حدیث نمبر: 5681
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهَؤُلَاءِ الْخَمْسِ وَيُخْبِرُ بِهِنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ان پانچ کلمات کا حکم دیتے تھے اور بتاتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے مروی ہیں، وہ کلمات یہ ہیں: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں بخیلی سے، بزدلی سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس چیز سے کہ مجھے ادھیڑ عمر میں لوٹا دیا جائے، میں تجھ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں دنیا کے فتنے سے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں عذاب ِ قبر سے)۔
حدیث نمبر: 5682
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ قَالَ وَهَمْزُهُ الْمَوْتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرِيَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطان کے ہَمْز، نَفْث اور نَفْخ سے پناہ طلب کیا کرتے تھے، ہَمْز سے مراد اس کا جنون ہے، نَفْث سے مراد اس کا شعر ہے اور نَفْخ سے مراد اس کا تکبر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نَفْث کے لفظی معانی تھوک کی معمولی مقدار کے ساتھ پھونک مارنے کے ہیں، گویا کہ اشعار بھی شیطان کے پھونک مارنے یعنی وسوسہ ڈالنے کا نتیجہ ہیں۔ مراد وہ اشعار ہیں، جو شریعت کے مطابق قابل مذمت ہوں۔
حدیث نمبر: 5683
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ، وَغَلَبَۃِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَۃِ الْأَعْدَائِ۔ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں، قرض کے غلبہ سے، دشمن کے غلبہ سے اور دشمنوں کی خوشی سے)۔
وضاحت:
فوائد: … دشمنوں کی خوشی سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کی کسی مصیبت کو دیکھ کر دشمن خوش ہوں۔
حدیث نمبر: 5684
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَائٍ لَا یُسْمَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ، اَللّٰھُمَّ أَعُوذُ بِکَ مِنْ ہٰؤُلَائِ الْأَرْبَعِ (اے اللہ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں، سیر نہ ہونے والے نفس سے، نہ ڈرنے والے دل سے، قبول نہ ہونے والی دعا سے اور نفع نہ دینے والے علم سے۔ اے اللہ! میں ان چار چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں)۔
حدیث نمبر: 5685
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَوْلٍ لَا يُسْمَعُ وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ قَوْلٍ لَا یُسْمَعُ، وَعَمَلٍ لَا یُرْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا یَخْشَعُ، وَعِلْمٍ لَا یَنْفَعُ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں نہ سنی جانے والی بات (یعنی دعا) سے، نہ اٹھائے جائے جانے والے عمل سے، نہ ڈرنے والے دل سے اور نفع نہ دینے والے علم سے)۔
حدیث نمبر: 5686
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَدَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا قَالَ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هُنَّ وَنَحْنُ نُعَلِّمُكُمُوهُنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُبِکَ … … وَعِلْمٍ لَا یَنْفَعُ، وَدَعْوَۃٍ لَا یُسْتَجَابُ لَہَا (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کوتاہی سے، سستی سے، بڑھاپے سے، بزدلی سے، بخل سے اور عذابِ قبر سے، اے اللہ! تو میرے نفس کو تقوی عطا فرما اور اس کو پاک کر دے، تو اس کو سب سے بہترین پاک کرنے والا ہے، تو اس کا دوست بھی ہے اور مالک بھی، اے اللہ! میںتجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں نہ ڈرنے والے دل سے، سیر نہ ہونے نفس سے، نفع نہ دینے والے علم سے اور قبول نہ ہونے والی دعا سے)۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کلمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سکھاتے تھے اور ہم تم کو سکھا رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 5687
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْہَرَمِ، وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں، سستی سے، انتہائی بڑھاپے سے، چٹی سے اور گناہ سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں عذاب ِ قبر سے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے عذاب سے)۔
حدیث نمبر: 5688
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْہَرَمِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ چاہتا ہوں کوتاہی سے، سستی سے، بزدلی سے، انتہائی بڑھاپے سے، بخل سے اور عذاب ِ قبر سے اور میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے)۔
حدیث نمبر: 5689
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ قُولُوا وَفِي لَفْظٍ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو یہ دعا قرآن مجید کی سورت کی طرف سکھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: کہو:اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ میں آتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیرہ طلب کرتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے)۔
