کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ¤قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
حدیث نمبر: 6215
عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ سَائِلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ عَدَا عَلَيَّ عَادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكِّرْهُ وَأَمَرَهُ بِتَذْнамِيرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَفِي لَفْظٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ فَإِنْ قَتَلَكَ فَإِنَّكَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قہید بن مطرف غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی ظالم مجھ پر حملہ کرتا ہے (تو میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نصیحت کر، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کو تین دفعہ منع کرے، اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کر، اس لڑائی میں اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو تو جنت میں جائے گا اور اگر تونے اسے قتل کر دیا تو وہ جہنم میں جائے گا۔
حدیث نمبر: 6216
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي قَالَ فَانْشُدِ اللَّهَ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ قَالَ انْشُدِ اللَّهَ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ قَالَ فَانْشُدِ اللَّهَ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ قَالَ فَقَاتِلْ فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی آدمی ظلم کرتے ہوئے میرا مال لینا چاہے تو میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ نہ مانے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ پھرنہ مانے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیسری بار اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کی بار اس سے لڑائی کر، اور اگر اس لڑائی میں تو قتل ہو گیا توتو جنت میں جائے گا اور اگر وہ مارا گیا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔
حدیث نمبر: 6217
عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ أَتَانِي رَجُلٌ يَأْخُذُ مَالِي قَالَ تُذَكِّرُهُ بِاللَّهِ تَعَالَى قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ذَكَّرْتُهُ بِاللَّهِ فَلَمْ يَنْتَهِ قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ مِنِّي نَائِيًا قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالْمُسْلِمِينَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَحْضُرْنِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَعَجِلَ عَلَيَّ قَالَ فَقَاتِلْ حَتَّى تَحُوزَ مَالَكَ أَوْ تُقْتَلَ فَتَكُونَ فِي شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مخارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ،اس نے کہا: ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اورمیرا مال لینا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر میں اسے اللہ کا واسطہ دوں لیکن وہ باز نہ آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف حکمران سے مدد طلب کر۔ اس نے کہا: اگر حکمران دور ہو (اور اس تک رسائی ممکن نہ ہو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف دوسرے مسلمانوں سے فریاد رسی کر۔ اس نے کہا: اگر وہاں کوئی مسلمان بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھراس سے لڑ، یہاں تک کہ تو اپنے مال کی حفاظت کر لے یا آخرت کے شہداء میں سے ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں بڑی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں کہ جو آدمی کسی کا مال چھیننا چاہے یا اس کو قتل کرنا چاہے تو اس کو اللہ تعالی کا واسطہ دیا جائے اور وعظ و نصیحت کی جائے، ممکن ہے کہ اس سے اس پر اثر ہو جائے اور وہ اپنے ناپاک ارادے سے باز آ جائے، اگر یہ طریقہ بے فائدہ ثابت ہو تو کسی طریقے سے حکمران کو اطلاع دی جائے، بصورت ِ دیگر عام مسلمانوں کو مدد کے لیے پکارا جائے، اگر تینوں صورتیں کارگر ثابت نہ ہوں تو پھر لڑائی کے ذریعے اپنا دفاع کیا جائے، اگر مظلوم قتل ہو گیا تو وہ حکماً شہید ہو گا، یعنی آخرت میں اس کو شہید سمجھا جائے گا، لیکن دنیا میں اس کو عام میت کی طرح غسل دے کر کفن دیا جائے گا اور نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 6218
عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے، وہ شہید ہے۔
حدیث نمبر: 6219
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَةٍ فَهُوَ شَهِيدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظلم کے خلاف مارا جائے، وہ شہید ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ اگر مال کی مقدار کم ہو تو دفاعی مقابلہ کرنے سے بچنا چاہیے، اگرچہ نصوص عام ہیں اور ان میں کم یا زیادہ مقدار کا تعین نہیں کیا گیا، لیکن اگر خفیف مفسدت کو اختیار کر لیے جانے والا قانون دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ کم مقدار مال کے چھن جانے پر صبر کیا جائے اور جان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
اسی طرح اگر مال کو چھیننے کا ظلم حکمران کی طرف سے ہو تو پھر بھی صبر کرنا چاہیے۔
اسی طرح اگر مال کو چھیننے کا ظلم حکمران کی طرف سے ہو تو پھر بھی صبر کرنا چاہیے۔