کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
حدیث نمبر: 5847
عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ بِتَمْرٍ وَلَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا قَالَ فَلَقِيَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَرَايَا قَالَ سُفْيَانُ الْعَرَايَا نَخْلٌ كَانَتْ تُوهَبُ لِلْمَسَاكِينِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَنْتَظِرُوا بِهَا فَيَبِيعُونَهَا بِمَا شَاءُوا مِنْ تَمْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درخت پر لگا ہوا پھل کھجوروں کے عوض فروخت نہ کیا جائے اور کوئی بھی پھل اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک اس کی صلاحیت نمایا ں نہ ہوجائے۔ پھر جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ملے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عرایا کی رخصت دی ہے۔امام سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرایا کی صورت یہ ہے کہ کھجور کا درخت مسکینوں کو ہبہ کیا جاتا، لیکن وہ زیادہ انتظار نہ کر سکتے تھے، اس لیے اسی درخت کے پھل کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی پھل لے کر بیچ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 5848
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے عو ض فروخت کرنے سے منع کیا، البتہ بیع عرایا کی رخصت دی ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ انداز ے سے پھل خرید لیا جائے، اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا لیں گے۔
حدیث نمبر: 5849
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُؤْخَذَ وَفِي لَفْظٍ أَنْ تُبَاعَ بِمِثْلِ خَرْصِهَا تَمْرًا وَفِي لَفْظٍ بِمِثْلِ خَرْصِهَا كَيْلًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عریہ کی رخصت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ اندازے سے ماپ شدہ کھجوروں کے عوض (درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لینا)، یہ لوگ (مالک) تازہ کھجوریں کھا لیں گے، (ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ)اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی رخصت نہیں دی۔
حدیث نمبر: 5850
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنَ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عریہ میں اجازت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض کھجور کے ایک دو درخت خریدتا ہے، پھر وہ ان درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں رخصت دی ہے۔
حدیث نمبر: 5851
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو حارثہ کے غلام بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے، اس بیع میں (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں عرایا والوں کو اجازت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 5852
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا يَقُولُ الْوَسْقَ وَالْوَسْقَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایاوالوں کو ایک سے چار وسق تک اجازت دی ہے کہ وہ اتنی مقدار تک اندازے سے بیچ سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5853
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسَقٍ أَوْ فِيمَا دُونَ خَمْسَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی ہے، اس میں پانچ وسق تک یا اس سے کم مقدار تک اندازے سے کے ساتھ پھل بیچا جا سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں بیع عرایا کے جواز کا بیان ہے، پچھلے باب میں بیان کیے گئے اصولوں کے مطابق تو یہ سودا بھی مزابنہ کی ایک صورت ہے، جس سے منع کیا گیا ہے، لیکن شریعت ِ مطہرہ نے لوگوں کی آسانی کے لیے کچھ شرطوں کے ساتھ بیع عرایاکی رخصت دی ہے، اس کی درج ذیل صورتیں ہیں: (۱) مالک، مسکین کو کھجوروں کے کچھ درختوں کا پھل ہبہ کر دیتا، لیکن جب وہ دیکھتا کہ مسکین انتظار نہیں کر سکتا ہے تو وہ اس مسکین سے ان درختوں پر لگی کھجوریں خشک کھجوروںکے عوض خرید لیتا۔
(۲) کچھ لوگوں کے پاس خشک کھجوریں موجود ہیں، لیکن وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہیں، اس لیے وہ خشک کھجوروں کے عوض میں باغ کے مالکوں سے درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لیتے ہیں۔
(۳) کھجوروں کا مالک ایک دو کھجوروں کا پھل کسی شخص کو ہبہ کر دیتا ہے، پھر وہ اس شخص کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا یا اس سے تکلیف محسوس کرتا ہے، پس وہ اس شخص کو خشک کھجوریں دے کر اس سے ہبہ کی کھجوریں خرید لیتا ہے۔
بیع عرایا کی شرطیںیہ ہیں کہ اس بیع کا تعلق اہل خانہ کے کھانے سے ہو، نہ کہ آگے تجارت کرنے سے، نیز اس سودے میں کھجوروں کی مقدار پانچ وسق یا اس سے کم ہو، بہتر یہ ہے کہ اس سودے کی مقدار کو پانچ وسق سے کم رکھا جائے۔پانچ وسق کی مقدار پندرہ من اورتیس کلو گرام ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں، پس پانچ اوساق میں تین سو صاع ہوگئے اور ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔ اس باب میں بیع ثُنْیا کا ذکر نہیں کیا گیا، ویسے پچھلے باب میں اس بیع کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
(۲) کچھ لوگوں کے پاس خشک کھجوریں موجود ہیں، لیکن وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہیں، اس لیے وہ خشک کھجوروں کے عوض میں باغ کے مالکوں سے درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لیتے ہیں۔
(۳) کھجوروں کا مالک ایک دو کھجوروں کا پھل کسی شخص کو ہبہ کر دیتا ہے، پھر وہ اس شخص کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا یا اس سے تکلیف محسوس کرتا ہے، پس وہ اس شخص کو خشک کھجوریں دے کر اس سے ہبہ کی کھجوریں خرید لیتا ہے۔
بیع عرایا کی شرطیںیہ ہیں کہ اس بیع کا تعلق اہل خانہ کے کھانے سے ہو، نہ کہ آگے تجارت کرنے سے، نیز اس سودے میں کھجوروں کی مقدار پانچ وسق یا اس سے کم ہو، بہتر یہ ہے کہ اس سودے کی مقدار کو پانچ وسق سے کم رکھا جائے۔پانچ وسق کی مقدار پندرہ من اورتیس کلو گرام ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں، پس پانچ اوساق میں تین سو صاع ہوگئے اور ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔ اس باب میں بیع ثُنْیا کا ذکر نہیں کیا گیا، ویسے پچھلے باب میں اس بیع کی وضاحت کی جا چکی ہے۔