کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5878
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَعْتُمْ طَعَامًا فَلَا تَبِيعُوهُ حَتَّى تَقْبِضُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جب کوئی اناج خریدو تو اسے قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 5879
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْتَرِي بُيُوعًا فَمَا يَحِلُّ لِي مِنْهَا وَمَا يَحْرُمُ عَلَيَّ قَالَ فَإِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں کچھ چیزیں خریدتا ہوں تو ان میں میرے لیے حلال کون سی ہیں اور حرام کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے اس وقت تک آگے فرو خت نہ کرو، جب تک اسے قبضہ میں نہ لے لو۔
حدیث نمبر: 5880
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بِزَيْتٍ فَسَاوَمْتُهُ فِيمَنْ سَاوَمَهُ مِنَ التُّجَّارِ حَتَّى ابْتَعْتُهُ مِنْهُ حَتَّى قَالَ فَقَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَرَبَّحَنِي فِيهِ حَتَّى أَرْضَانِي قَالَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَضْرِبَ عَلَيْهَا فَأَخَذَ رَجُلٌ بِذِرَاعِي مِنْ خَلْفِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَأَمْسَكْتُ يَدِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: شام کاایک آدمی تیل لے کرآیا، تاجر وں نے اس سے سود ے بازی شروع کردی، میں بھی ان میں شریک تھا اور میں نے اس سے خریدلیا، اسی مقام پر ایک آدمی خریدنے کے لئے سامنے آگیا، اس نے مجھے معقو ل منافع کی پیش کش کی اور اس نے مجھے سودا کرنے پر راضی کر لیا، پس میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تاکہ (سودا پکا کرنے کے لیے) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر ماروں، لیکن اتنے میں کسی نے پیچھے سے میرا بازو پکڑا، جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: جہاں کوئی چیز خریدو تو اس کو آگے فروخت کرنے سے پہلے اپنے گھر میں لے جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے، پس میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔
حدیث نمبر: 5881
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ صِكَاكَ التُّجَّارِ خَرَجَتْ فَاسْتَأْذَنَ التُّجَّارُ مَرْوَانَ فِي بَيْعِهَا فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَذِنْتَ فِي بَيْعِ الرِّبَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْتَرَى الطَّعَامُ ثُمَّ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى قَالَ سُلَيْمَانُ فَرَأَيْتُ مَرْوَانَ بَعَثَ الْحَرَسَ فَجَعَلُوا يَنْتَزِعُونَ الصِّكَاكَ مِنْ أَيْدِي مَنْ لَا يَتَحَرَّجُ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جن تاجروں کے پاس چیک تھے، وہ نکلے اور مروان سے ان چیکوں کو بیچنے کی اجازت لی، اس نے ان کو اجازت دے دی، اتنے میں سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: آپ نے تاجروں کو سود کی خرید و فروخت کی اجازت دے دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس سے منع فرمایا ہے کہ اناج کو خرید کر مکمل قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے، یہ سن کر مروان نے اپنے پہرہ داروں کو بھیجا اور انھوں نے ان لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننا شروع کر دیئے، جن پر تنگی نہیں پڑ رہی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ’’صِکَاک‘‘ کی واحد ’’صَکّ‘‘ ہے، اس کے معانی کتاب کے ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ امراء لوگوں کورزق اور عطیے دینے کے لیے کچھ رسیدیں تیار کرواتے تھے، لوگ ان کو حاصل کر کے جلد بازی کرتے ہوئے ان کو فروخت کرنا شروع کر دیتے تھے، پھر اس سے منع کر دیا گیا، کیونکہ اس میں قبضے میں لیے بغیر چیز کو فروخت کیا جا رہا تھا۔
حدیث نمبر: 5882
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَبْتَاعُ الطَّعَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِنَقْلِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عہد ِ نبوی میں اناج خریدتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے آدمی کو ہماری طرف بھیجتے تھے، جو ہمیں حکم دیتا تھا کہ یہ اناج جس مقام پر تم نے خریدا ہے، اب اس کو بیچنے سے پہلے کسی اور جگہ پر لے جاؤ۔
حدیث نمبر: 5883
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا زَادَ فِي رِوَايَةٍ بِكَيْلٍ أَوْ وَزْنٍ فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ماپ یا تول کراناج خریدے تو وہ اس کو اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک مکمل قبضے میں نہ لے لے۔
حدیث نمبر: 5884
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمْ كَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا طَعَامًا جُزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سالم اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ عہد ِ نبوی میں اندازے سے اناج خریدتے تھے تو ان کو اس امر پر مارا جاتا تھا کہ وہ اس کو اسی جگہ پر فروخت کرنا شروع کر دیں، (اور یہ حکم دیا جاتاتھا کہ) وہ اس کو پہلے اپنے گھروں کی طرف منتقل کریں۔
حدیث نمبر: 5885
عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا أَعْلَى السُّوقِ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہےکہ لوگ بازار کے اونچے حصہ میں بغیر تخمینے سے اناج کی خریدو فروخت کر تے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اناج کو وہاں سے منتقل کیے بغیر آگے بیچنے سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 5886
عَنْ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ طَعَامًا حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ كَيْفَ ذَلِكَ قَالَ ذَلِكَ دَرَاهِمُ بِدَرَاهِمَ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اناج خریدے اور اس کو مکمل قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنا شروع کر دے۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ درہم کے بدلے درہم کی بیع بن جاتی ہیں اور اناج کو پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5887
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ فَالطَّعَامُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِرَأْيِهِ وَلَا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: وہ چیزجوقبضہ میں لینے سے پہلے فروخت کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمائی ہے، وہ اناج ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا حکم اناج کی مانند ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث میں بیع کے اس اصول پر زور دیا گیا ہے کہ خریدار خریدی ہوئی چیز کو اپنے قبضے میں لے اور اس کو اس مکان سے منتقل کرے، جہاں سودا ہوا ہے، احادیث نمبر (۵۸۸۱، ۵۸۸۶) میں اس اصول کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ سودی تجارت ہے، کیونکہ اگر ایک آدمی (۱۰۰) درہم کے ساتھ گندم کا ایک ڈھیر خریدتا ہے اور پھر اسی مقام پر اس کو (۱۲۰) درہم میں فروخت کر دیتا ہے، تو گویا اس نے (۱۰۰) درہم کے عوض (۱۲۰) درہم بٹور لیے ہیں۔ ان احکام پر عمل کرنا اس وقت ممکن ہو گا، جب تاجروں کا مقصد صرف یہ نہ ہو کہ حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر زیادہ سے زیادہ زر جمع کیا جائے۔