کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ایک سودے میں دوسودوں کا مفہوم
حدیث نمبر: 5874
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عُربان سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیع عربون (بیانے کی بیع): بیع عربون یہ ہے کہ خریدار بائع کو بیع سے پہلے کچھ رقم اس شرط پر دے دے کہ اگر اس نے سودا چھوڑ دیا تو وہ رقم بائع کی ہو جائے گی، اس سے خریدار کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بائع پابند رہے اور اس چیز کو کسی اور کے ہاتھوں فروخت نہ کرے۔ اس بیع کے جواز اور عدم جواز، دونوں سے متعلقہ روایات ضعیف ہیں، اس لیے جب اس سے ممانعت کی معتبر دلیل نہیں ہو گی تو اس کو اصل پر محمول کرتے ہوئے جائز قرار دیا جائے گا۔
بیع عربان کے جواز کو تسلیم کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سودا چھوڑنے کی صورت میں، بائع بیانے کی رقم کیوں اور کس کے عوض ضبط کر رہا ہے؟ جب اس کا عوض کوئی نہیں تو کسی کا مال کسی چیز کے عوض کے بغیر لینا جائز نہیں۔
(عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5874
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الثقة الذي رواه عنه مالك۔ أخرجه ابوداود: 3502، وابن ماجه: 2192 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6723»