کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5888
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عُثْمَانُ إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان!جب کچھ خریدو تو اسے ماپ لو اور جب کچھ فروخت کرو تو اسے بھی ماپا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ Vعَنْ بَیْعِ الطَّعَامِ حَتّٰییَجْرِیَ فِیْہِ الصَّاعَانِ، صَاعُ الْبَائِعِ وَصَاعُ الْمُشْتَرِیْ۔ … ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلے کی بیع سے منع فرمایا ہے، حتی کہ اس میں دو صاع جاری ہو جائیں، ایکفروخت کنندہ کا صاع اور دوسرا خریدار کا صاع۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۲۲۸)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خرید و فروخت کے وقت چیزوں کو ماپنا چاہیےیا ان کا وزن کرنا چاہیے، درج ذیل دونوں احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل بیان کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر عمل کرنے سے برکت ہو گی اور سوئے ظن کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5888
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 560»
حدیث نمبر: 5889
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ ثِيَابًا مِنْ هَجَرَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا فِي سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُونَ يَزِنُونَ بِالْأُجْرَةِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سوید بن قیس کہتے ہیں، میں اور مخرمہ عبدی ہجر کے علاقہ سے کپڑا لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت پر وزن کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک وزن کرنے والے سے فرمایا: وزن کر۔ اور جھکا کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5889
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3336، ابن ماجه: 2220، 3579، والترمذي: 1305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19098 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19308»
حدیث نمبر: 5890
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ بِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَأَرْجَحَ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوصفوان مالک بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ہجرت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شلوراخریدی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا وزن کرتے ہوئے میرے لیے پلڑے کو جھکایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5890
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3337، وابن ماجه: 2221، والنسائي: 7/ 284 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19309»
حدیث نمبر: 5891
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے اناج کو ماپا کرو، اس سے تمہارے لیے اس میں برکت ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل سے، اناج کی مقدار کے معلوم ہو جانے سے، ماپ تول کے وقت بسم اللہ پڑھنے سے اور خاص طور پر مدینہ کا مُدّ اور صاع استعمال ہونے سے اناج میں برکت ہو گی۔
لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا درج ذیل عمل اس حدیث ِ مبارکہ کا معارِض ہے: سیدہ کہتی ہیں: تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا فِی بَیْتِی مِنْ شَیْء ٍ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِیرٍ فِی رَفٍّ لِی، فَأَکَلْتُ مِنْہُ حَتّٰی طَالَ عَلَیَّ، فَکِلْتُہُ فَفَنِیَ۔ … جب رسول اللہ Vفوت ہوئے تو میرے گھر میں جاندار کے کھانے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی، ما سوائے جوؤں کی کچھ مقدار کے، جو میرے طاق میں پڑے تھے، میں ان سے کھاتی رہی،یہاں تک کہ کافی عرصہ بیت گیا، جب میں نے ان کو ماپا تو وہ ختم ہو گئے۔ (صحیح بخاری: ۳۰۹۷)
حافظ ابن حجر نے ان دو احادیث میں جمع تطبیق کی درج ذیل صورت نکالی ہے: سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ غلہ خریدتے وقت اس کو ماپا جائے اور اس ماپ کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کو قرار دیا جائے، جب اس حکم کی تعمیل نہیں ہو گی تو نافرمانی کی وجہ سے غلے میں بے برکتی پیدا ہو جائے گی۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل کا تعلق اس چیز سے ہے کہ ان کے ماپ کا دارومدار پرکھنے پر تھا، اس لیے بیچ میں نقص آ گیا تھا۔ دونوں احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ برکت کا تعلق صرف ماپنے سے نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ہے، اسی طرح ماپ کی وجہ سے اس وقت برکت ختم ہو جاتی ہے، جب ماپ کا مقصود حدیث کی معارضت اور اس کو پرکھنا ہو۔ (فتح الباری: ۴/ ۳۴۶)
علامہ سندھیl نے دونوں احادیث کو یوں جمع کیا ہے کہ آدمی گھر میں اناج ڈالتے وقت اس کو نہ ماپے، لیکن جب کھانے کے لیے وہاں سے نکالے تو اس کو ماپے۔
