کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
حدیث نمبر: 5902
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ يَتَنَاجَشُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے یا لوگ بیع نجش کریں۔
وضاحت:
فوائد: … بیع نجش: ایسے شخص کا سودے کی قیمت میں اضافہ کرنا جو خود تو اسے خریدنا نہ چاہتا ہو، لیکن کسی اور کو اس میں پھنسانا چاہتا ہو۔ یہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اس باب میں مذکورہ زیادہ تر قسمیں وضاحت کے ساتھ پہلے گزر چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5902
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2140، ومسلم: 1413 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7247»
حدیث نمبر: 5903
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَايَعُوا بِالْحَصَاةِ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَايَعُوا بِالْمُلَامَسَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تم لوگ کنکری کے ذریعے بیع کرو، نہ بیع نجش کرو اور نہ ملامسہ کی تجارت کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5903
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2140، ومسلم: 1413 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9929»
حدیث نمبر: 5904
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ أَجْرَهُ وَعَنِ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدور سے اجرت طے کیے بغیر اسے مزدوری پر رکھنے سے، بیع نجش سے، بیع ملامسہ سے اور پتھر پھینک کرتجارت کرنے سے منع فرمایاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5904
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: ’’نھي عن استئجار الاجير حتييبين اجره‘‘ وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه ، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من ابي سعيد۔ أخرجه ابودواد في ’’المراسيل‘‘: 181، وأخرجه موقوفا النسائي: 7/ 31 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11672»
حدیث نمبر: 5905
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے، الا کہ وہ اسے اجازت دے دے۔
وضاحت:
فوائد: … کسی کی بیع پر بیع کرنا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ فروخت کنندہ اور خریدار ایک سودا کر رہے ہوں، دونوں رضامند نظر آ رہے ہوں اور عقد کا معاملہ بالکل قریب پہنچ چکا ہو، اتنے میں تیسرا آدمی بیچ میں گھس جائے اور زیادہ قیمت لگا کر مالک کو اپنے طرف مائل کر لے۔ تیسرے آدمی کی اس کاروائی سے مسلمانوں میں دشمنی اور فساد بڑھے گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5142، ومسلم: 1412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4722»
حدیث نمبر: 5906
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ مِصْرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مصر میں منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی تجارت پر تجارت کرے، الا یہ کہ وہ اس کو چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5906
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1414 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17460»
حدیث نمبر: 5907
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا عَلَى الْغَنَائِمِ وَالْمَوَارِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مُزَایَدہ کی تجارت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے، ماسوائے غنیمت اور وراثت کے مالوں کے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’مُزَایَدہ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی ایک چیز کا ریٹ بتائے، پھر مالک دوسرے لوگوں سے پوچھے کہ اس سے زیادہ کون دے گا، کوئی دوسرا آدمییہ بات سن کر اس پہلے سے زیادہ قیمت لگا دے اور مالک اس کو فروخت کر دے، یہ بات تیسرے چوتھے آدمی تک بھی جا سکتی ہے۔ یہ جائز صورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا سودا کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5907
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه البيھقي: 5/ 344 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5398»
حدیث نمبر: 5908
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص بھی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی دو آمیوں نے آپس میں بھائو مقررکرلیا ہے۔ اسے دوبارہ تیسرا آدمی توڑ پھوڑکا شکار نہ کرے کیونکہ اس تجارت کااتعقاد ہوچکا ہے۔ اس طرح نفرت، بغض اور فساد معاشرہ میں جنم لیتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5908
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10861»
حدیث نمبر: 5909
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ اس کو فروخت کئے تھے جس نے قیمت زیادہ لگائی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5909
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال ابي بكر الحنفي۔ أخرجه النسائي: 7/ 259 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11990»
حدیث نمبر: 5910
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن حبذب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے یا اس کی بیع پر بیع کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5910
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 912، والبزار: 1420، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 6898 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20376»