کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 5629
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (اے اللہ!میرے لیے بخش دے ان گناہوں کو، جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو آگے کرنے والا ہے اور تو پیچھے کرنے والا ہے اور نہیں کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی)۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم تھے، لیکن صفائے قلب اور دل سے مختلف عارضوں اور پردوں کو زائل کرنے کے لیے استغفار کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضور دائمی ہو، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشری تقاضوں کی طرف توجہ کرتے، جیسے کھانا پینا وغیرہ، جس سے کمال حضور میں کمی آجاتی، استغفار کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صورت کا ازالہ کرتے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبدیت اور تواضع کے اظہار کے لیے، ربّ تعالیٰ کے کرم کا فقیر بننے کے لیے اور اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے استغفار کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5629
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البخاري في الادب المفرد : 673، والطبراني في الدعائ : 1796، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7900»
حدیث نمبر: 5630
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، پاکدامنی اور غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5630
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2721، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3692»
حدیث نمبر: 5631
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِیْ (اے اللہ! تو نے میری تخلیق کو اچھا بنایا ہے، پس تو میرے اخلاق کو بھی اچھا بنا دے)۔
وضاحت:
فوائد: … جس حدیث میں اس دعا کو آئینہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، اس کو ابن سنی نے روایت کیا ہے، لیکن وہ روایت ضعیف ہے۔ لہذا یہ دعا تو ثابت ہے، لیکن اس کا کسی موقع کے ساتھ خاص کرنا ثابت نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی تخلیق کے حسن کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5631
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطيالسي: 374، وبن حبان: 959 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3823»
حدیث نمبر: 5632
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ مِائَةَ مَرَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے اعداد و شمار کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک مجلس میں یہ دعا سو سو بار پڑھ لیتے تھے: رَبِّ اغْفِرْ لِی وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ (اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5632
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 1516، وابن ماجه: 3814، والترمذي: 3434، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4726»
حدیث نمبر: 5633
عَنْ أَبِي صِرْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَايَ وَغِنَى مَوْلَايَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اپنے (نفس کے) غِنٰی کا اور اپنے مولی کے غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … مَوْلٰی سے مراد یہ افراد ہو سکتے ہیں: باپ، بھائی، بھتیجا، چچا، چچا زاد، تمام عصبہ، ساتھی، پڑوسی، حلیف، مدد گار، محبت کرنے والا، پیروی کرنے والا، سسرال۔ جتنے افراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مراد لیے جا سکتے ہوں گے، وہ مراد لیے جائیں گے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لیے اور اپنے متعلقہ افراد کے لیے نفس کے غِنٰی کا سوال کر رہے ہیں، تاکہ حرص اور لالچ ختم ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5633
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة لؤلؤة، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 208، والطبراني في الكبير : 22/828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15756 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15848»
حدیث نمبر: 5634
عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْقَمُوصِ عَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبَادُ اللَّهِ الْمُنْتَخَبُونَ قَالَ عِبَادُ اللَّهِ الصَّالِحُونَ قَالُوا فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ قَالَ الَّذِينَ يَبْيَضُّ مِنْهُمْ مَوَاضِعُ الطُّهُورِ قَالُوا فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ قَالَ وَفْدٌ يَفِدُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَعَ نَبِيِّهِمْ إِلَى رَبِّهِمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو قموص زید سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُنْتَخَبِینَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِینَ (اے اللہ! ہمیں اپنے ان بندوں میں سے بنا، جو منتخب ہوں، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں اور وہ مقبول وفد میں سے ہوں)۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے منتخب بندے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نیک بندے۔ لوگوں نے کہا: وہ لوگ کون ہوں گے، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کے وضو والے اعضاء چمکتے ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: مقبول وفد سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا وہ وفد ہے، جو اپنے نبی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5634
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن عبد الله العمري لم نعرفه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15639»
حدیث نمبر: 5635
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَامْرَأَةٍ مِنْ قَيْسٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَخَطَأِي وَعَمْدِي وَقَالَ الْآخَرُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اسْتَهْدِكَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ اور بنو قیس کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا، ان میں سے ایک نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ وَخَطَئِیْ وَعَمْدِیْ (اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے گناہ، میں نے نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے )۔ دوسرے نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ أَسْتَہْدِیکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ (اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہدایت طلب کرتا ہوں، جو میرے معاملے میں سب سے زیادہ افضل ہو اور میں تجھ سے اپنے نفس کے شرّ سے پناہ طلب کرتا ہوں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5635
