کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان جامع دعاؤں کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض صحابہ کو جن کی تعلیم دیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 5661
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ وَتَدْعُو بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ وَإِيمَانًا فِي خُلُقٍ حَسَنٍ وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ يَعْنِي وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سلمان خیر رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت فرمائی: بیشک اللہ کا نبی تجھے چند کلمات عطا کرنا چاہتا ہے، تو ان کے ذریعے رحمن سے سوال کرے گا، ان کے ذریعے اس کی طرف رغبت کا اظہار کرے گا اور رات اور دن کو ان کا ورد کرے گا، کہہ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ صِحَّۃَ إِیمَانٍ وَإِیمَانًا فِی خُلُقٍ حَسَنٍ،وَنَجَاحًا یَتْبَعُہُ فَلَاحٌ یَعْنِی وَرَحْمَۃً مِنْکَ وَعَافِیَۃً وَمَغْفِرَۃً مِنْکَ وَرِضْوَانًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے کمالِ ایمان کا، حسن اخلاق والے ایمان کا اور کامیابی والا مقصد پورا ہونے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے رحمت، عافیت، بخشش اور رضامندی کا سوال کرتا ہوں)۔
حدیث نمبر: 5662
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا عَمُّكَ كَبِرَتْ سِنِّي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ يَا عَبَّاسُ أَنْتَ عَمِّي وَلَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَكِنْ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ عِنْدَ قَرْنِ الْحَوْلِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے باپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کا چچا ہوں، اب میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، لہذا آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! تم میرے چچے تو ہو، لیکن میں تم کو اللہ تعالیٰ سے کفایت نہیں کر سکتا، البتہ تم اپنے ربّ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کیا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات دوہرائی، پھر جب وہ سال کے آخر میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی بات کی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا تھے، لیکن آخرت کے معاملے میں اتنا مقدس رشتہ بھی کسی کام نہیں آئے گا، وہاں معاملہ ذاتی نیکیوں اور برائیوں کا ہو گا۔ معافی سے مراد گناہوں کا معاف ہو جانا ہے اور عافیت سے مراد بیماریوں، آزمائشوں اور ضعف ِ ایمان سے سلامتی ہے۔
حدیث نمبر: 5663
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْقَيْظِ عَامَ الْأَوَّلِ سَلُوا اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ وَالْيَقِينَ فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو منبرِ رسول پر یہ کہتے ہوئے سنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا تو رونا شروع کر دیا، پھر یہ کیفیت دور ہونے کے بعد انھوں نے کہا: میں نے پچھلے سال گرمیوں کے اس شدید موسم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے معافی کا، عافیت کا اور ایمانِ کامل کا سوال کیا کرو۔
حدیث نمبر: 5664
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَمْ يُعْطَوْا فِي الدُّنْيَا خَيْرًا مِنَ الْيَقِينِ وَالْمُعَافَاةِ فَسَلُوهُمَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! لوگوں کو دنیا میں ایمانِ کامل اور عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیںکی گئی، لہذا تم اللہ تعالیٰ سے ان دونوں چیزوں کا سوال کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اس وقت دنیا والے جن جن چیزوں کو بہتر اور خیر والا سمجھ چکے ہیں اور ان کے لیے کوشاں بھی ہیں، وہ سب کچھ فنا ہونے والا اور ہاتھ سے نکل جانے والا ہے، اگر بقا ہے تو وہ ایمانِ کامل اور عملِ صالح کو ہے۔ بلاشک و شبہ دنیا کے لیے محنت کرنی چاہیے، لیکن دین کے تقاضوں سے غفلت برتنا، یہ دکھ بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی ہر متوقع اور غیر متوقع نعمت کے بغیر گزارا کیا جا سکتاہے، لیکن اگر گزارا نہیں تو وہ کامل ایمان اور نیک عمل کے بغیر نہیں ہے، کیونکہ آخرت کا انحصار اِن دو چیزوں پر ہے، اگر کوئی آخرت میںپھنس گیا تو دنیا کی نعمتیں کس کام آئیں گی۔
حدیث نمبر: 5665
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهُمَا فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أُعْطِيتَهُمَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی دوسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی تیسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا، اگر یہ دونوں چیزیں تجھے دنیا میں عطا کر دی گئیں اور پھر آخرت میں بھی دے دی گئیں تو تو کامیاب ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 5666
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلِ اللَّهَ تَعَالَى الْهُدَى وَالسَّدَادَ وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور راست روی کا سوال کر، اور ہدایت سے تیری مراد یہ ہو کہ سیدھے راستے کی طرف تیری رہنمائی کر دی جائے اور راست روی سے مراد یہ ہو کہ تیر کی طرح سیدھا کر دیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سَدَاد کے مختلف معانی ہیں، مثلا: استقامت، اعتدال، راست روی، قول و فعل کی درستگی، صداقت، حقانیت۔