لیکن جو بات ہمیں راجح سمجھ آتی ہے کہ جب آدمی گھر میں اناج لائے تو اس کا ماپ کر کے لائے اور خرید کر لانے کی صورت میں بھی اس کو ماپنا تو پڑے گا، لیکن جب کھانے کے لیے وہاں سے نکالے تو بغیر ماپ کے نکالتا رہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی اپنے تھیلے میں ڈالی ہوئی کھجوروں کو ایسے ہی کھاتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5891
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2128 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23904»
حدیث نمبر: 5892
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا متن بھی بالکل مذکورہ بالا ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5892
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2232 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23906»
حدیث نمبر: 5893
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ أَوْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالِ تجارت لانے والے قافلوں کو راستے میں ملنے سے اور شہری کادیہاتی کیلئے خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5893
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه البخاري: 2165، ومسلم: 1517 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5010»
حدیث نمبر: 5894
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى تُهْبَطَ بِهَا وَفِي لَفْظٍ حَتَّى تَدْخُلَ الْأَسْوَاقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےراستے میں ہی سامان والوں سے ملنے سے منع فرمایا ہے، ہاں جب وہ سامان بازاروں میں پہنچ جائے (تو پھر تجارت کرنا ٹھیک ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5894
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5304»
حدیث نمبر: 5895
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَلَيْهِمْ إِذَا ابْتَاعُوا مِنَ الرُّكْبَانِ الْأَطْعِمَةَ مَنْ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يَتَبَايَعُوهَا حَتَّى يُؤْوُوهَا إِلَى رِحَالِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ قافلوں سے اناج خریدتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خریداروں کے پاس (اپنے نمائندے) بھیجتے جو ان کو اس چیز سے منع کرتے تھے کہ وہ اس مال کو اس وقت تک آگے فروخت نہ کریں، جب تک اس کو اپنے ٹھکانوں میں نہ لے جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5895
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2131، 2137، 6852، ومسلم: 1527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6191»
حدیث نمبر: 5896
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلَا يَبِيعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا تَشْتَرِطُ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ شہر ی، دیہاتی کا مال فروخت کرے، لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دو،اللہ تعالی بعض کو بعض کے ذریعے روزی دیتا ہے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلا ق کا مطالبہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5896
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2727، ومسلم: 1515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10657»
حدیث نمبر: 5897
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہری، دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے، لوگو ں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اللہ تعالی بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5897
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1522 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14392»
حدیث نمبر: 5898
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ شہری، دیہاتی کے لئے تجارت کرے، یہ ایک طویل حدیث ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1404»
حدیث نمبر: 5899
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى الْأَجْلَابُ حَتَّى تَبْلُغَ الْأَسْوَاقَ أَوْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امر سے منع کیا ہے کہ مالِ تجارت لانے والوں کو بازاروں میں پہنچنے سے پہلے ملا جائے اور یہ کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5899
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6929، 6930 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20380»
حدیث نمبر: 5900
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ فَإِنِ ابْتَاعَ مُبْتَاعٌ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال تجارت لانے والے قافلوں کو ملنے سے منع کیا، اگر کوئی آدمی اُن سے سامان خرید لیتا ہے تو جب اس سامان کو بازار میں لایا جائے، اس کے مالک کو واپس لینے کا اختیار ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5900
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1519، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9225»
