حدیث نمبر: 6212
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءَ وَجُرْحَهَا جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ الْبَهِيمَةُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا وَالْجُبَارُ هُوَ الْهَدَرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَاء سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی کی کان یا کنویں میں کام کر رہا ہو اور وہ کان یا کنواں اس پر گر جائے اور وہ فوت ہو جائے، یا کوئی کسی کے کنویں میں گر کر مر جائے تو مالک ضامن نہیں ہو گا، اسی طرح اگر کسی کا چوپایہ کسی شخص کو مارتا ہے اور اس کا نقصان کر دیتا ہے تو چوپائے کا مالک ذمہ دار نہیں ہو گا۔ لیکنیہ مفہوم اس وقت تک ہے، جب تک مالک کا قصور نہ ہو، اگر وہ قصور وار ہو تو اس کی چٹی پڑے گی، مثلااگر مالک جان بوجھ کر جانور کو مارنے کے لیے چھوڑتا ہے، یا عام شاہراہ میں کنواں کھود دیتا ہے۔ علی ہذا القیاس
حدیث نمبر: 6213
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ مَا أَصَابَتِ الْمَاشِيَةُ بِاللَّيْلِ فَهُوَ عَلَى أَهْلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک اونٹنی لوگوں کی کھیتیوں میں چرنے کی عادی تھی، ایک دن وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اس کو خراب کیا، اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ دن میں باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی نگہداشت کرنا ان کے مالکوں کا کام ہے، اور جانوررات کو جو نقصان کریں گے، اس کے ذمہ داران کے مالک ہوں گے۔
حدیث نمبر: 6214
عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظُهَا بِالنَّهَارِ وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظُهَا بِاللَّيْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حرام بن محیصہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک باغ میں داخل ہوئی اور اس کو خراب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ دن کے وقت (باغ وغیرہ جیسے) مال کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کریں اور رات کے وقت مویشیوں کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔
وضاحت:
فوائد: … دن کو مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا یا چرایا جاتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ خیال رکھنے کے باوجود مویشی کسی دوسرے کے کھیت اور باغ میں گھس جائیں، لہٰذا کھیت اور باغ کے مالک کو حکم دیا گیا ہے کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت کرنا اس کی اپنی ذمہ داری ہے، لیکن رات کو باغ کے مالک کے لیے نا ممکن تھا کہ وہ اپنے کھیت کی حفاظت کرے، اس لیے مویشیوں کے مالکوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات کو اپنے جانوروں کو باندھ کر رکھیں، وگرنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