کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ دیا تھا
حدیث نمبر: 5678
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ فَهُوَ أَفْضَلُ لِآخِرَتِكَ وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ قَالَ لَا بَلِ ادْعُ اللَّهَ لِي فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَأَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَأَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضَى وَتُشَفِّعُنِي فِيهِ وَتُشَفِّعُهُ فِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو میں اس دعا کو مؤخر کر دیتا ہوں، یہ تیری آخرت کے لیے افضل ہو گا، اور اگر تو چاہتا ہے تو میں تیرے لیے دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: نہیں، بس آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا ہی کر دیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ، یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّی فِی حَاجَتِی ہٰذِہِ فَتَقْضِی وَتُشَفِّعُنِی فِیہِ وَتُشَفِّعُہُ فِیَّ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہوتاہے،جو کہ رحمت والے نبی ہیں، اے محمد! میں اپنی ضرورت پورا کروانے کے لیے آپ کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، پس (اے اللہ!) تو میری حاجت پوری کر دے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش میرے حق میں قبول فرما)۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے حق میں میرے سفارش قبول فرما۔
وضاحت:
فوائد: … ہم نے وَتُشَفِّعُنِی فِیہِ کے الفاظ کا ترجمہ الگ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے، اس کی وجہ دوسری روایات کا واضح متن ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5678
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 3578، وابن ماجه: 1385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17373»
حدیث نمبر: 5679
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک ایسا آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جس کی بینائی ختم ہو گئی تھی، … ۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5679
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17374»
حدیث نمبر: 5680
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ فَهُوَ خَيْرٌ فَقَالَ ادْعُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضَى لِي اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت عطا فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو میں دعا کر دیتا ہوں اور اگر تو چاہتا ہے تو میں اس کو مؤخر کر دیتا ہوں، اس میں تیرے لیے بہتری ہو گی۔ اس نے کہا: جی آپ دعا کر دیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوحکم دیا کہ وہ اچھے انداز میں وضو کرے، پھر دو رکعت ادا کرے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … … اَللّٰھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد، جو کہ رحمت والے نبی ہیں، کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! میں اپنی حاجت کو پورا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس (اے اللہ! تو میری حاجت پوری کر دے، اے اللہ! میرے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش قبول فرما)۔
وضاحت:
فوائد: … وسیلہ کا معنی ومفہوم: لغوی طور پر وسیلہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی ذات تک رسائی یا قرب حاصل کیا جا سکتا ہو۔ لغت عرب کی قدیم اور معروف کتاب الصحاح میں ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5680
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17372»