کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے،¤نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 5720
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ بِهِ ثُمَّ يَجِيءَ فَيَضَعَهُ فِي السُّوقِ فَيَبِيعَهُ ثُمَّ يَسْتَغْنِيَ بِهِ فَيُنْفِقَهُ عَلَى نَفْسِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے کندھے پر رسی ڈال کر ایندھن کی لکڑیاں اٹھائے ہوئے بازار میں فروخت کے لیے لا رکھے اور اسی سے دولت کما کر اپنی ذات پرصرف کرے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو حسب ِ استطاعت یہی کوشش کرنی چاہیے کہ لوگوں سے سوال کرنے سے بچے اور اپنی آمدن کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرے، یہی غیرت و حمیت اور خیر و بھلائی والی زندگی ہے، جو مسلمان اس معاملے میں دوسرے پر انحصار کر لیتا ہے، اس کا وقار ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5720
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1471، 2373 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1407»
حدیث نمبر: 5721
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ وَقَالَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ثُمَّ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ خود پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو وہی حکم دیا ہے جو اپنے رسولوں کو دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، جو تم عمل کرتے ہو، بیشک میں اس کو جانتا ہوں۔ (سورۂ مومنون: ۵۱) نیزفرمایا: اے مومنو! تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، جو ہم نے تم کو بطورِ رزق عطا کی ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۲) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کیا، جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور غبار آلودہیں اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جبکہ اس کا کھانا، پینا، پہننا اور غذا حرام ہے، تو پھر اس کی دعا کیسے قبول کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … مسئلہ انبیاء و رسل کا ہو یا ان کے امتیوں کا، دونوں کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ حلال رزق کا اہتمام کریں، بصورتِ دیگر مسلمان کی عاجزانہ پکار کو بھی ردّ کر دیا جاتاہے، عصر حاضر کی ایک پریشانییہ بھی ہے کہ لوگ حلال و حرام کے درمیان تمیز نہیں کرتے اور جس کا جس مقام پر جو داؤ لگتا ہے، وہ شکار کر لینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5721
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8330»
حدیث نمبر: 5722
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلَ مِنْهُ وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ جو حرام مال کما کر اس کو خرچ کرتا ہے، وہ اس سے قبول نہیں ہوتا اور ایسے مال سے جو صدقہ کرتا ہے، وہ بھی قبول نہیں ہوتا اور ایسا مال جب اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ جہنم کی طرف اس کا زاد راہ ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی برائی کو برائی کے ذریعہ نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی کے ذریعے ختم کرتا ہے، بیشک ایک خبیث چیز دوسری خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت سنداً تو ضعیف ہے، لیکن اس میں جتنے امور کو بیان کیاگیا ہے، وہ شریعت کے مصدقہ اصولوں میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5722
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الصباح بن محمد البجلي۔ أخرجه الحاكم: 2/ 447، والبزار: 3562 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3672»
حدیث نمبر: 5723
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ حَرَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ آدمی اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ حلال مال حاصل کررہا ہے یا حرام۔
وضاحت:
فوائد: … کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ زمانے کی مسلمانوں کی کثیر تعداد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کو پورا کر دیا ہے، سرے سے لوگ حلال و حرام کے سلسلے میں سنجیدگی سے سوچنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، بظاہر عبادت گزار طبقہ سے متعلقہ افراد میں بھییہ صلاحیت کم ہو گئی ہے، آپ درج ذیل صورتوں پر غور کریں: بینک کی ملازمت، انشورنس کمپنی کی ملازمت، تمباکو اور دوسری نشہ آور چیزوں کا کا روبار، واضح سود اور رشوت والے معاملات، خرید و فروخت کے وقت عیب چھپانا اور جھوٹ بولنا، شیو اور تھریڈنگ اور پلکنگ کی کمائی، شیو کے آلات کا کاروبار، کتوں کی قیمت، خریدی ہوئی چیز کو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنا، ذخیرہ اندوزی، سونے کی خرید و فروخت میں ربا الفضل، بیوٹی پارلر کے جھانسے میں کئی حرام امور کا ارتکاب، فون اور موبائل کا بیلنس اور بجلی اور گیس چوری کرنا، کمپیوٹر اور ٹی وی وغیرہ کے ذریعے واضح حرام امور کا گھروںمیں اہتمام کرنا، جوا پر مشتمل واضح صورتیں، کئی بیماریوں میں آپریش کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کا مال و زر حاصل کرنے کے لیے آپریشن کر دینا، اکثر لوگوں کا اپنی ڈیوٹی اورذمہ داری کا حق ادا نہ کرنا۔
ہمارے معاشرے میں درج بالا حرام صورتیں نہ صرف موجود ہیں، بلکہ ہر دوسرا شخص ان کے استعمال کو اپنا حق سمجھنے لگ گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5723
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2059، 2083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9837»
حدیث نمبر: 5724
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَنِ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهَا دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ قَالَ ثُمَّ أَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہے: اگر کوئی آدمی دس درہم کا لباس خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کمائی کا ہوتو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو قبول نہیں کرے گا۔ پھر سیدناابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5724
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، بقية بن الوليد الحمصييدلس تدليس التسوية، وعثمان بن زفر الجھني مجھول الحال۔ أخرجه البيھقي في ’’الشعب‘‘: 6114، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5732»
