کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5911
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَلَدِ وَوَالِدِهِ فِي الْبَيْعِ فَرَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے (غلاموں کی) تجارت کرتے ہوئے اولاد اور اس کے والدین کے درمیان تفریق ڈال دی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق ڈال دے گا۔
حدیث نمبر: 5912
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَدْرِكْهُمَا فَأَرْجِعْهُمَا وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان کو بیچ تو دیا، لیکن ان کے درمیان تفریق کر دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو پا اور ان کو لوٹا اور ان کو فروخت نہ کر مگر اکٹھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس سے روک دیا اور بیع کو ردّ کر دیا۔ (ابوداود: ۲۶۹۶)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی اور اس کی اولاد کے درمیان اور بہن بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا درست نہیں ہے، خواہ بیع کے ذریعے ہو یا ہبہ وغیرہ کے ذریعے، باپ کو ماں پر قیاس کیا جائے گا۔
اہل علم کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ چھوٹے بچے اور اس کی ماں میں جدائی ڈالنا درست نہیں ہے۔ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بچہ یا بچی بالغ ہو جائے تو جدائی ڈالنا درست ہے: سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوۂ فزارہ کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے ہر طرف سے دشمنوں پر حملہ کیا، میں نے دشمنوں میں سے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی، اس میں بچے اور عورتیں بھی تھے، میں نے ان پر تیرچلائے اور وہ کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو لے کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک خاتون تھی، اس نے خشک چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، جو عربوں میں حسین ترین تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ مجھے دے دی، جب میں مدینہ منورہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: ’’یَا سَلَمَۃُ! ھَبْ لِیَ الْمَرْأَۃَ۔‘‘ … ’’اے سلمہ! وہ خاتون مجھے ہبہ کر دو۔‘‘ میں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت پسند ہے، لیکن ابھی تک میں نے اس کا کپڑا نہیں اٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات بازار میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرمائی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا کپڑا تک نہیں اٹھایا اور اب وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو مکہ والوں کی طرف بھیج دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو مسلمان قیدی تھے، اس عورت کو ان کے فدیے میں دے دیا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۵۵، ابوداود: ۲۶۹۷)
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس ماں بیٹی کے درمیان جدائی ڈال دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برقرار رکھا، جبکہ یہ بیٹی بالغ تھی۔ امام ابو داود نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: باب الرخصۃ فی المدرکینیفرق بینھم (بالغ غلاموں میں تفریق ڈال دینے کی رخصت کا بیان)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی اور اس کی اولاد کے درمیان اور بہن بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا درست نہیں ہے، خواہ بیع کے ذریعے ہو یا ہبہ وغیرہ کے ذریعے، باپ کو ماں پر قیاس کیا جائے گا۔
اہل علم کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ چھوٹے بچے اور اس کی ماں میں جدائی ڈالنا درست نہیں ہے۔ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بچہ یا بچی بالغ ہو جائے تو جدائی ڈالنا درست ہے: سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوۂ فزارہ کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے ہر طرف سے دشمنوں پر حملہ کیا، میں نے دشمنوں میں سے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی، اس میں بچے اور عورتیں بھی تھے، میں نے ان پر تیرچلائے اور وہ کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو لے کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک خاتون تھی، اس نے خشک چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، جو عربوں میں حسین ترین تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ مجھے دے دی، جب میں مدینہ منورہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: ’’یَا سَلَمَۃُ! ھَبْ لِیَ الْمَرْأَۃَ۔‘‘ … ’’اے سلمہ! وہ خاتون مجھے ہبہ کر دو۔‘‘ میں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت پسند ہے، لیکن ابھی تک میں نے اس کا کپڑا نہیں اٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات بازار میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرمائی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا کپڑا تک نہیں اٹھایا اور اب وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو مکہ والوں کی طرف بھیج دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو مسلمان قیدی تھے، اس عورت کو ان کے فدیے میں دے دیا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۵۵، ابوداود: ۲۶۹۷)
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس ماں بیٹی کے درمیان جدائی ڈال دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برقرار رکھا، جبکہ یہ بیٹی بالغ تھی۔ امام ابو داود نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: باب الرخصۃ فی المدرکینیفرق بینھم (بالغ غلاموں میں تفریق ڈال دینے کی رخصت کا بیان)