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن حبان: 901، والطبراني في الكبير : 8369 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16377»
حدیث نمبر: 5636
عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ أَنَّهَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالْأَبْطَحِ تُجَاهَ الْبَيْتِ قَبْلَ الْهِجْرَةِ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي خَطَأِي وَجَهْلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلیل بیان کرتے ہیں کہ بنو نمیر کی ایک بڑھیا خاتون سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غور سے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت سے پہلے وادیٔ ابطح میں بیت اللہ کے سامنے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ خَطَئِیْ وَجَھْلِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے نادانستہ طور پر اور جہالت کی وجہ سے کیے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5636
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16670»
حدیث نمبر: 5637
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات منبر پر کہے: اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور دولت مند کو (اس کی دولت) تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی، اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے۔ پھر کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کلمات سنے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس منبر پر ارشاد فرمائے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5637
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مالك في المؤطا : 2/900، والطبراني في الكبير : 19/782 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16964»
حدیث نمبر: 5638
عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَيْثَمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بسر بن ارطاۃ قریشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ (اے اللہ! ہمارے تمام امور میں ہمارے انجام کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ میں رکھنا۔)۔ ]
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5638
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ايوب بن ميسرة في عداد المجھولين، وبسر بن ارطاة مختلف في صحبته، أخرجه الطبراني في الكبير : 1196، وفي الاوسط : 1/281، وفي الدعائ : 1436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17778»
حدیث نمبر: 5639
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي وَخَطَأِي وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاکیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی خَطَایَایَ وَجَہْلِی وَإِسْرَافِی فِی أَمْرِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَدِّی وَہَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ ((اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے جہالت کی وجہ سے کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے اللہ! (تو میرے وہ گناہ بخش دے) جو میں نے سنجیدگی میں کیے، جو مذاق میں کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جہالت کی وجہ سے کیے اور یہ سارے گناہ مجھ میں ہیں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5639
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6398، ومسلم: 2719 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19976»
حدیث نمبر: 5640
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَهَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا۔ (اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے گناہ، ظلم، مذاق، سنجیدگی اور جان بوجھ کر کیے گئے گنا، اور یہ سارے ہمارے اندر ہیں )۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5640
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف ابن لھيعة، وحُيي بن عبد الله المعافري، أخرجه ابن حبان: 1027 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6617»
حدیث نمبر: 5641
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … … وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے، مساکین سے محبت کرنے اور مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں، جب تو کسی قسم میں فتنہ نازل کرنا چاہے تو مجھے وفات دے دے، اس حال میں کہ میں اس فتنے سے بچا ہوا ہوں، میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت کا اور تیری محبت کے قریب کر دینے والے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دعا کے کلمات حق ہیں ، اس کو سیکھو اور اس کی تعلیم حاصل کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5641
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22460»
حدیث نمبر: 5642
عَنِ ابْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ يَرْصُدُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي ذَاتِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي ثُمَّ رَصَدَهُ الثَّانِيَةَ فَكَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن قعقاع ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاک میں رہتا تھا، وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَوَسِّعْ لِی فِی ذَاتِیْ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا رَزَقْتَنِی۔ (اے اللہ! میرے لیے میرا گناہ بخش دے، میرے لیے میری ذات وسیع کر دے اور میرے لیے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عطا کیا ہے)۔ وہ دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاڑ میں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی دعا پڑھی۔
وضاحت:
فوائد: … ذات کی وسعت سے مراد اخلاق کی وسعت اور انشراح صدر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5642
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23502»
حدیث نمبر: 5643
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَائُ وْا اسْتَغْفَرُوا (اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکی کر کے خشک ہوتے ہیں اورجب ان سے برائی ہو جاتی ہے تو وہ استغفار کرتے ہیں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5643
