حدیث نمبر: 5826
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل کے حمل کی تجارت سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5827
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَبِيعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ بِحَبْلِ حَبَلَةٍ وَحَبْلُ حَبَلَةٍ تُنْتَجُ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي تُنْتَجُهَا فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ جاہلیت والے لوگ اونٹ کا گوشت حمل کے حمل کے عوض فروخت کر دیتے تھے، اور حمل کے حمل کی تجارت کی وضاحت یہ ہے کہ ایک اونٹنی اپنے پیٹ والے بچے کو جنم دے، پھر وہ پیدا ہونے والی حاملہ ہو کر جس بچی یا بچے کو جنم دے گی، (اس کے ساتھ اس گوشت کو فروخت کرتے تھے) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس سے منع کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 5828
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَقَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَبْتَاعُونَ ذَلِكَ الْبَيْعَ يَبْتَاعُ الرَّجُلُ بِالشَّارِفِ حَبْلَ الْحَبَلَةِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھو کہ والی تجارت سے منع کیاہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ دورِ جاہلیت میں لوگوں کا طریقۂ تجارت تھا، اس کی صورت یہ تھی کہ آدمی حمل کے حمل کے عو ض اونٹنی فروخت کرتے تھے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حَبْلَ الْحَبْلَۃِ (حمل کا حمل): اس کی تین مشہور تفسیریں ہیں: (۱)آدمی کا اس شرط پر اونٹنی خریدنا کہ اس کی قیمت اس وقت دے گا، جب اونٹنی بچہ جنے گی، پھر وہ بچہ جو اونٹنی کے پیٹ میں ہے وہ آگے ایک بچہ جنے گا۔ (۲) مادہ کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ پیدائش کے بعد جوان ہو کر جو بچہ جنے گا اس کی بیع کرنا۔ (۳) اس قیمت پر جانور دینا کہ یہ جو بچہ جنے گا، اس کا بچہ اس کو دینا ہو گا۔
ان تینوں تعریفات کے مطابق اس میں دھوکہ ہے اور معدوم و مجہول شے کی بیع ہے۔
ان تینوں تعریفات کے مطابق اس میں دھوکہ ہے اور معدوم و مجہول شے کی بیع ہے۔
حدیث نمبر: 5829
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ قَالَ أَيُّوبُ وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ قَالَ إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ إِلَّا بِكَيْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکہ والی تجارت سے منع فرما دیاہے۔ ایوب کہتے ہیں کہ یحیی بن ابی کثیر نے دھوکے والی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: غوطہ خور کی بیع دھوکے کا سودا ہے، بھاگے ہوئے غلام کی بیع دھوکہ ہے، بھا گے ہوئے اونٹ کے سودے میں دھوکہ دہی ہے، چوپائیوں کے پیٹوں میں جوبچے ہیں، ان کی سودا بازی دھوکہ ہے، کانوں کی مٹی کا سودا دھوکے کا سودا ہے اور چوپائیوں کے تھنوں یعنی ان کے دودھ کا سودا بھی دھوکے پر مشتمل ہے، مگر ماپ کے ساتھ۔
وضاحت:
فوائد: … غوطہ خور کی بیع سے مراد یہ ہے کہ غوطہ خور کسی آدمی سے کہے: میں اس غوطے میں جو کچھ باہر لاؤں گا، وہ اتنی قیمت میں تیرا ہو گا، وہ مچھلی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی موتی وغیرہ بھی۔
حدیث نمبر: 5830
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَنْ بَيْعِ مَا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوپائیوں کے حملوں کو جنم لینے سے قبل خریدنے سے، ماپ کے بغیر تھنوں میں موجود دودھ کو خریدنے سے، بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، تقسیم سے پہلے غنیمتوں کو خریدنے سے، قبضے میں لینے سے پہلے صدقات کو خریدنے سے اور غوطہ خور کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … درج بالا دونوں احادیث میں بیان کی گئی بیع کی اقسام میں دھوکہ پایا جاتا ہے، معلوم نہیں کہ بھاگا ہوا غلام یا اونٹ کیسا ہے اور وہ پکڑا بھی جائے گا یا نہیں، اسی طرح حاملہ جانوروں کے پیٹوں میں کیا ہے، وہ مذکر ہے یا مؤنث، اسی طرح تام الخلقت ہے یا ناقص الخلقت، علی ہذا القیاس۔
حدیث نمبر: 5831
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّينَ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لاچار وں کی تجارت، دھوکہ کی تجارت اور پکنے سے پہلے کھجوروں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لاچاروں کی تجارت کی دو صورتیں ہیں: (۱)بندے کو کوئی چیز خریدنےیا بیچنے پر مجبور کر دیا جائے، یہ بیع فاسد ہو گی اور منعقد نہیں ہو گی۔ (۲) بندے کو کسی قرضے یا کفالت کی وجہ سے بیع کرنا پڑے، مثلا قرض خواہ اپنے قرض دار سے کہے کہ تو نے مجھے جو قرضہ دیناہے، اس کے عوض مجھے فلاں چیز بیچ دے، اس صورت میں قرض خواہ کی مرضی چلے گی اور قرض دار کو خسارہ اٹھانا پڑے گا۔
حدیث نمبر: 5832
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْتَرُوا السَّمَكَ فِي الْمَاءِ فَإِنَّهُ غَرَرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی میں موجو د مچھلیوں کا سودا نہ کرو، کیو نکہ اس میں دھوکہ ہے۔
حدیث نمبر: 5833
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَى وَبَيْعِ الْغَرَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریوں والی تجارت او ردھوکے والے سودے سے منع فرمایاہے۔
وضاحت:
فوائد: … کنکری کی بیع کی کئی صورتیں ہیں: (۱)فروخت کنندہ، خریدار سے کہے: جب میں کنکری پھینکو ں گا تو تجارت طے ہوجائے گی۔ (۲) خریدار کہے: میں کنکری پھینکوں گا، وہ جس کپڑے کو لگ جائے گی، وہ اتنی قیمت میں میرا ہو جائے گا۔ (۳) اسی طرح ہر وہ سودا جہالت کی وجہ سے اسی قسم میں شامل ہو گا، جس کی بنیاد کنکری پر ہو گی، مثلا زمین کے سودے میں فروخت کنندہ یا خریدار میں سے کوئی ایک کہتا ہے کہ وہ کنکری پھینکے گا، وہ جہاں تک پہنچے گی، اتنی زمین کا سودا اتنے میں ہو جائے گا، علی ہذا القیاس۔