کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
حدیث نمبر: 5622
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مچھلی والے کی دعا، جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے، یہ ہے:{لَا اِلٰہَ … مِنَ الظَّالِمِینَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میںظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان بھی جس چیز میں اس دعا کے ذریعے اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … مچھلی والے سے مراد یونس علیہ السلام ہیں، جن کو مچھلی نگل گئی تھی، اس واقعہ کا مفصل ذکر کتاب احادیث الانبیاء میں آئے گا۔
حدیث نمبر: 5623
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ یہ کہہ رہا تھا: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے قبول کیا جا چکا ہے، پس سوال کر۔
حدیث نمبر: 5624
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ربیعہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِکے ساتھ چمٹ جاؤ۔
حدیث نمبر: 5625
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ صَامِتٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ يَا مَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو عیاش زید بن صامت زرقی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ نماز ادا کر رہے تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ! (اے اللہ! میں تجھ سے اس وجہ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے لیے تعریف ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، اے احسان کرنے والے! اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے!) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا کہ جب اس کے واسطے سے اس کو پکارا جائے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 5626
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلْقَةِ وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ جَلَسَ وَتَشَهَّدَ ثُمَّ دَعَا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ وَفِي رِوَايَةٍ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تھا، ساتھ ہی ایک آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا اور بیٹھ کر تشہد پڑھا تو پھر یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … إِنِّی أَسْأَلُکَ(اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس بنا پر سوال کرتا ہوں کہ ساری تعریف تیرے لیے ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تو بے حد مہربان ہے، اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے! اے زندہ! اے قائم رکھنے والے! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہے کہ اس آدمی نے کیا دعا کی ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ تعالیٰ سے اس کے ایسے اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کو اس کے واسطے سے پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 5627
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَالَ قَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کلمات ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی … … وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (اے اللہ! میں تجھ کو یہ واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک تو وہ اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو یکتا و یگانہ اور بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسم اعظم کے واسطے سے پکارا ہے کہ جب اس سے اس کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے اور جب اس کو پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 5628
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَالم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ إِنَّ فِيهِمَا اسْمَ اللَّهِ الْأَعْظَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} ان دوآیتوں میں اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم کا ذکر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اصحاب ِ سنن کی روایت میں {الٓمٓ۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}کے ساتھ اس آیت کا ذکر ہے: {وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ لاَ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ}