کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5810
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَثَمَنِ الْخَمْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ز انیہ کی اجرت، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5810
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 2755، وأخرجه بنحوه النسائي: 7/ 309 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2094»
حدیث نمبر: 5811
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ قَالَ فَإِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حرام ہے، جب کوئی کتے کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لیے آئے تو اس کے ہاتھوں کو مٹی سے بھر دے۔
وضاحت:
فوائد: … یہاں مٹی سے مراد محرومی اور ناکامی ہے، یعنی کتے کی قیمت لینے والے کو کچھ نہ دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5811
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 3482 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2512»
حدیث نمبر: 5812
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ إِلَّا الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے، ما سوائے سد ھائے ہوئے شکاری کتے کی قیمت کے۔
وضاحت:
فوائد: … شواہد سمیت اس حدیث اور درایت کا تقاضا یہ ہے کہ شکاری کتے کی قیمت لینا جائز ہے، کیونکہ مختلف احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شکاری کتا پالنا جائز ہے اور دوسری مباح چیزوں کی طرح ایسی چیز کی قیمت جائز ہوتی ہے، جیسا کہ امام ابو جعفر طحاوی نے (شرح المعانی: ۲/ ۲۲۵۔۲۲۹) میں اس مسئلہ کی تحقیق پیش کی ہے، آپ کو چاہیے کہ اس کا مراجعہ کر لیں، وہ اہم بحث ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5812
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 190، 309 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14464»
حدیث نمبر: 5813
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5813
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1569، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14706»
حدیث نمبر: 5814
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَهُوَ الْقِطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلی کی قیمت وصول کرنے سے منع کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا مفادیہی ہے کہ بلی کو کھا نا اور اس کی قیمت وصو ل کرنا جائز نہیں، کیو نکہ یہ گھر وں میں عام طور پر چکر لگاتی رہتی ہے اس کی قیمت کھانے کی اجازت دے دی جاتی تو بے کاری اور فضول پن کا معاشر ہ شکار ہو جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5814
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1480، والترمذي: 1280، وابن ماجه: 3250 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14826»
حدیث نمبر: 5815
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5815
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14213»
حدیث نمبر: 5816
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عمر و رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجر ت اور نجومی کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5816
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2237، 2282، ومسلم: 1567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17216»
حدیث نمبر: 5817
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ طُعْمَةٌ جَاهِلِيَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ یہ جاہلیت کاکھانا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں کتے کی قیمت کو جاہلیت کی خوراک قرادیاہے۔ یہ چو نکہ جاہلیت کا کا م ہے اور خبیث وناجائز کاروبار ہے اس لئے ہماری شریعت نے اسے جاہلیت کا کھانا اور حرام کہاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح دون قوله: ’’طعمة جاھلية‘‘ وھذا اسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد المدني، وابو اويس ضعيفيعتبر به ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14862»
حدیث نمبر: 5818
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ بَيْعُ الْمُغَنِّيَاتِ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ وَأَكْلُ أَثْمَانِهِنَّ حَرَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گانے والیوں کی خرید و فروخت، ان کی کمائی اور ان کی تجارت اور ان کی قیمت حرام ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جب کسی لونڈی کو لونڈی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ گانے والی کی حیثیت سے فروخت کیا جائے تو اس کی قیمت ناجائز ہو گی، اس تجارت کا انحصار نیت پر ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5818
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر الافريقي وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني ضعيفان۔ أخرجه الترمذي: 1282، وابن ماجه: 2168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22522»
حدیث نمبر: 5819
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَمَنُ الْحَرِيسَةِ حَرَامٌ وَأَكْلُهَا حَرَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوری شدہ بکری کی قیمت اور اس کو کھانا حرام ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس بکری کو ’’حَرِیْسَۃ‘‘ کہتے ہیں، جو ابھی تک اپنے باڑے تک نہ پہنچ پائے کہ اس کو رات پا لے اور ’’اِحْتِرَاس‘‘ کے معنی چراگاہ سے چوری کرنے کے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5819
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف يحيي بن يزيد وابيه ولجھالة بشر بن ابي صالح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8388»