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابن ماجه: 3820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26549»
حدیث نمبر: 5644
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حُدِّثْتُ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے سیدنااشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْتَغْفِرُکَ … کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ(اے اللہ! میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، ان گناہوں کی جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، بیشک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5644
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6398، ومسلم: 2719، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19718»
حدیث نمبر: 5645
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي لِلطَّرِيقِ الْأَقْوَمِ وَفِي لَفْظٍ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے ہمارے ربّ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے سب سے زیادہ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہے: اے میرے ربّ! بخش دے، رحم فرمااور سب سے سیدھے راستے کی طرف مجھے ہدایت دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5645
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ، ولانقطاعه، فان الحسن البصري لم يسمع من ام سلمة، أخرجه ابويعلي: 6893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27126»
حدیث نمبر: 5646
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّ وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: رَبِّ أَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، … … وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِیْ (اے میرے ربّ! میری مدد فرما، میرے خلاف مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر کر، میرے خلاف تدبیر نہ کر، مجھے ہدایت دے، میرے لیے ہدایت کو آسان کر دے، مجھ پر سرکشی کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما، اے میرے ربّ! مجھے بنا دے تیرا زیادہ شکر کرنے والا، تیرا زیادہ ذکر کرنے والا، تجھ سے زیادہ ڈرانے والا، تیری زیادہ اطاعت کرنے والا، تیری طرف عاجزی کرنے والا، تیرے لیے زیادہ آہ وزاری کرنے والا اور تیری طرف رجوع کرنے والا، اے میرے ربّ ! میری توبہ قبول فرما، میرا گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول کر، میری دلیل کو ثابت کر دینا، میری زبان کو درستگی پر رکھنا اور میرے دل سے کینہ اور حسد نکال دے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5646
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 1511، وابن ماجه: 3830، والترمذي: 3551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1997»
حدیث نمبر: 5647
عَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُونَ (اے اللہ! میں تیرے لیے مطیع ہوا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ذریعے جھگڑا کیا، تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں، جبکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تو وہ زندہ ہے کہ جس کو موت نہیں آئے گی، جبکہ جن ااور انسان مر جائیں گے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5647
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7383، ومسلم: 2717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2748»
حدیث نمبر: 5648
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَوَاتٌ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَتْرُكُهَا مَا عِشْتُ حَيًّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، چند دعائیہ کلمات ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنے، جب تک میں زندہ ہوں، ان کو نہیں چھوڑوں گا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ، وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ، وَأَتْبَعُ نَصِیحَتَکَ، وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ (اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ تیرا زیادہ شکریہ ادا کروں، کثرت سے تیرا ذکر کروں، تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیری وصیت کی حفاظت کروں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5648
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الفرج بن فضالة، أخرجه الطيالسي: 2553، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8087»
حدیث نمبر: 5649
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا حَسَنَ الْفَهْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یحییٰ بن حسان سے مروی ہے کہ بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: میں نے فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَا تُخْزِنِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (اے اللہ! روزِ قیامت مجھے رسوا نہ کرنا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5649
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 2524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18220»
حدیث نمبر: 5650
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا طَهَّرْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ ذُنُوبِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً وَمِيتَةً سَوِيَّةً وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ طَہِّرْنِی بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، … … اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ ہٰؤُلَائِ الْأَرْبَعِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِیْشَۃً تَقِیَّۃً وَمِیتَۃً سَوِیَّۃً وَمَرَدًّا غَیْرَ مُخْزٍ (اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ، اے اللہ! میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے، جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے، میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری فرما، جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری فرمائی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس دل سے جو ڈرتا نہیں، اس نفس سے جو سیر نہیں ہوتا، اس دعاء سے جو سنی نہیں جاتی، اس علم سے جو نفع نہیں دیتا، اے اللہ! میں تجھ سے ان چار چیزوں کی پناہ طلب کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ زندگی، معتدل موت اور آخرت کی طرف ایسے لوٹنے کا سوال کرتا ہوں، جو رسوا کن نہ ہو)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5650
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19622»