کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 5796
أَنَّ يَعْلَى بْنَ سُهَيْلٍ مَرَّ بِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ يَا يَعْلَى أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ بِعْتَ دَارَكَ بِمِائَةِ أَلْفٍ قَالَ بَلَى قَدْ بِعْتُهَا بِمِائَةِ أَلْفٍ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَاعَ عُقْرَةَ مَالٍ سَلَّطَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا تَالِفًا يُتْلِفُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جب سیدنایعلی بن سہیل رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے قریب سے گزرے تو انھوں نے کہا: اے یعلی !مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ نے اپنا مکان ایک لاکھ میں فروخت کردیاہے، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے واقعی ایک لاکھ میں بیچا ہے، سیدنا حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنی جاگیر فروخت کردیتا ہے، تو اللہ تعالی اس پر ایک آفت مسلط کر دیتا ہے، وہ اس کے مال کو تلف کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5796
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن ابي المليح الھذلي من رجال ’’التعجيل‘‘۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/555، والطحاوي في ’’شرح المشكل‘‘: 3946 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20246»
حدیث نمبر: 5797
عَنْ سَعِيدِ بْنِ حُرَيْثٍ أَخِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَاعَ دَارًا أَوْ عِقَارًا فَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهِ كَانَ قَمِنًا أَنْ لَا يُبَارَكَ لَهُ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا سعید بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا گھر یا جاگیر فروخت کرے اوروہ اس کی قیمت کو اسی طرح کی چیز میں صر ف نہ کرے تووہ اس لائق ہے کہ اس کے لیے اس کے اس سودے میں برکت نہ کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ بَاعَ دَاراً وَلَمْ یَجْعَلْ ثَمَنَھَا فِی مِثْلِھَا لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْھَا۔)) … ’’جس نے کوئی گھر فروخت کیا اور اُس کی قیمت اس جیسی چیز میں صرف نہ کی، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲/ ۹۷، صحیحہ:۲۳۲۷)
ہم نے خود بھی دیکھا اور ہمارے بڑوں نے بھی بتایا کہ جو آدمی گھر اور زمین بیچنا شروع کر دیتا ہے، اس کا نتیجہ اس کی کنگالی اور مفلسی کی صورت میں نکلتا ہے یا کم از کم کسی نہ کسی انداز میں ایسی رقم ضائع ہو جاتی ہے۔ الا ما شاء اللہ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5797
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بمتابعاته وشواھده۔ أخرجه ابن ماجه: 2490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18946»
حدیث نمبر: 5798
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُبَارَكُ فِي ثَمَنِ أَرْضٍ وَلَا دَارٍ لَا يُجْعَلُ فِي أَرْضٍ وَلَا دَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین اورگھر کی اس قیمت میں برکت نہیں کی جاتی، جس کو اسی طرح کی زمین اور گھر کو خریدنے میں خرچ نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5798
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، قيس بن الربيع الاسدي لينه احمد وابوزرعة، وقال احمد: روي احاديث منكرة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1650»