جیسے تیر کو سیدھا کرنے میں بڑی توجہ دی جاتی ہے اور محنت بھی کی جاتی ہے، اسی طرح انسان کو اپنی زندگی کے تمام اقوال و افعال کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کسی معاملہ میں لا پرواہی نہیں برتنی چاہیے۔ جب آدمی ہدایت اور راست روی کا سوال کر رہا ہو تو اس وقت ان کے بھرپور معانی اس کے ذہن میںہونے چاہئیں۔
جیسے تیر کو سیدھا کرنے میں بڑی توجہ دی جاتی ہے اور محنت بھی کی جاتی ہے، اسی طرح انسان کو اپنی زندگی کے تمام اقوال و افعال کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کسی معاملہ میں لا پرواہی نہیں برتنی چاہیے۔ جب آدمی ہدایت اور راست روی کا سوال کر رہا ہو تو اس وقت ان کے بھرپور معانی اس کے ذہن میںہونے چاہئیں۔
حدیث نمبر: 5667
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ دُعَاءً وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ بِهِ أَهْلَهُ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ قُلْ كُلَّ يَوْمٍ حِينَ تُصْبِحُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ اللَّهُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلْفٍ فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْهِ مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَمَاتِ وَلَذَّةَ نَظَرٍ إِلَى وَجْهِكَ وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَأُشْهِدُكَ وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَكَ الْمُلْكُ وَلَكَ الْحَمْدُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ وَلِقَاءَكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةَ حَقٌّ وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ وَعَوْرَةٍ وَذَنْبٍ وَخَطِيئَةٍ وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک دعا کی تعلیم دی اور ان کو حکم دیا کہ وہ اس دعا کے معاملے میں ہر روز اپنے گھر والوں کا بھی خیال رکھے، (یعنی وہ سارے افراد روزانہ یہ دعا پڑھیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر روز صبح کے وقت کہو: میں (تیری اطاعت کے لیے) حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، اور میں حاضر ہوں، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، تیری طرف سے ہے ، تیرے ساتھ ہے اور تیری طرف ہے، اے اللہ! میں نے جو بات کہی، میں نے جونذر مانی اور میں نے جو قسم اٹھائی، پس تیری مشیت اس کے سامنے ہے، جو تو چاہے گا، وہ ہو گا اور جو تو نہیں چاہے گا، وہ نہیں ہو گی، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر تیرے ساتھ، بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، اے اللہ! میں نے رحمت کی جو دعا کی ہے، وہ اس کے لیے ہے، جس پر تو نے رحمت بھیجی ہے اور میں نے لعنت کی جو بد دعا کی ہے ، وہ اس پر ہو، جس پر تو نے لعنت کی ہے، بیشک تو ہی میرا دوست ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، تو مجھے مسلمان فوت کرنا اور نیکوکار لوگوں کے ساتھ مجھے ملا دینا۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فیصلہ کے بعد رضامند ہونے کا، موت کے بعد راحت کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، لیکن اس میں نقصان پہنچانے والی کوئی تکلیف اور گمراہ کرنے والا کوئی فتنہ ہو۔ اے اللہ! میں اس چیز سے تیری پناہ میں آتا ہو کہ میں ظلم کروں، یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں زیادتی کروں، یا مجھ پر زیادتی کی جائے، یا میں اعمال کو ضائع کرنے والا گناہ کروں، یا میں نہ بخش دیے جانے والے گناہ کا ارتکاب کروں۔ اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! جلال و اکرام والے! بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ بناتا ہے، جبکہ تو ہی بطورِ گواہ کافی ہے، کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت تیرے لیے ہے، ساری تعریف تیرے واسطے ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے، اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، قیامت بلاشک و شبہ آنے والی ہے اور تو قبروں والوں کو اٹھانے والا ہے۔ اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہے کہ اگر تو نے مجھ کو میرے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو نے مجھے ضائع ہونے، عیب، گناہ اور خطا کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ مجھے کوئی بھروسہ نہیں ہے، سوائے تیری رحمت کے، پس میرے لیے میرے سارے گناہوں کو بخش دے، توہی گناہوں کو بخش دینے والا ہے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں درج ذیل دعا کا بیان ہے:
حدیث نمبر: 5668
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ إِلَيْكَ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبِي وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبِّكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نماز پڑھا رہا تھا کہ نماز کے بیچ میں ایک آدمی کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍٔ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِیْ، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّیْ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لیے ہے، سارا بادشاہت تیرے لے ہے، ساری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، ساری معاملہ تیری طرف لوٹایا جائے گا، وہ علانیہ ہو یا مخفی، تو اس لائق ہے کہ تیری تعریف کی جائے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میں جو گناہ کر چکا ہوں، تو ان سب کو بخش دے اور بقیہ عمر میں میری حفاظت فرما اور مجھے ایسا مبارک اور مقبول عمل کرنے کی توفیق دے کہ جس کے ذریعے تو مجھ سے راضی ہو جائے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعا اور آواز کے بارے میں فرمایا: یہ فرشتہ تھا، جو تجھے تیرے ربّ کی حمد بیان کرنے کی تعلیم دینے آیا تھا۔
