کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5788
عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخٍ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَقِيَهُ فَقَالَ لَهُ مَا مَنَعَكَ مِنْ قَبْضِ مَالِكَ قَالَ إِنَّكَ غَبَنْتَنِي فَمَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ أَحَدًا إِلَّا وَهُوَ يَلُومُنِي قَالَ أَوَذَلِكَ يَمْنَعُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاخْتَرْ بَيْنَ أَرْضِكَ وَمَالِكَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا وَبَائِعًا وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قریشیو ں کے غلام عطاء بن فروخ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے زمین خریدی، لیکن اس آدمی نے ملنے میں تاخیر کی، پھر جب وہ ملا تو اس (عثمان رضی اللہ عنہ ) نے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنا مال قبضے میں لینے سے روک رکھا ہے؟ کہا: تم نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے، میں جس بندے کو ملتا ہوں، وہ مجھے ملامت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: کیایہ رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ اپنی زمین اور مال میں سے ایک چیز کو پسند کریں، پھرانھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کو جنت میں داخل کرے گا،جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، تقاضا چکاتے وقت یا تقاضا کرتے وقت نرم خوئی اختیار کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معاملات میں نرم خوئی والی زندگی انتہائی آسان ہے، کاش ہم اللہ تعالی کا حکم سمجھ کر اس کو اختیار کر لیتے، مصیبتیہ ہے کہ جب ہم کسی شخصیت کی خاطر چند دن نرمی کا اختیار کرتے ہیں اور نتیجہ جلدی وصول نہیں ہوتا تو ہم پر مایوسی چھا جاتی ہے اور ہم یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ آئندہ ہم سختی کے ساتھ اپنے معاملات ڈیل کریں گے، ہمیں ہمارے معاملات میں دو چیزوں نے دھوکہ دیا ہے، ایک جلد باز مزاج اور دوسرا اللہ تعالی کی ذات مقدم نہ رکھنا، یعنی اللہ تعالی کا لحاظ کرتے ہوئے نرمی کو اختیار نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 5789
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَاشْتَرَى مِنِّي بَعِيرًا فَجَعَلَ لِي ظَهْرَهُ حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَتَيْتُهُ بِالْبَعِيرِ فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ وَأَمَرَ لِي بِالثَّمَنِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَحِقَنِي قَالَ قُلْتُ قَدْ بَدَا لَهُ قَالَ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ دَفَعَ إِلَيَّ الْبَعِيرَ وَقَالَ هُوَ لَكَ فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَجَعَلَ يُعْجِبُ قَالَ فَقَالَ اشْتَرَى مِنْكَ الْبَعِيرَ وَدَفَعَ إِلَيْكَ الثَّمَنَ وَوَهَبَ لَكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا اور مدینہ منورہ تک مجھے اس پر سواری کر لینے کا حق دیا، جب میں مدینہ پہنچا تو میں اونٹ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قیمت دینے کا حکم دیا، جب میں واپس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پیچھے ہولئے، میں نے خیال کیا کہ شاید آپ کوئی بات کرنا چاہتے ہوں، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضرہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ مجھے تھما دیا اور فرمایا: یہ بھی تیرے لیے ہے۔ پھر میرا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا، جب میں نے یہ ساری بات بتلائی تو وہ بڑا تعجب کرنے لگا، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھ سے اونٹ خریدا ہے اور پھر قیمت ادا کر کے اونٹ بھی ہبہ کر دیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، بالکل ایسے ہی ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلی اخلاق تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اونٹ پر سواری کرنے کا حق دیا، پھر اونٹ کی قیمت ادا کی اور بعد ازاں وہ اونٹ بھی دے دے،یہودی کے تعجب کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ انتہائی حریص تھے، اس لیے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حسن اخلاق پر حیرانی ہوئی۔
حدیث نمبر: 5790
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَفَرَ اللَّهُ لِرَجُلٍ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ سَهْلًا إِذَا بَاعَ سَهْلًا إِذَا اشْتَرَى سَهْلًا إِذَا قَضَى سَهْلًا إِذَا اقْتَضَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے ایک آدمی تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس بنا پر بخش دیا تھا کہ بیچتے وقت، خریدتے وقت، تقاضا دیتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 5791
