کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5820
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے جیسے نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ولاء کی خرید و فروخت بھی نہیں کی جا سکتی۔
وَلاء: یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔
وَلاء: یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5821
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ وَلَا تَمْنَعُوا الْكَلَأَ فَيَهْزُلَ الْمَالُ وَيَجُوعَ الْعِيَالُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ زائد پانی فروخت کرو اور نہ گھاس کو ممنوع قرار دو، وگرنہ مویشی کمزور ہو جائیں اور اہل و عیال بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’فَیَہْزُلَ الْمَالُ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ مویشی کمزور پڑجائیں اور اس طرح ان کا دودھ کم پڑ جائے گا، جس کے نتیجے میں لوگ بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 5822
عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالنَّاسُ يَبِيعُونَ مَاءَ الْفُرَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ضرورت سے زائد پانی فروخت نہ کیا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، لوگ تو دریائے فرات کا پانی فروخت کرنے لگ گئے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ نے ایسی صورت دیکھی ہو کہ لوگ بغیر اجرت اور مشقت کے فرات سے پانی بھرکر لاتے ہوں، پھر ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرتے ہوں، پھر انھوں نے ان لوگوں کو اس طرح کرنے سے یہ حدیث بیان کی ہو۔
حدیث نمبر: 5823
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِيمَا أَحْسِبُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک مہاجر صحابی رسول کہتے ہیں: کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین غزوات میں شریک ہوا اور آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((اَلْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَائُ فِیْ ثَلَاثٍ: فِی الْمَائِ وَالْکَلَأِ وَالنَّارِ۔)) (ابوداود: ۳۴۷۷، ابن ماجہ: ۲۴۷۲) … ’’مسلمان تین چیزوںپانی، آگ اور گھاس میں شریک ہیں۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلَاثٌ لَا یُمْنَعْنَ: اَلْمَائُ وَالْکَلَأُ وَالنَّارُ۔)) (ابن ماجہ: ۲۴۷۳) … ’’تین چیزوں کو (دوسروں سے) نہیں روکا جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ۔‘‘
محمد بن اسماعیل صنعانی نے زائد پانی کی بیع کی نہی پر بحث کرتے ہوئے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرنا منع ہے، علمائے کرام کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ غیر مملوکہ زمین میں پانی کا چشمہ
پھوٹ پڑتا ہے، جس آدمی کی زمین اس چشمے کے قریب تر ہو گی، وہ اس کے پانی کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا، لیکن جب اس کی زمین سیراب ہو جائے گی تو اسے کوئی حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ اس پانی کو دوسروں سے روک سکے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی اپنی مملوکہ زمین میں کوئی گڑھا یا کنواں وغیرہ کھود کر پانی جمع کرتا ہے، ایسی صورت میں بھی جب وہ اپنے لیے، مویشیوں کے لیے اور زمین کے لیے پانی استعمال کر لیتا ہے، اور پانی پھر بھی بچ جاتا ہے، تو وہ اسے نہیں روک سکتا۔ (سبل السلام: ۳/ ۲۵)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلَاثٌ لَا یُمْنَعْنَ: اَلْمَائُ وَالْکَلَأُ وَالنَّارُ۔)) (ابن ماجہ: ۲۴۷۳) … ’’تین چیزوں کو (دوسروں سے) نہیں روکا جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ۔‘‘
محمد بن اسماعیل صنعانی نے زائد پانی کی بیع کی نہی پر بحث کرتے ہوئے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرنا منع ہے، علمائے کرام کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ غیر مملوکہ زمین میں پانی کا چشمہ
پھوٹ پڑتا ہے، جس آدمی کی زمین اس چشمے کے قریب تر ہو گی، وہ اس کے پانی کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا، لیکن جب اس کی زمین سیراب ہو جائے گی تو اسے کوئی حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ اس پانی کو دوسروں سے روک سکے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی اپنی مملوکہ زمین میں کوئی گڑھا یا کنواں وغیرہ کھود کر پانی جمع کرتا ہے، ایسی صورت میں بھی جب وہ اپنے لیے، مویشیوں کے لیے اور زمین کے لیے پانی استعمال کر لیتا ہے، اور پانی پھر بھی بچ جاتا ہے، تو وہ اسے نہیں روک سکتا۔ (سبل السلام: ۳/ ۲۵)
حدیث نمبر: 5824
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ عَسْبِ الْفَحْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5825
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ فِحْلَةَ فَرَسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کو نر گھوڑے کی جفتی کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری د و احادیث سے معلوم ہوا کہ سانڈ کا مالک اس کی جفتی کی قیمت وصول نہیں کر سکتا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