہوں نے کہا: اس نے زنا کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ عورت ان کے ہاتھوں سے چھڑائی اور لے جانے والوں کو واپس لوٹا دیا، جب وہ لوٹ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیوں واپس آ گئے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں واپس بھیج دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کسی سبب کے علم کی بنا پر ایسا کیا ہو گا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، جب وہ آئے تو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ غصے میں ہیں، انھوں نے کہا: اے علی! تمہیں کیا ہواہے کہ ان کو واپس لوٹا دیا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، (۱) سوئے ہوئے سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے، (۲) بچے سے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے اور (۳) پاگل سے جب تک وہ عقلمند نہ ہو جائے۔ ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں ضرور سن رکھی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ بنی فلاں قبیلہ کی کم عقل خاتون ہے، ممکن ہے متعلقہ مرد نے اس سے اس وقت زنا کیا ہو جب یہ جنون کی حالت میں ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو معلوم نہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم نہ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سونے والا، نابالغ بچہ اور پاگل مرفوع القلم ہیں، کسی شخص پر حد نافذ کرنے کی بنیادیقین پر رکھی جاتی ہے، اور اس حدیث میں مذکورہ خاتون کا معاملہ یقینی نہیں ہے، بلکہ اس کے اس جنون کا قوی شبہ ہے، جس کی بنا پر اس کو حد سے مستثنی کیا جائے گا اور خلیفۂ راشد نے ایسے ہی کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6634
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1328»
حدیث نمبر: 6635
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَتِ امْرَأَةٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا بِثِيَابِهِ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا وَذَهَبَ وَانْتَهَى إِلَيْهَا رَجُلٌ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَذَهَبَ الرَّجُلُ فِي طَلَبِهِ فَجَاءُوا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَهَبَ فِي طَلَبِ الرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هُوَ هَذَا فَلَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ بِرَجْمِهِ قَالَ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا هُوَ فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرْجُمُهُ فَقَالَ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نماز کی ادائیگی کے لئے گھر سے باہر نکلی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا، اس نے اپنے کپڑوں سے اس کو ڈھانپ لیا اور اپنی حاجت پوری کر لی اور فرار ہو گیا،اس عورت کے پاس ایک آدمی پہنچا، اس عورت نے اس سے کہا: فلاں آدمی نے مجھ سے برائی کی ہے، وہ آدمی اس کی تلاش میں گیا اورلوگ اس کو پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے، اس عورت نے بھی (غلطی سے) کہہ دیا کہ وہ یہی ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو وہ آدمی، جس نے واقعی اس عور ت سے برائی کی تھی، کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!اس سے برائی کرنے والا میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تو چلی جا، اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے حق میں اچھے کلمات ارشاد فرمائے، آپ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کو رجم کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اس کی توبہ کو مدینہ والوں پر تقسیم کیا جائے تو ان سے بھی قبول کرلی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6635
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سماك بن حرب تفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، ثم انه قد اضطرب في متنه۔ أخرجه ابوداود: 4379، والترمذي: 1454 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27782»
حدیث نمبر: 6636
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک عورت سے زنا بالجبر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے حد روک لی اور جس مرد نے یہ برائی کی تھی، اس پر حد قائم کی، راوی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس خاتون کے لیے مہر مقرر کیا تھا یا نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ قانون شرعی ہے اور دوسری نصوص سے ثابت ہے کہ جس مرد و زن کو گناہ والے کسی کام پر مجبور کر دیا جائے، اس کو نہ اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ گنہگار ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6636
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة ثم انه لم يسمع من عبد الجبار۔ أخرجه ابن ماجه: 2598، والترمذي: 1453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19078»