حدیث نمبر: 5725
عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُشْتَبِهَاتٍ لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَمِنَ الْحَلَالِ هِيَ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ فَمَنْ تَرَكَهَا اسْتِبْرَاءً لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَاقَعَهَا يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ فَمَنْ رَعَى إِلَى جَنْبِ حِمًى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ وَلِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ وَإِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ساتھ ہی انھوں نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا: بیشک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، لیکن حلال و حرام کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں، بہت سارے لوگ ان کے بارے میں نا آشنا ہیں کہ آیا وہ حلا ل ہیں یا وہ حرام، جس نے ان امور کو ترک کر دیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرلی اور جوان میں گھس گیا، قریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہوجائے گا، اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کسی کی چراگاہ کے نزدیک جانور چر ائے گا تو ممکن ہے کہ وہ اس میں منہ ماری بھی کردیں، ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چیزیں اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں، انسان میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، اگر وہ صحیح ہو جائے تو سارا جسم صحیح ہوجاتاہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن و حدیث کی روشنی میں حلال اور حرام امور بالکل واضح ہیں، البتہ بیچ میں کچھ ایسے امور ہیں کہ واضح طور پر جن کی حلت یا حرمت کا فیصلہ نہیں کیا سکتاہے، ان ہی کو مشتبہ امور کہتے ہیں، اس حدیث مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان امور سے بھی اجتناب کیا جائے، تاکہ آدمی حرام کاموں سے مکمل طور پر محفوظ رہے، جو آدمی ان شبہات سے بچے گا، وہ اللہ تعالی کے ہاں اجر پائے گا اور جو ان کے لیے جواز پیدا کرے گا، وہ نادم ہو گا اور فضائل سے محروم رہے گا۔
دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۰۴)، اس حدیث میں ایک مشتبہ چیز کا بیان ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی کھجور کے بارے میں فرمایا: ’’اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۰۵۵)
حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی اصلاح کا دارومدار دل پر ہے، لہذا دل کو پر خلوص رکھا جائے اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5725
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2051، ومسلم: 1599، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18558»
حدیث نمبر: 5726
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، جو حرام سے پلا ہو گا، آگ اس کے زیادہ لائق ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّّ الَّذِیْنَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامیٰ ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا} ’’جولوگ ظلم سے یتیموںکا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔‘‘ (النسا ئ:۱۰)
حرام مال جہنم کا بہت بڑا سبب ہے، اس کی وجہ سے اللہ کی بارگاہ میں کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5726
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 4514، والحاكم: 4/ 422، والدارمي: 2776، وابو يعلي: 1999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14494»
حدیث نمبر: 5727
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرَةُ مِنَ الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقر یب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ جواپنی زبانوں کے ذریعے اس طرح کھائیں گے،جیسے گائے زمین سے چرتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث، حدیث نمبر (۵۷۲۳) کے ہم معنی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے گائے چرتے وقت خشک اور تر اور میٹھے اور کڑوے چارے کے مابین فرق نہیں کرتی، بلکہ سب کو تلف کر دیتی ہے، ایسی ہی بعض لوگ حلال و حرام اور حق و باطل میں کوئی تمیز نہیں کرتے، آج کل اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے نہ صرف سودی معاملات کو جائز سمجھ لیا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر اس میںملوث ہیں، جبکہ وہ منہج کے طور پر اپنے آپ کو برحق اور نمازی پرہیزگار بھی سمجھتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5727
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه البزار: 2081، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1517»
حدیث نمبر: 5728
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ كَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَارِيَةٌ تَبِيعُ اللَّبَنَ وَيَقْبِضُ الْمِقْدَامُ الثَّمَنَ فَقِيلَ لَهُ سُبْحَانَ اللَّهِ تَبِيعُ اللَّبَنَ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ فَقَالَ نَعَمْ وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا الدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوبکر بن ابی مریم کہتے ہیں کہ سیدنا مقدام بن معد ی کرب رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی دودھ فروخت کرتی تھی اور وہ دودھ کی قیمت لیتے تھے،کسی نے ان سے کہا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) دودھ لونڈی فروخت کرتی ہے اور قیمت تم لے لیتے ہو، انھوں نے جواباً کہا: یہ کوئی گناہ والی بات نہیں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ لوگوں پر ایساوقت آئے گا کہ جس میں صرف دیناراور درہم ہی کام آئیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … مرفوع حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا زمانہ بھی آئے گاکہ اس میں کمائی کرنا ہی لوگوں کے مفید رہے گا، وگرنہ وہ چوری، نفاق اور ظالم کی اعانت جیسے امور میں پڑ جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5728
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن ابي مريم، ولانقطاعه، ابو بكر بن ابي مريم لم يدرك المقدام بن معدي كرب ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 659، وفي ’’الاوسط‘‘: 2290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17333»