کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
حدیث نمبر: 5875
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَإِذَا بَاعَ الرَّجُلُ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو ولی ایک عورت کا نکاح کردیں تو ان میں سے پہلے کا نکاح معتبر ہو گا اور جب ایک آدمی کوئی چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے تو وہ پہلے خریدار کی ہی ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5875
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لم يسمع الحسن من عقبة بن عامر شيئا۔ أخرجه ابوداود: 2088، وابن ماجه: 2344 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17482»
حدیث نمبر: 5876
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو ولی جس عورت کا نکاح کر دیں تو وہ عورت پہلے کے نکاح کے مطابق ہو گی اور جو شخص ایک چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے تو وہ پہلے خریدار کی ہی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … جب ایک آدمی ایک چیز ایک شخص کو فروخت کر دیتا ہے تو وہ اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور اس کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، اس لیے جب وہ آدمی وہی چیز دوسرے آدمی کو فروخت کرے گا تو اس کا یہ سودا باطل اور بے اثر قرار پائے گا اور وہ چیز اسی شخص کی ہو گی، جس کو پہلے سودے میں فروخت کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5876
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه۔ أخرجه ابوداود: 2088، والترمذي: 1110، وابن ماجه: 2190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20345»
حدیث نمبر: 5877
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَبِيعُهُ ثُمَّ أَبِيعُهُ مِنَ السُّوقِ فَقَالَ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی مجھ سے ایسی چیز کو فروخت کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ وہ چیز میرے پاس نہیں ہے، (اگر میں اس سے سودا کر کے بعد میں) بازار سے خرید کر اس کو پہنچا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تیرے پاس نہیں ہے، اس کا سودا نہ کر۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۵۸۷۳) کے فوائد میں اس حدیث کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5877
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3503، والترمذي: 1232، والنسائي: 7/ 289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15385»