کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
حدیث نمبر: 5756
عَنْ رَافِعِ بْنِ رِفَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ وَأَمَرَنَا أَنْ نُطْعِمَهُ نَوَاضِحَنَا وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا وَقَالَ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخُبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ رافع بن رفاعہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سینگی لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا اور ہمیں حکم دیاتھاکہ ہم یہ کمائی آبپاشی کے اونٹوں وغیرہ کو کھلادیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لونڈیوں کی کمائی سے بھی منع کیا تھا، البتہ جو وہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے کمائے (وہ جائز ہے)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے روٹی پکانے، روئی اون وغیرہ کو کاتنے یا ان کو دھنکنے کا اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 5757
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع کیاہے۔
حدیث نمبر: 5758
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْحَجَّامِ وَكَسْبِ الْمُومِسَةِ وَعَنْ كَسْبِ عَسْبِ الْفَحْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع کیاہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت، پچھنے لگانے والے کی کمائی، زانیہ کی کمائی اور سانڈکی جفتی کی کمائی سے منع فرمایاہے۔
وضاحت:
فوائد: … کتے کی کمائی اور سانڈ کی جفتی کی جائز اور ناجائز صورتوں پر بحث بالترتیب حدیث نمبر (۵۸۱۲) اور (۵۸۲۴) میںآئے گی۔
حدیث نمبر: 5759
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتے کی کمائی خبیث ہے، سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے اور زانیہ کی کمائی بھی خبیث ہے۔
وضاحت:
فوائد: … زانیہ کی کمائی سے مراد اس کی وہ کمائی جو وہ زنا اور بدکاری کے ذریعے کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 5760
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتے کی کمائی خبیث ہے، زانیہ کی کمائی بھی خبیث ہے اور سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے ۔
حدیث نمبر: 5761
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ جَدَّهُ حِينَ مَاتَ تَرَكَ جَارِيَةً وَنَاضِحًا وَغُلَامًا حَجَّامًا وَأَرْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَارِيَةِ فَنَهَى عَنْ كَسْبِهَا قَالَ شُعْبَةُ مَخَافَةَ أَنْ تَبْغِيَ وَقَالَ مَا أَصَابَ الْحَجَّامُ فَاعْلِفُوهُ النَّاضِحَ وَقَالَ فِي الْأَرْضِ ازْرَعْهَا أَوْ ذَرْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبایہ بن رفاعہ بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے دادا فوت ہوئے توتر کہ میں ایک لونڈی، کھیتی سیراب کرنے والا جانور، پچھنے لگانے والا ایک غلام اور کچھ زمین چھوڑی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ڈر سے لونڈی کی کمائی سے منع کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ زنا شروع کر دے، غلام کے بارے میں فرمایا: سینگی لگانے والا جو کچھ کمائے، وہ آبپاشی والے اونٹ وغیرہ کو کھلا دو۔ اور زمین کے بارے میں فرمایا: اس کو خود کاشت کر یا پھر اس کو چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 5762
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کمائی کو کھیتی سیراب کرنے والے جانور کو بطورِ چارہ کھلا دیا کرو۔
حدیث نمبر: 5763
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَدْ أَعْطَيْتُ خَالَتِي غُلَامًا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَارَكَ اللَّهُ لَهَا فِيهِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا أَنْ تَجْعَلَهُ حَجَّامًا أَوْ قَصَّابًا أَوْ صَائِغًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام دیا، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے اسے باعث برکت بنائے گا اورمیں نے خالہ سے کہاکہ اسے پچھنے لگانے والا، قصاب یاسنار نہ بنائے۔
حدیث نمبر: 5764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ الصَّوَّاغُونَ وَالصَّبَّاغُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑے جھوٹے سنار اور رنگ ساز ہیں۔
حدیث نمبر: 5765