حدیث نمبر: 5669
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَنَزَ النَّاسُ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ فَاكْنِزُوا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَأَسْأَلُكَ حُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرنا شروع کریں گے تو تم ان کلمات کو جمع کرنا شروع کر دینا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ، وَالْعَزِیمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا، وَأَسْأَلُکَ لِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی اور استقامت کا اور رشد و ہدایت پر مضبوطی سے قائم رہنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر ادا کرنے کا اور تیری عبادت کے حسن کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سالم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جو تو جانتا ہے اور ہر اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، اور تجھ سے ہر اس گناہ کی بخشش چاہتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، بیشک تو غیبوں کو جاننے والا ہے)۔
حدیث نمبر: 5670
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يُكَلِّمَهُ وَعَائِشَةُ تُصَلِّي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالْكَوَامِلِ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ سَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا قُولِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهُ رَشَدًا وَفِي لَفْظٍ وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ تَقْضِيهِ لِي خَيْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات کرنا چاہی، جبکہ سیدہ خود نماز پڑھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سے فرمایا: تو کوامل کا لازمی طور پر اہتمام کر۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی کوئی بات کی، جب وہ فارغ ہوئیں اور اس ارشاد کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کر: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ مَا سَأَلَکَ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وَأَسْتَعِیذُکَ مِمَّا اسْتَعَاذَکَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وَأَسْأَلُکَ مَا قَضَیْتَ لِی مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَہُ رَشَدًا۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَاَسْأَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ کُلَّ قَضَائٍ تَقْضِیْہٗ لِیْ خَیْرًا۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتا ہوں، وہ جلد آنے والی ہو یا بدیر، مجھے اس کا علم ہویا نہ ہو، اور میں تجھ سے ہر قسم کے شرّ سے پناہ مانگتا ہوں، وہ جلد آنے والا ہو یا دیر سے، مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو، میں تجھ سے جنت کا اور اس کے قریب کر دینے والے قول یا عمل کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے آگ سے اور اس کے قریب کر دینے والے قول اور عمل سے پناہ طلب کرتا ہوں، بلکہ میں تجھ سے ہر اس خیر کاسوال کرتا ہوں، جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اور میں ہر اس چیز سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ طلب کی، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بارے میں تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس کے انجام میں خیر بنا دے۔ ایک روایت کا آخری جملہ یوں ہے: میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بارے میں تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس میں خیر رکھ دے)۔
وضاحت:
فوائد: … کَوَامَل، اور ایک روایت میں ہے: عَلَیْکِ بِالْجَوَامِعِ الْکَوَامِلِ۔ اس سے مراد وہ دعائیں ہیں، جن کے الفاظ مختصر ہوں، لیکن وہ بہت زیادہ معانی پر مشتمل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنتی دعاؤں کی تعلیم دی ہے، وہ اپنے باب میںجامع و مانع ہیں۔
حدیث نمبر: 5671
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي قَالَ بَلَى قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم نہیں دیں گے، جس کے ذریعے میں اپنے لیے دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، تم یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی، وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا۔ (اے اللہ! نبی محمد کے ربّ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، میرے دل کا غصہ نکال دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا دے ، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے۔)
حدیث نمبر: 5672
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ حُصَيْنًا أَوْ حَصِينًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ كَانَ يُطْعِمُهُمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَقَالَ لَهُ مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي قَالَ فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُكَ فَقُلْتَ لِي قُلْ اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي فَمَا أَقُولُ الْآنَ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ حُصَین یا حَصِین نامی آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کی بہ نسبت تو عبد المطلب اپنی قوم کے لیے بہتر تھا، وہ ان کو جگر اور کوہان کھلاتا تھا اور آپ ان کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ اونٹ نحر کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہ جواب دیا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، پھر اس نے کہا: آپ مجھے کیا کہنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی (اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شرّ سے بچا اور سب سے ہدایت یافتہ معاملے پر میرے عزم کو مضبوط کر دے)۔ وہ بندہ چلا گیا، لیکن مسلمان ہو کر پھر آ گیا اور اس نے کہا: میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ نے مجھے اس دعا کی تعلیم دی تھی: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی۔ اب میں کیا کہا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَہِلْتُ۔ (اے اللہ! میرے لیے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے مخفی طور پر کیے اور جو علانیہ کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے اور جن کے بارے میں میں جانتا تھا اور جن کے بارے میں نہیں جانتا تھا)۔ ‘