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَيْ بِأَبِي وَأُمِّي إِنِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ ثَمْرَ مَالِهِ وَفِي لَفْظٍ مِنْ ثَمَرَةِ أَرْضِهِ فَأَحْصَيْنَاهُ وَحَشَدْنَاهُ لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا أَصَبْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُهُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ فَنَقَصْنَا عَلَيْهِ فَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُهُ مَا نَقَصْنَاهُ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَا يَضَعُ شَيْئًا قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّى لَا أَصْنَعُ خَيْرًا وَفِي لَفْظٍ تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ صَاحِبَ التَّمْرِ فَجَاءَهُ فَقَالَ أَيْ بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَا نَقَصُوا وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ مَا شِئْتَ فَوَضَعَ مَا نَقَصُوا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فداہوں! گزارش یہ ہے کہ ایک آدمی سے میں اور میرے بیٹے نے پھل خریدا ہے(اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اس کی زمین کے پھل سے)، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو وہ عزت دی ہے، جو دی ہے، جب ہم نے اسے جمع کیا اور ماپا تو اس سے صرف اتنی مقدار ہی حاصل ہوئی کہ جس سے صرف ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر حصول برکت کے لئے ہم کسی مسکین کو کھلا دیتے ہیں، اس کے علاوہ تو کوئی چیز باقی نہیں بچتی، اس پھل میں ہمارا نقصان ہوا ہے، بہرحال ہم نے جس سے خریدا ہے، اس سے اس نقصان کے بقدر معافی کامطالبہ کیا ہے، لیکن اس نے تو قسم اٹھا لی ہے کہ وہ قیمت میں کمی نہیں کرے گا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا اس نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ خیر والا کام نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ادھرکسی طرح پھل فروخت کرنے والے اس شخص کو اطلاع ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیتا ہوں،نیز آپ راس المال میں سے جو چاہتے ہیں، وہ بھی کم کر دیتا ہوں۔ پھر اس نے ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیا تھا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے یہ حدیث حکم سے سنی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کمال کردار ادا کیا، اس مسئلہ کی وضاحت حدیث نمبر (۵۸۶۹) میں آئے گی۔
حدیث نمبر: 5792
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ وَتَمْرُ الذَّخِيرَةِ الْعَجْوَةُ فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِهِ وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَرَجَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قَالَتْ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَاغَدْرَاهُ قَالَتْ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَاغَدْرَاهُ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ اذْهَبْ إِلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ فَقُلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ يَقُولُ لَكِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَالَتْ نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَابْعَثْ مَنْ يَقْبِضُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ اذْهَبْ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ قَالَ فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ قَالَتْ فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطَيَّبُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک وسق یعنی ساٹھ صاع ذَخِیرہ کی یعنی عجوہ کھجور کے عوض چند اونٹ خریدے، جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیمت کی ادائیگی کے لئے گھر تشریف لائے تو گھر میں کھجور یں ختم ہوچکی تھیں، پس باہر آکر اس یہاتی سے فرمایا: اللہ کے بندے!میں نے بسیار تلاش تو کیا ہے، مگر تیرے اونٹوں کی قیمت اداکرنے کے لئے مجھے کھجور یں نہ مل سکیں۔ اس دیہاتی نے تو یہ کہنا شروع کردیا: ہائے یہ کیاعہد شکنی ہے ؟ لوگوں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: اللہ تجھے ہلاک کرے، کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی عہد شکنی کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، حق لینے والا باتیں سناتا رہتاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات دوہرائی اور فرمایا: او اللہ کے بندے! ہم نے تجھ سے اونٹ خریدے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ہمارے پاس وہ چیزیں ہیں، جو ہم نے تجھ سے ان کا بھاؤ طے کیا اور تلاش بھی کیا ہے، لیکن وہ مل نہیں سکیں۔ یہ سن کر وہ پھر کہنے لگا: ہائے یہ کیا عہد شکنی ہے، لوگوں نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے کہا: اللہ تجھے ہلاک کرے، کیا اللہ کے رسول بھی دھوکہ کرتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کچھ نہ کہو، جس نے حق لینا ہوتا ہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو تین مرتبہ یہی بات دہرائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھاکہ وہ دیہاتی بات سمجھ نہیں پارہاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں کہ اگر تمہارے پاس ایک وسق عجوہ کھجوریں ہیں تو ہمیں ادھار دے دو، ہم ان شاء اللہ تجھے اداکردیں گے۔ وہ آدمی گیا اور اس نے آکر بتایاکہ وہ کہتی ہے کہ اس کے پاس کھجوریں ہیں، کوئی لے جانے والا آدمی بھیج دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جاؤ اور پوری طرح اس دیہاتی کو اس کا حق دلواؤ۔ پس وہ اِس کو لے گیا اور اس کا پورا پورا حق اس کو دلوا دیا، پھر وہ بدّو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ نے پورا حق ادا کیا اور بڑے اچھے طریقے سے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک وہ لوگ سب سے بہتر ہیں، جو خوشدلی سے پوری طرح ادائیگی کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم حسن اخلاق تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بدّو کے اس قدرسخت رویے کو برداشت کیا اور اُدھار لے کر اس کا حق ادا کیا، اگرچہ حق لینے والاباتیں تو کر سکتا ہے، لیکن اس کو مخاطَب کے آداب کا بھی لحاظ کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5793