حدیث نمبر: 5690
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ۔ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ چاہتا ہوں فقیری سے، قلت سے، ذلت سے اور تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے)۔
حدیث نمبر: 5691
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ غَمًّا أَوْ هَمًّا أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا أَوْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَمُوتَ غَمًّا أَوْ ہَمًّا أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا، أَوْ أَنْ یَتَخَبَّطَنِی الشَّیْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَنْ أَمُوتَ لَدِیغًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ غم، یا ھَمّ کی وجہ سے، یا غرق ہو کر مروں، یا شیطان موت کے وقت مجھے خبطی بنا دے، یا میں ڈنگ لگنے کی وجہ سے مروں)۔
وضاحت:
فوائد: … غم اور ھَمّ میں کیا فرق ہے؟
حدیث نمبر: 5692
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَیِّئِ الْأَسْقَامِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں برص سے، جنون سے، کوڑھ سے اور بری بیماریوں سے )۔
حدیث نمبر: 5693
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ أَوْ جَهْدِ الْقَضَاءِ قَالَ سُفْيَانُ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تین چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: بدبختی کے پانے سے، دشمنوں کی خوشی سے، برے فیصلے سے یا مشقت میں ڈالنے والے فیصلے سے۔ امام سفیان کہتے ہیں: ان میں سے ایک چیز مجھ سے زیادہ ہو گئی ہے، لیکن مجھے یہ علم نہیں ہے کہ وہ کون سی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس جگہ جعد القضائ کے الفاظ ہیں جن کے معانی ترجمہ میں کیے گئے ہیں، جبکہ بخاری ومسلم میں ہے: جہد البلائ اس کا معنی ہے: آزمائش کی مشقت۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 5694
عَنْ أَبِي الْيَسَرِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ وَالتَّرَدِّي وَالْهَرَمِ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَمِّ وَالْغَرَقِ وَالْحَرِيقِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا وَأَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو یسر سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُبِک … … وَأَنْ أَمُوتَ لَدِیغًا۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں گرنے والی دیوار یا مکان کے نیچے آ جانے سے، بلند جگہ سے گرنے سے، انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں غم سے، غرق سے، جلنے سے، اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس چیز سے کہ شیطان میری موت کے وقت مجھے خبطی بنا دے اور اس سے کہ میں تیرے راستے میں پیٹھ پھیرتے ہوئے قتل کر دیا جاؤں اور اس سے کہ ڈس دئیے جانے کی وجہ سے میں مر جاؤں)۔
حدیث نمبر: 5695
عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَبَصَرِي وَقَلْبِي وَمَنِيِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناشکل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیں کہ میں جس سے نفع حاصل کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو:اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِی وَبَصَرِی وَقَلبِیْ وَمَنِیِّیْ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے کان، آنکھ، دل اور منی کے شرّ سے)۔
حدیث نمبر: 5696
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! اس شرک سے بچو، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی مخفی ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکیں گے، جبکہ وہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو:اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔ (اے اللہ! بیشک ہم اس چیز سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ تیرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائیں کہ جس کو ہم جانتے ہیں اور تجھ سے اس چیز کی بخشش چاہتے ہیں، جس کو ہم نہیں جانتے)۔
وضاحت:
فوائد: … شرک کی دو قسمیں ہیں: (۱) شرک ِاکبر،جس سے کفر لازم آتا ہے۔ (۲) شرکِ اصغر، اس سے مراد ریاکاری ہے۔ اس حدیث میں شرک اصغر سے منع کیا جا رہا ہے۔
حدیث نمبر: 5697
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبْعٍ وَمِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى غَيْرِ مَطْمَعٍ وَمِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا طَمَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے شدید حرص سے پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ عیب اور عار کی طرف لے جاتی ہے، اس شدید حرص سے بھی پناہ طلب کرو، جو بعید الحصول چیز کی طرف لے جاتی ہے اور ایسے مقام کی طمع سے پناہ طلب کرو، جہاں (حسّی یا شرعی طور پر) طمع کی ہی نہ جا سکتی ہو۔