حدیث نمبر: 5901
عَنْ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لَا يَكُونُ سِمْسَارًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ قافلوں کو (آگے جا کر) ملا جائے اور یہ کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اس کا مفہوم کیا ہے کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت نہ کرے؟ انھوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا دلّال نہ بنے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں دو امور کا ذکر ہے: سامان تجارت لانے والے قافلوں کو منڈی اور مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر نہ ملا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ خریدار بھاؤ کے بارے میں کوئی غلط بیانی کر کے سستے داموں ان سے سامان خرید لے، یہ دھوکہ دہی اور ضرر رسانی ہو گی۔ اگر کوئی آدمی کسی قافلے سے سامان خرید لیتا ہے تو جب مالک مارکیٹ میں پہنچیں گے، ان کو خریدار سے اپنا سامان واپس لے لینے کا اختیار ہو گا۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت نہ کرے، اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی احادیث موجود ہیں۔ جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نُھِیْنَا اَنْ یَّبِیْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَاِنْ کَانَ أَخَاہُ لِأَبِیْہِ وَأُمِّہِ … ’’ہمیں منع کیا گیا کہ کوئی شہری دیہاتی کا سامان فروخت کرے، اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو۔‘‘ (بخاری: ۲۱۶۱، مسلم: ۱۵۲۳، واللفظ لہ)
اس معاملے میں شہری عوام اور دیہاتی تاجر دونوں کا تحفظ مقصود ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ شہری لوگ دیہاتی تاجروں سے سستے داموں مال خرید لیتے ہیں، جس کا نقصان دیہاتیوں کو ہوتا ہے اور شہری دلالوں کی وجہ سے شہری عوام کو وہ سودا مہنگا خریدنا پڑتا ہے۔ اگر حکومت یہ سہولت مہیا کرے کہ شہری عوام براہِ راست دیہاتی لوگوں سے ان کامال خرید سکے تو اس میں دونوں کا فائدہ ہو گا اور اس طریقے سے شاید مہنگائی کا عفریت بھی ماند پڑ جائے۔
قارئین کرام! پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن۲۰۰۸ ء اور ۲۰۰۹ ء میں گندم کی کٹائی کے چند دنوں کے بعد شہری عوام گندم کے بحران میں کیوں مبتلا ہو گئے؟ اگر شریعت کے تجارتی قوانین پر عمل کیا جاتا اور زمینداروں کو شہروں میں گندم پہنچانے کے لیے مراکز مہیا کر کے شہری لوگوں کو ان سے گندم خریدنے کا موقع فراہم کیا جاتا تو ذخیرہ اندوزوں کے چہرے خود بخود ماند پڑ جاتے اور عوام کو بھی مہنگائی کے عذاب سے نجات مل جاتی۔ اس معاملے میں قصور وار دلال، آڑھتی اور ذخیرہ اندوز لوگ ہیں،یہ لوگ نہ زمینداروں کو وقت پر ادائیگی کرتے ہیں اور نہ عوام کی ضرورت کے وقت مال کو مارکیٹ میں لاتے ہیں۔
قطعی طور پر شریعت کا ہدف یہ نہیں ہے کہ چند لوگوں کے منافع کی وجہ سے ساری عوام مہنگائی میں مبتلا ہو جائے، اس باب کی حدیث کی مخالفت کی وجہ سے چند دلّال اور ذخیرہ اندوز قسم کے لوگ اربوں روپیہ کما لیتے ہیں، لیکن عوام دو کلو آٹا اور ایک کلو چاول کو ترس رہے ہوتے ہیں۔ سچ فرمایا فلاحِ انسانیت کے خیرخواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ((لَایَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوْا لنَّاسَ یَرْزُقِ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ مِنْ بَعْضٍ۔)) (مسلم: ۱۵۲۲) … ’’کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دو (اور ان کو آپس میں معاملات طے کرنے دو)، اللہ تعالی بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے۔‘‘ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔
شہریوں کی بہ نسبت زمینداروں کے دلوں میں وسعت زیادہ ہوتی ہے، وہ سبزی وغیرہ کی معمولی مقدار کے پیسے ہی وصول نہیں کرتے اور ان کے ہاں سبز دھنیا اور سبز مرچ جیسے ایٹموں کی سرے سے کوئی قیمت وصول ہی نہیں کی جاتی،اسی طرح دوسری سبزیاں بھی ان لوگو ں کے ہاں ارزاں قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔ لیکن دلالی اور آڑھتی نظام کی وجہ سے سبزی فروش کو یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ آج سبز دھنیا دس روپے سے کم نہیں ملے گا اور ایک کلو مولی پچاس روپے کی اور اور ایک کلو شلغم اسی (۸۰) روپے کے ملیں گے۔
زمیندار کو یہ شکوہ ہے کہ اس کی پیداوار کا ریٹ صحیح نہیں لگ رہا اور فصل پر کیے گئے اس کے اخراجات پورے ہی نہیں ہو رہے، جبکہ شہری عوام کو خورد و نوش کی اشیا کی کمی کا زبر دست سامنا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے؟ گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام میں شرعی ماحول کو فروغ دے اور ملک کی تجارت کو شریعت کے مرتب کردہ تجارتی قوانین کے سانچے میں ڈھالے اور ذخیرہ اندوزوں کی زبردست حوصلہ شکنی کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5901
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2158، 2274، ومسلم: 1521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3482»