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا فَقَالَ الرَّجُلُ مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَرْجُوكَ بِهَا فَقَالَهَا لَهُ ثَلَاثًا وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَيْ رَبِّ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِي الدُّنْيَا فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي أَتَجَاوَزُ عَنْهُ وَكُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي فَغُفِرَ لَهُ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اللہ تعالی کے حضور پیش کیاگیا، اللہ تعالی نے اس سے کہا: دنیا میں کون سا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے ذرہ برابر کوئی ایسی نیکی نہیں کی کہ جس کی امیدرکھ سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بار یہ سوال دہرایا، تیسری مرتبہ اس نے کہا: اے میرے رب ! تونے مجھے دنیا میں وافر مال دیا تھا، اس لیے میں لوگوں سے تجارتی لین دین کرتاتھا، اس میں میرا طریقہ یہ تھا کہ مالداروں پرآسانی کرتاتھااور تنگدستوں کو مہلت دیتا تھا، اللہ تعالی نے کہا: ہم تیرے ساتھ ایسا حسن سلوک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، فرشتو!میرے اس بندے سے درگزر کردو، پس اس کو معاف کر دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناہے۔
حدیث نمبر: 5794
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ لِيَقْبِضَ نَفْسَهُ فَقَالَ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ فَقَالَ مَا أَعْلَمُ قِيلَ لَهُ انْظُرْ قَالَ مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُهُمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے کی بات ہے کہ ایک آ دمی کے پاس ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لیے آ یا، اُس نے اس شخص سے پوچھا: تونے بھلائی کا کوئی کام کیا ہے؟ اس نے آدمی نے کہا:مجھے تو معلوم نہیں ہے، اس نے کہا: مزید دیکھ لے، اس نے کہا: کوئی نیک عمل ذہن میں نہیں آ رہا، البتہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا اور اندازے سے لین دین کرتا تھا اور مالدار کو مہلت دیتا تھا اور تنگدست سے تجاوز کر جاتا تھا، پس اللہ تعالی نے اس کو اس عمل کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا۔
حدیث نمبر: 5795
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى قُلْتُ لَهُ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی، تاہم وہ لوگوں کے ساتھ تجارتی لین دین رکھتاتھا اس نے اپنے نائب سے کہہ رکھا تھا جوآسانی سے دے سکے اس سے قیمت لے لینا اور جو تنگدست ہواس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں بھی معاف کردے، جب وہ فوت ہواتو اللہ تعالی نے اس سے پوچھا:کبھی کوئی عمل خیر کیاہے، اس نے کہا :نہیں ایک کام ہے کہ میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا تو میں جب اپنے نائب کو قر ضہ کے تقاضا کے لئے بھیجتاتواس سے کہہ رکھا تھا کہ جو آسان دست ہو اس سے لے لینا اور جو تنگدست ہو اس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جامیں نے بھی تجھے معاف کردیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں جن جن مواقع پر نرم خوئی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس وقت ہر تاجر، دوکاندار، قرض خواہ اور حقدار اس نرمی کی رعایت کرنے سے یکسر محروم ہے، الا ما شاء اللہ، ممکن ہے کہ کوئی رعایت کرنے والا ہو، لیکن عوام نے اس کو نہیں دیکھا، ہر قرض خواہ اور قرض دار کے مابین سختی اور تلخی کا معاملہ نظر آتا ہے، اس وجہ سے ہمارے مزاجوں میں تناؤ آ گیا ہے اور ہماری زندگیاں برکتوں سے خالی ہو گئی ہیں۔
قارئین کرام! کچھ افراد تو طبعی طور پر نرم ہوتے ہیں، اگر وہ کچھ سعی کریں تو ان کا مزاج آسانی سے شریعت کے تابع ہو سکتا ہے، لیکن سخت مزاج لوگوں کو شریعت کے مطابق نرم خوئی سے متصف ہونے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑے گی اور اس قسم کے ہر معاملے میں تکلف کر کے اپنے مزاج کو شریعت کے تابع کرنا ہو گا، نتیجتاً نہ قرضے لیٹ ہو جانے سے بے سکونی ہو گی اور نہ معاف کرنے سے معاملات رکیں گے، ایسے افراد کو یہ عقیدہ مضبوط کر لینا چاہیے کہ روزی کے اسباب کا مالک اللہ تعالی ہے، ہم خود نہیں ہیں۔
قارئین کرام! کچھ افراد تو طبعی طور پر نرم ہوتے ہیں، اگر وہ کچھ سعی کریں تو ان کا مزاج آسانی سے شریعت کے تابع ہو سکتا ہے، لیکن سخت مزاج لوگوں کو شریعت کے مطابق نرم خوئی سے متصف ہونے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑے گی اور اس قسم کے ہر معاملے میں تکلف کر کے اپنے مزاج کو شریعت کے تابع کرنا ہو گا، نتیجتاً نہ قرضے لیٹ ہو جانے سے بے سکونی ہو گی اور نہ معاف کرنے سے معاملات رکیں گے، ایسے افراد کو یہ عقیدہ مضبوط کر لینا چاہیے کہ روزی کے اسباب کا مالک اللہ تعالی ہے، ہم خود نہیں ہیں۔