حدیث نمبر: 5616
عَنْ أَبِي نَعَامَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ مِنَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا وَفِي لَفْظٍ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفِرْدَوْسَ وَكنَا عَنْ يَمِينِي فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطُّهُورِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت میں سفید محل کا سوال کرتا ہوں، جب میں اس میں داخل ہوں تو وہ میری دائیں جانب ہو، ایک روایت میں ہے: میں تجھ سے فردوس کا اور ایسی ایسی چیز کا سوال کرتا ہوں، تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کر اور آگ سے پناہ مانگ، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے، جو دعا اور طہارت کے معاملے میں زیادتی کریں گے۔
حدیث نمبر: 5617
عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَدْعُو وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَإِسْتَبْرَقَهَا وَنَحْوًا مِنْ هَذَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ خَيْرًا كَثِيرًا وَتَعَوَّذْتَ بِاللَّهِ مِنْ شَرٍّ كَثِيرٍ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَإِنَّ حَسْبَكَ أَنْ تَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا، اس کی نعمتوں کا، اس کے موٹے ریشم کا اور اس کی فلاں فلاں چیز کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں، آگ سے، اس کی زنجیروں سے اور اس کے طوقوں سے، انھوں نے اس سے کہا: تو نے اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ خیر کا سوال کیا ہے اور بہت زیادہ شرّ سے پناہ مانگی ہے جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: عنقریب ایسے لوگ آئیںگے، جو دعا میں زیادتی کریں گے۔ پھر انھوں نے اس آیت کی تلاوت کی: {اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ} اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (الاعراف: ۵۵) اور اپنے بیٹے سے کہا: تجھے یہ چیز کافی ہے کہ تو کہے: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور اس قول اور عمل کا، جو مجھے اس کے قریب کر دے اور میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس قول یا عمل سے بھی، جو جہنم کے قریب کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … دعا میں زیادتی کی ایک مثال تو ان احادیث میں بیان کر دی گئی ہے، مزید مثالیں یہ ہیں: ناجائز چیز