حدیث نمبر: 5779
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عِقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعِقَارَ فِي عِقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ الَّذِي اشْتَرَى الْعِقَارَ خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ فَقَالَ الَّذِي بَاعَ الْأَرْضَ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا قَالَ فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ أَلَكُمَا وَلَدٌ قَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلَامٌ وَقَالَ الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ قَالَ أَنْكِحَا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے زمین خریدی، خریدنے والے شخص کو اس زمین میں ایک گھڑا مل گیا، جس میں سونا تھا،اس نے فروخت کرنے والے سے کہا: اپنا سونا لے لو، میں نے آپ سے زمین خریدی ہے، نہ کہ سونا، لیکن فروخت کرنے والے نے کہا: میں نے زمین بھی فروخت کی تھی اور جو کچھ اس میں تھا، وہ بھی بیچ ڈالا۔ چنانچہ وہ دونوں ایک آدمی کے پاس اپنا فیصلہ لے گئے، اس نے کہا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہاکہ اس کا لڑکا ہے اوردوسرے نے کہا کہ اس کی لڑکی ہے، اس نے کہا: تم اس لڑکے اور لڑکی کی آپس میں شادی کر دو اور یہ سونا ان پر خرچ کردو اور کچھ مقدار صدقہ کر دو۔
وضاحت:
فوائد: … ہماری شریعت میں ایسی چیز کے احکام مقرر ہیں، اگر وہ گری پڑی چیز ہے تو اس پر اس سے متعلقہ احکام لاگو ہو جائیں گے، اگر وہ جاہلیت کا دفینہ ہے، جس کو رِکاز کہتے ہیں تو اس کو پا لینے والا اس کا مالک بن جائے گا، البتہ اسی وقت پانچواں حصہ زکاۃ دینی ہو گی۔
حدیث نمبر: 5780
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلْبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا فَقَالَ أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً قَالَ فَأَتَيْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَهُ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا أَوْ قَالَ أَقُودُهُمَا فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فَسَاوَمَنِي فَأَبِيعُهُ شَاةً بِدِينَارٍ فَجِئْتُ بِالدِّينَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا دِينَارُكُمْ وَهَذِهِ شَاتُكُمْ قَالَ وَصَنَعْتَ كَيْفَ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ بِكُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي وَكَانَ يَشْتَرِي الْجَوَارِيَ وَيَبِيعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عروہ بن ابی جعد بار قی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ سامانِ تجارت والا قافلہ آیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک دینار دیا اور فرمایا: عروہ! قافلے میں جاؤ اور ہمارے لئے ایک بکری خرید لاؤ۔ پس میں قافلے میں گیا اور بکری کے مالک سے سودا کیا اور ایک دینار کی دوبکریاں خرید لیں، میں ان کو لا رہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک آدمی ملا، میرا اس سے سودا بن گیا اور میں نے اس کو ایک دینار میں ایک بکری فروخت کر دی، چنانچہ میں ایک بکری اور ایک دینار لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لیجئے اپنا دینار اوریہ لیجئے اپنی بکری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے سودا کیا ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ !اس کی تجارت میں برکت فرما۔ یہ دعا اس قدر قبول ہوئی کہ میں کوفہ میں کُنَاسَہ مقام میں کھڑا ہوتا تھا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کا نفع کما لیتا تھا۔ یہ صحابی لونڈیوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت میں نفع کی شرح مقرر نہیں ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت کا بیان ہے۔