حدیث نمبر: 5698
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قُلْتُ أَخْبِرِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ وَفِي لَفْظٍ عَنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلِّي أَدْعُو اللَّهَ بِهِ فَيَنْفَعَنِي اللَّهُ بِهِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ وَفِي لَفْظٍ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْهُ نَفْسِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ فروہ بن نوفل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے بارے میں بتائیں، ممکن ہے کہ میں بھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکاروں اور اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ، (اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کے شرّ سے پناہ طلب کرتا ہوں، جو میں نے کیا ہے اور اس کام کے شرّ سے بھی، جو میں نے نہیں کیا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْہٗ نَفْسِیْ۔ (اے اللہ! میں اس کام کے شرّ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، جو کام میرے نفس نے کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5699
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَزِعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَفَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَدَدْتُ يَدِي فَوَقَعَتْ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا مُنْتَصِبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں ایک رات کو گھبرا گئی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے اپنا ہاتھ لمبا کیا، پس میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر لگا، وہ گڑھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، … أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (میں تیری رضامندی کی پناہ میں آتا ہوں تیرے غصے سے، تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں تیری سزا سے، تیری (رحمت کی) پناہ چاہتا ہوں تیرے (عذاب) سے، میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے، جیسے تو نے اپنے نفس کی خود ثنا بیان کی ہے)۔
حدیث نمبر: 5700
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وتر کے آخر میں یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ، لَا أُحْصِی ثَنَائً عَلَیْکَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِک (اے اللہ! میں تیری رضامندی کی پناہ میں آتا ہوں تیرے غصے سے، تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں تیری سزا سے، تیری پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے، جیسے تو نے اپنے نفس کی خود ثنا بیان کی ہے)۔
حدیث نمبر: 5701
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعائیں کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ فَإِنِّی أَعُوذُ بِکَ … … وَالْہَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ (اے اللہ! پس بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے، قبر کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے، غِنٰی کے فتنے کے شرّ سے، فقیری کے فتنے کے شرّ سے، میں تیری پناہ پکڑتا ہوں دجال مسیح کے فتنے سے، اے اللہ میرے گناہوں کو دھو ڈال برف اور اولوںکے پانی سے اور میرے دل کو غلطیوں سے ایسے پاک کر دے، جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے، میرے اور میرے گناہوں کے مابین اس طرح دوری کر دے، جیسے تو نے شرق و غرب کے درمیان دوری رکھی ہے، اے اللہ! پس بیشک میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی سے، انتہائی بڑھاپے سے، گناہ سے اور چٹی سے)۔
حدیث نمبر: 5702
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ قَالَ وَكِيعٌ فِتْنَةُ الصَّدْرِ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ وَذَكَرَ وَكِيعٌ الْفِتْنَةَ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخیلی، بزدلی، عذابِ قبر، ذلیل ترین عمر اور سینے کے فتنے سے پناہ طلب کرتے تھے۔ امام وکیع نے کہا: سینے کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی اس حال میں مرے کہ اس نے مذکورہ برائیوں میں سے کسی کاارتکاب کیا ہو، لیکن ابھی تک توبہ نہ کی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سینے کے فتنے سے مراد دل کی سختی اور دنیا کی محبت ہے۔
حدیث نمبر: 5703
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَسُوءِ الْعَمَلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: بخیلی، بزدلی، سینے کا فتنہ، عذابِ قبر اور برا عمل۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ سُوء ِ الْعملِ کے الفاظ کاتب کی غلطی ہے، کیونکہ ابو داود کی روایت میں سُوء ِ الْعُمُرِ‘ ‘ کے الفاظ ہیں، اسی طرح ابو دواد کی ایک روایت میں،ابن ماجہ کی روایت میں اورمذکورہ بالا حدیث کے پہلے طریق والی روایت میں اَرْذَلِ الْعُمُر کے الفاظ ہیں۔