کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5744
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ هُبَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ مَالِ الْمَرْءِ لَهُ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ أَوْ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سوید بن ہبیرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا بہترین مال گھوڑی کا کثیر النسل بچہ ہے یا کھجوروں کی قطار ہے، جن کی پیوند کاری کی گئی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … کثیر النسل جانوروں اور زراعت میں گھروں کی خیر و برکت کے خزانے پوشیدہ ہیں، ایک آدمی نے تقریباً بیس کے قریب بھیڑ بکریاں پال رکھی تھیں، جب ہم نے اس کی گزر بسر کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ اس کے بیوی بچوں کا انحصار صرف ان بھیڑ بکریوں پر ہے، خوشی غمی کی صورت میں جب بھی کسی بڑے خرچ کی ضرورت پڑتی ہے تو ایک دو جانور بیچ کر گزارا کر لیتے ہیں اور روٹین کی زندگی تو دو تین مہینوں کے بعد دو تین بچے فروخت کر دینے سے گزرتی رہتی ہے، جبکہ وہ آدمی انتہائی خوشحال نظر آ رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5744
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اياس بن زھير من رجال التعجيل، لم يذكروا في الرواة عنه غير مسلم بن بديل ھذا، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، ثم انه مرسل ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6471، والبيھقي: 10/ 64، والبخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 1/ 439 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15939»
حدیث نمبر: 5745
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جب کھیتی کاشت کرتاہے یاپودالگاتاہے اور اس سے پر ندے، انسان اور حیوان کھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5745
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اياس بن زھير من رجال التعجيل، لم يذكروا في الرواة عنه غير مسلم بن بديل ھذا، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، ثم انه مرسل ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6471، والبيھقي: 10/ 64، والبخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 1/ 439 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12523»
حدیث نمبر: 5746
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ لَكِ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام مبشررضی اللہ عنہا، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5746
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرج نحوه مسلم: 1552 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27905»
حدیث نمبر: 5747
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ لَكِ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5747
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرج نحوه مسلم: 1552 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27905»
حدیث نمبر: 5748
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذَلِكَ الْغَرْسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوآدمی درخت لگاتاہے تو اس سے جو پھل نکلتا ہے، اللہ تعالی اس کے بقدر اس کو اجر عطا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5748
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عبد العزيز الليثي۔أخرجه الطبراني : 3968 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23917»
حدیث نمبر: 5749
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابودردا ء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میں جلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ اس آدمی نے دنیا اور اس کی آبادی کی مذمت والی نصوص ذہن نشین کی ہوئی تھیں، ان کی روشنی میں اس نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا کہ صحابی ٔ رسول کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دنیوی امور کی طرف متوجہ ہوں، آگے سے انھوں نے اپنی حسنِ نیت کے ذریعے اس کا جواب دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5749
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28055»
حدیث نمبر: 5750
عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَكَلَ مِنْهُ الطَّيْرُ أَوِ الْعَافِيَةُ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خلادبن سائب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کھیتی کاشت کرتاہے، پھر اس سے پرندے یا کوئی بھی رزق کا طلبگار اس سے کھاتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ کا باعث ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلْعَافِیۃ‘‘ کا اطلاق ہر اس جاندار پر ہوتا ہے، جو رزق طلب کرنے والا ہو، وہ انسان ہو، یا جانور، یا پرندہ، نیز ا س لفظ کا اطلاق جماعت پر بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5750
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16674»