حدیث نمبر: 5673
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي طَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ يَقُولُ كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا طارق بن اُشیم رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ جب کوئی آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہتا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو کیا کہا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے فرماتے یہ کہو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، رمجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے)۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا: یہ کلمات تیرے لیے دنیا و آخرت (کی بھلائی) کو جمع کر دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ دعا کل چار مطالبات پر مشتمل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو انگلیوں کے ذریعے گن کر بتایا۔
حدیث نمبر: 5674
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ يَقُولُ كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا اور وہ پوچھتا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو کیسے اور کیا کہا کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تو اس طرح کہا کر: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ! تو مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا: یہ کلمات تیرے لیے دنیا و آخرت (کی بھلائی) کو جمع کر دیں گے۔
حدیث نمبر: 5675
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ قَالَ سَأَلْتَ الْبَلَاءَ فَسَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ قَالَ وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ فَقَالَ ابْنَ آدَمَ هَلْ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ قَالَ فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ وَدُخُولُ الْجَنَّةِ وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ نماز میں تھا اور اپنی دعا میں یہ الفاظ بھی کہہ رہا تھا: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو آزمائش کا سوال کیا، تو اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے، وہ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے تیری نعمت کی تکمیل کا سوال کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم! کیا تو جانتا ہے کہ نعمت کی تکمیل ہے کیا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میںنے تو صرف خیر کی امید رکھتے ہوئے یہ دعا کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جہنم سے آزادی اور جنت کا داخلہ نعمت کی تکمیل ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اور آدمی کے پاس آئے اور وہ یہ الفاظ کہہ رہا تھا: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق تیری دعا قبول کی جا چکی ہے، بس تو سوال کر۔
حدیث نمبر: 5676
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي وَلَا يَسْأَلُ الْجَنَّةَ إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی تین بار جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس شخص کو مجھ سے پناہ دے دے، اسی طرح جب آدمی تین بار جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اس کو میرے اندر داخل کر دے۔
حدیث نمبر: 5677
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ إِلَّا قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ عَبْدِي قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَوْفُوهُ إِيَّاهُ فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ سُهَيْلٌ فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَ بِكَذَا وَكَذَا قَالَ مَا فِي أَهْلِنَا جَارِيَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَقُولُ هَذَا فِي خِدْرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ … … إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اگر تو نے مجھ کو میرے نفس کے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو مجھے شرّ کے قریب کر رہا ہے اور خیر سے دور کر رہا ہے اور میرا بھروسہ نہیں ہے، مگر تیری رحمت کے ساتھ، پس تو میرے لیے اپنے ہاں ایک وعدہ کر لے، جس کو تو قیامت کے دن پورا کرے گا، بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا )۔ جو آدمی یہ دعا پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے حق میں روزِ قیامت فرشتوں سے کہے گا: فلاں بندے نے مجھ سے وعدہ لیا تھا، تو اس کے لیے اس کا وعدہ پورا کر دو، پس اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ قاسم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود نے کہا: ہمارے اہل و عیال میں تو ہر بچی اپنے پردے کے اندر یہ ذکر کرتی ہے۔