کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
حدیث نمبر: 5653
حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ قَالَ نَعَمْ مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ بَشَرٍ إِلَّا أَنَّ قَلْبَهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَقَامَهُ وَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَزَاغَهُ فَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي قَالَ بَلَى قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا)۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا دل بھی الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں (کہ آپ کثرت سے یہ دعا کرتے ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بنو آدم میں سے ہر بشر کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو قائم رکھے گا اور چاہے تو ٹیڑھاکر دے گا، پس ہم اپنے رب سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرے اور ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر دے، بیشک وہ عطا کرنے والا ہے۔ میں (ام سلمہ) نے کہا: کیا آپ مجھے بھی کوئی دعا سکھلا دیں گے، تاکہ میں اس کے ساتھ اپنے نفس کے لیے دعا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا (اے اللہ! اے میرے ربّ! نبی محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ربّ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، میرے دل کے غصے کو دور کر دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا دے، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے)۔
حدیث نمبر: 5654
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا وَهُوَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِنْ شَاءَ أَنْ يُقِيمَهُ أَقَامَهُ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يُزِيغَهُ أَزَاغَهُ وَكَانَ يَقُولُ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يَخْفِضُهُ وَيَرْفَعُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دل ربّ العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو راہ راست پر رکھے اور اگر چاہے تو ٹیڑھا کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ)۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمن کے ہاتھ میں ترازو ہے، وہ اس کو پست کرتا ہے اور بلند کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عمل اور رزق کا ترازومراد ہے۔
حدیث نمبر: 5655
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَعَوَاتٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَا يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُكْثِرُ تَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ فَقَالَ إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِيِّ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا شَاءَ أَزَاغَهُ وَإِذَا شَاءَ أَقَامَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ آپ بھی یہ دعا کثرت سے کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو ٹیڑھا کر دے اور چاہے تو سیدھا رکھے۔
حدیث نمبر: 5656
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَهْلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ قَالَ إِنَّ الْقُلُوبَ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور گھر والوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، جبکہ ہم آپ کے ساتھ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 5657
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهَا كَيْفَ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بنو آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی مانند ہیں، وہ جیسے چاہے ان کو پھیر دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ (اے اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
حدیث نمبر: 5658
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا قَالَ يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى طَاعَتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی آسمان کی طرف سر اٹھایا تو یہ دعا کی: یَامُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ (اے دلوں کو پھیر دینے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
حدیث نمبر: 5659
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سُمِّيَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِهِ إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ كَمَثَلِ رِيشَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ تُقَلِّبُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (عربی میں دل کو) قَلْب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے، دل کی مثال درخت کے تنے کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی مانند ہے، جس کو ہوا سیدھا اور الٹا کرتی رہتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی نے سنن ابن ماجہ میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّیشَۃِ تُقَلِّبُہَا الرِّیَاحُ بِفَلَاۃٍ۔)) … دل کی مثال اس پر کی طرح ہے، جس کو ہوائیں کسی بیابان میں الٹ پلٹ کر رہی ہوں۔