حدیث نمبر: 5834
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُلَامَسَةُ يُمَسُّ الثَّوْبُ وَفِي لَفْظٍ لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَهُوَ طَرْحُ الرَّجُلِ الثَّوْبَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِلَى الرَّجُلِ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو صرف چھوا جائے اور اس کو (چیک کرنے کے لیے) دیکھا نہ جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع منابذہ سے بھی منع فرمایا ہے اور منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی سودا کر کے کپڑے کو دوسرے کی طرف پھینک دے، قبل اس کے کہ وہ اس کو الٹ پلٹ کرے یا ا س کو دیکھے۔
حدیث نمبر: 5835
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ فَذَكَرَ الشَّطْرَ الْأَوَّلَ مِنَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ وَلَا يُقَلِّبُهُ إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں اور دو قسم کی تجارتوں سے منع فرمایا ہے، (لباسوں کا ذکر دوسرے مقام پر کیاگیا ہے) دو تجارتیں یہ ہیں، ایک منابذہ اور دوسری ملامسہ، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کہے: جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں گا تو سودا پکا ہو جائے گا اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھوتا ہے، نہ وہ اس کو پہن کر چیک کرتا ہے اور نہ الٹ پلٹ کر کے، بس جب چھوتا ہے تو سودا پکا ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5836
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلَامَسَةُ أَلْقِ إِلَى وَأَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلْقَاءُ الْحَجَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: رہا مسئلہ دو تجارتوں کا تو ایک ملامسہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں: تو میری طرف ڈال دے اور میں تیری طرف ڈال دیتا ہوں اور دوسری تجارت پتھر کا ڈالنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں ملامسہ، منابذہ اور پتھر ڈالنے کی بیع کا ذکر ہے، مؤخر الذکر سے مراد کنکری کے ذریعے کیا جانے والا سودا ہے، جس کا ذکر پچھلے باب میں ہو چکا ہے۔ ملامسہ کی بنیاد چھونے پر اور منابذہ کی بنیاد پھینکنے پر ہے، دونوں دھوکے اور غرر پر مشتمل ہیں۔