کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5856
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھلوں کو اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 5857
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ قَالَ فَقُلْتُ مَا يُوزَنُ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْزَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو بختری طائی سے روایت ہے کہ اس نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے پھل کو فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کاپھل اس وقت تک فروخت کرنے سے منع فرمایا، جب تک وہ کھانے اور وزن کے قابل نہ ہو جائے۔ ایک اور بندے نے کہا: وزن سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: اندازہ لگانا۔
وضاحت:
فوائد: … کھانا یا کھانے کے قابل ہونا، وزن کرنا، اندازہ کرنا، ان سب الفاظ سے مراد پھلوں کا پک کر بیع کے قابل ہو جاناہے۔
حدیث نمبر: 5858
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے پھلوں کو فروخت سے منع کیاہے،یہاں تک کہ وہ رنگ پکڑ جائے اور بالیوں کو بھی بیچنے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ دانہ مضبوط ہوجائے اور آفت سے امن ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فروخت کرنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیاہے۔
وضاحت:
فوائد: … آفت سے مراد وہ مصیبت ہے جو پھلوں اور کھیتیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 5859
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا قَالَ وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَلَاحُهَا قَالَ إِذَا ذَهَبَتْ عَاهَتُهَا وَخَلَصَ طَيِّبُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھل کی صلاحیت کے ظاہر ہونے سے پہلے اس کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی صلاحیت کا ظاہر ہونا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ا س کی آفت کا وقت ختم ہوجائے اور عمدہ پھل واضح ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 5860
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ فَقُلْتُ وَمَتَى ذَاكَ قَالَ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آفت کا ڈر ختم ہو جانے تک پھلوں کی بیع سے منع کیا، میں نے کہا: اور یہ کب ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جب ثریا ستارہ ظاہر ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا طَلَعَ النَّجَمُ صَبَاحًا رُفِعَتِ الْعَاھَۃُ عَنْ کُلِّ بَلَدٍ۔)) … ’’جب ستارہ صبح کے وقت طلوع ہو جاتا ہے تو ہر شہر سے آفت اٹھ جاتی ہے۔‘‘ ثریا ایک ستارہ ہے، موسم گرما کے شروع میںیہ ستارہ صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز میں سخت گرمی پڑتی ہے اور پھل پکنا شروع ہو جاتے ہیں، اس روایت کا اصل مقصود پھلوں کا پکنا ہے، ثریا ستارے کے طلوع کو پکنے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 5861
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھل کو پختہ ہونے سے قبل فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5862
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ قِيلَ لِأَنَسٍ مَا تَزْهُوَ قَالَ تَحْمَرُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا گیا،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے، کسی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: پکنے سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ان کا سرخ ہو جانا۔
حدیث نمبر: 5863
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقِحَ قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدٍ مَا تُشْقِحَ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے پھلوں میں سرخی اور زردی آنے سے پہلے ان کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ سلیم بن حیان کہتے ہیں: میں نے سعید سے کہا: تُشْقِح سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: پھلوں کا سرخ اور زرد ہو جانا اور اس قابل ہو جانا کہ ان کو کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 5864
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا ثِمَارَكُمْ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَتَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھلوں کو ان کی صلاحیت کے ظاہر ہونے اور آفت سے محفوظ ہو جانے سے پہلے فروخت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 5865
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھل کی صلا حیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کو فروخت نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 5866
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ وَالْحَبِّ حَتَّى يُفْرَكَ وَعَنِ الثِّمَارِ حَتَّى تُطْعَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے کھجوروں کی بیع سے، پکنے کے قریب ہونے سے پہلے اناج کی کی تجارت سے اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5867
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پختہ ہونے سے قبل پھل کو، کالا ہونے سے پہلے انگور کو اور سخت ہونے سے پہلے اناج کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ درختوں اور پودوں پر لگا ہوا پھل پکنے سے پہلے فروخت نہیں کیا جا سکتا، ہر پھل کے پکنے کی علامت اس کے ساتھ خاص ہے۔ کوئی بھی پھل یا فصل پکنے سے پہلے مختلف ادوار اور کیفیات سے گزرتی ہیں، بیچ میں ایسی کیفیتیں بھی آ جاتی ہیں کہ ان میں معمولی بارش ہو جانا اور ہوا کا چل جانا بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، جبکہ بعض کیفیتوں میں بارش اور ہوا کا چلنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، لیکن جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو پھر عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ گرمییا سردی، معتدل مقدار کے ساتھ بارش اور ہواؤں کا چل پڑنا یا رک جانا، اس سے فصل متاثر نہیں ہوتی، ہاں شاذ و نادر ایسے بھی ہوتا ہے کہ فصل پک جانے کے باوجود کسی بڑی آفت کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو جاتی ہے، ایسے میں کیا کرنا چاہیے، اس کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ بہرحال زمیندار لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیے اور کوئی فصل پکنے سے پہلے فروخت نہیں کرنی چاہیے۔