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْذَبُ النَّاسِ الصُّنَّاعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے کاریگر اور ہنر مند ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پچھنے لگانے والے، قصاب،سنار، کاریگر،رنگ ساز اور دوسرے ہنر مند لوگوں کے پیشے جائز اور درست ہیں، ان کو ناپسندیدہ قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ سینگی لگانے والے اور قصاب کو گندے امور میں ملوث رہنا پڑتا ہے اور دوسرے پیشوں والوں کی اکثریت دھوکہ اور ملاوٹ کرتی ہے اور ان کا معاملہ ’’ہاتھی کے دانت دکھانے کو اور کھانے کو اور‘‘ کا مصداق ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5766
عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَيْبَةَ يَكْسِبُ كَسْبًا كَثِيرًا فَلَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ اسْتَرْخَصَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَأَبَى فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ فِيهِ وَيَذْكُرُ لَهُ الْحَاجَةَ حَتَّى قَالَ لَهُ لِتُلْقِ كَسْبَهُ فِي بَطْنِ نَاضِحِكَ وَفِي لَفْظٍ اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ وَفِي لَفْظٍ فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَفَلَا أَطْعَمُهُ يَتَامَى لِي قَالَ لَا قَالَ أَفَلَا أَتَصَدَّقُ بِهِ قَالَ لَا فَرَخَّصَ لَهُ أَنْ يُعْلِفَهُ نَاضِحَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محیصہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطیبہ نامی ان کا ایک غلام تھا، وہ بہت زیادہ کمائی کرتا تھا، رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب پچھنے لگانے والے کی کمائی لینے سے منع کیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سینگی لگانے کی کمائی کے بارے میں اجازت طلب کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخصت نہ دی، وہ (باصرار) بات کرتا رہا اور اپنی حاجت کا ذکر کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی کمائی کو اپنے آبپاشی کے اونٹوں وغیرہ کے پیٹ میں ڈال، ایک روایت میں ہے: تو اس کو اپنے جانوروں کے چارہ اور غلاموں کے کھانا کے طور پر استعمال کر لے۔ ایک روایت میں ہے: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے روک دیا، لیکن اس نے کہا: کیا میں یہ کمائی اپنے یتیموں کو نہ کھلا دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا میں صدقہ کر دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت دی کہ وہ زمین سیراب کرنے والے اونٹ وغیرہ کو چارہ کے طور پر کھلا دے۔
حدیث نمبر: 5767
عَنْ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ يُقَالُ لَهُ نَافِعٌ أَبُو طَيْبَةَ فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ خَرَاجِهِ فَقَالَ لَا تَقْرَبْهُ فَرَدَّدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اعْلِفْ بِهِ النَّاضِحَ وَاجْعَلْهُ فِي كَرِشِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محیصہ بن مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کاایک پچھنے لگانے والاغلام تھا، اس کو نافع ابو طیبہ کہا جاتاتھا، سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اس کی آمدنی کے بارے میں پوچھنے کے لئے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آمدنی کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس نے پھر سے سوال کیا، اب کی بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو، اپنے سیراب کرنے والے اونٹ وغیرہ کو بطورِ چارہ کھلا دے اور اس کو اس کے اوجھ میں ڈال دے۔
حدیث نمبر: 5768
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ اشْتَرَى غُلَامًا حَجَّامًا فَأَمَرَ بِمَحَاجِمِهِ فَكُسِرَتْ فَقُلْتُ لَهُ أَتَكْسِرُهَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عون بن ابی جحیفہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک سینگی لگانے والا غلام خریدا ،پھر انہوں نے سینگی لگانے کے اوزار کے متعلق حکم دیا تو اسے توڑ دیا گیا، میں نے ان سے کہا:کیا آپ اسے توڑ رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا : ہاں ! بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ اآلہ وسلم نے خون کی قیمت ، کتے کی قیمت اور فاحشہ عورت کی کمائی سے منع فرمایا ہے اور سود کھانے اور کھلانے والے ،جسم گودنے اور گدوانے والی عورت اور مصور پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 5769
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور پھر مجھے حکم دیا کہ میں سینگی لگانے والے کواس کی اجرت دوں۔